مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمر نے ایک مرتبہ ایک تھیلی میں چار سو دینار (اشرفیاں ) بھریں اور غلام سے فرمایا کہ یہ ابو عبید ہ کو دے آئو کہ اپنی ضرورت کے لیے خر چ کر لیں اور غلام سے یہ بھی فرمادیا کہ ان کو دینے کے بعد وہیں کسی کام میں مشغول ہو جانا ، تاکہ دیکھوکہ وہ ان کا کیا کرتے ہیں ۔ وہ غلام گئے اور دینا ر ان کی خدمت میں پیش کر دیئے ۔ حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر کو بڑی دعائیں دیں اوراپنی باندی کو بلا یا اور اس کے ہاتھ سے سات فلاں کو اور پانچ فلاں کو اتنے اس کو اتنے اس کو ، اسی مجلس میں سب ختم کر دیئے ۔ غلام نے واپس آکر حضرت عمر کو قصہ سنایا ۔ پھر حضرت عمر نے اتنی ہی مقدار ان کے ہاتھ حضرت معاذ کو بھیجی اور اس وقت بھی یہی کہا کہ وہاں کسی کام سے لگ جانا ، تاکہ یہ دیکھوکہ وہ کیا کرتے ہیں ۔ انہوں نے بھی باندی کے ہاتھ اسی وقت فلاں گھراتنے ، فلاں گھر اتنے بھیجنے شروع کر دیئے ۔ اتنے میں حضرت معاذ کی بیوی آئیں کہ ہم بھی تو مسکین اور ضرورت مند ہیں ، کچھ ہمیں بھی دے دیں ۔ حضرت معاذ نے وہ تھیلی ان کو دے دی ۔ اور اس میں صرف دو باقی رہ گئی تھیں ، باقی سب تقسیم ہو چکی تھیں ۔ غلام نے آکر حضرت عمر کو قصہ سنایا ۔ حضرت عمر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ سب بھائی بھائی ہیں ۔ یعنی سب ایک ہی جیسے ہیں ۔(ترغیب )حضر ت طلحہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس مال آیا ۔ آپ نے اسے مسلمانوں میں تقسیم کیا ، لیکن اس میں سے کچھ مال بچ گیا ۔ آپ نے اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا ۔ لوگوں نے کہا اگر آپ اسے آئندہ پیش آنے والی ضرورت کے لئے رکھ لیں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ حضرت علی نے کچھ نہ کہا ۔ حضرت عمر نے کہا اے ابو الحسن ! کیا ہوا آپ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ رہے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا ، لوگوں نے اپنی رائے بتا تو دی ہے ۔ حضرت عمر نے کہا آپ کو بھی اپنا مشورہ دینا ہوگا ۔ حضر ت علی نے کہا ، اللہ تعالیٰ (قرآن مجید میں خرچ کرنے کی جگہیں بتا کر ) اس مال کی تقسیم (بتانے ) سے فارغ ہو چکے ہیں (آپ کویہ بچا ہوا مال بھی خرچ کرنا چاہیئے ) پھر حضرت علی نے یہ قصہ بیان کیا کہ حضور ۖ کے پا س بحرین سے مال آیا تھا ۔ ( آپ ۖ نے اسے تقسیم کرنا شروع کیا ، لیکن ) ابھی آپ اس کی تقسیم سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ رات آگئی تو آ پ نے وہ رات مسجد میں گزاری اور ساری رات نمازیں بھی مسجد میں پڑھا ھی ۔ میں نے دیکھا کہ جب تک آپ نے یہ سارا مال تقسیم نہیں کیا ، آپ کے چہرے پر پریشانی اور فکر کے آثار رہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا ، اب تو یہ بقیہ مال آپ کو تقسیم کرنا ہوگا ۔ چنانچہ حضرت علی نے اسے تقسیم کیا ۔ حضر ت طلحہ فرماتے ہیں مجھے اس میں سے آٹھ سو درہم ملے ۔ صحابہ کی حیات مبارکہ کی سخاوت کے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ یہ ان میں سے چند مثالیں ہیں ۔ صحابہ کرام اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں ذرا بھی دریغ نہ کرتے ۔
( اخراجہ البزار)

متعلقہ خبریں