فوجی عدالتوں میں توسیع پر اتفاق رائے

فوجی عدالتوں میں توسیع پر اتفاق رائے

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں پیپلز پارٹی کے بائیکاٹ اور اے این پی و ایم کیو ایم کے تحفظات کے باوجود فوجی عدالتوں سے متعلق اکیسویں ترمیم پر اتفاق غیر متوقع نہ تھا ۔اگرچہ پی پی پی ردوکد کامظاہرہ کر رہی ہے مگر بالآخر اس پر اتفاق رائے پر آمادہ ہونے کی روایت کا اعادہ ہی متوقع ہے۔ پی پی پی اور بعض دیگر سیاسی جماعتیں ایسے مواقع پر کنی کترانے کا تاثر تو دیتی ہیں مگر بالآخر میں نہ مانوں کی پالیسی ترک کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کے اصرار پر مذہب اور فرقے کے الفاظ نئے مسودے میں شامل کرنے کے بعد اس کے تحفظات باقی نہ رہے۔ فوجی عدالتوں کے لئے نگران پارلیمانی کمیٹی کا قیام اور کمیٹی کا ہر دو ماہ بعد اس کا جائزہ لینے کا اقدام احسن ضرورہے لیکن فی الوقت یہ تکلف ہی گوارا کیا گیا ہے اس پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہونے کا امکان کم ہی نظر آتاہے۔ لیکن بہر حال اگر اس ضمن میں کمیٹی نے فعالیت کے ساتھ جائزاتی کردار نبھایاتو یہ نہایت احسن ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان ٹرائل عدالتوں میں بلوچستان اور کراچی میں تخریب کاری اور قتل کی وارداتوں میں ملوث افراد بشمول مذہب اور فرقہ واریت کے الفاظ کے اضافے سے ان عدالتوں کے دائرہ کار میں وسعت ہوگی۔ تاہم نوعیت کے مقدمات کے فوجی عدالتوں میں چلنے سے محولہ قسم کے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور جلد سزا ملنے کا امکان روشن ہوگا۔ دہشت گردی کی تقسیم اور اس میں مذہب کے نام کی آمیزش کی بجائے اگر ہر قسم کی دہشت گردی کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس وسیع المعانی لفظ میں سب کچھ شامل ہو گا خواہ وہ مذہبی صورت میں ہو ' فرقہ وارانہ صورت میں ہو یا کسی دیگر نوعیت کی دہشت گردی ہو۔ ہمارے تئیں دہشت گردی دہشت گردی ہوتی ہے خواہ جس صورت میں بھی ہو۔ دوسری جانب یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت عروج پر ہے جس کے تناظر میں قانون سازی میں بطور خاص مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے الفاظ کو شامل کرنے کی دلالت بلا وجہ نہیں ۔ آخر ہم دہشت گردی کی تعریف اپنے اپنے نقطہ نظر سے اور اپنی عینک لگا کر کیوں کرتے ہیں۔ اس کی ایک جامع اور واضح تعریف کیوں نہیں کرتے جس میں ہر قسم کی د ہشت گردی کو دہشت گردی کہا جائے اور اس میں ملوث عناصر کو سزا دینے میں کسی ردوکد کا مظاہرہ نہ ہو۔ یہ بات ضرور قابل اطمینا ن تھی کہ سیاسی اور فوجی قیادت نے پاکستان کو تباہی سے بچانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا جس کے نتیجے میں فوجی عدالتیں قائم ہوئیں۔ نیشنل ایکشن پلان میں اس امر کا اعتراف شامل تھا کہ ہمارا موجودہ قانونی ڈھانچہ اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ اس کی موجودگی میں انسانوں کو قتل کرنے والوں کو سزا دینا بھی نا ممکن ہوگیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کے دورانیے میں ضروری قانون سازی کی جاتی قانون' شہادت اور دہشت گردوں کے خلاف تحقیقات اور شواہد پیش کرنے والے عمال ' وکلاء اور ججوں کے تحفظ کے حوالے سے غیر معمولی قوانین اور طریقہ کار کی منظوری دی جاتی اور جب فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت گزر جاتی تو اس میں توسیع کی ضرورت ہی نہ رہتی کیونکہ ایک متوازی قانون اور طریقہ کار پہلے ہی خصوصی ضروریات سے ہم آہنگ عدالتی نظام موجود ہوتا جہاں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلا کر ان کو عبرتناک سزا دینا ممکن ہو چکا ہوتا مگر یہاں نہ تو فوجی عدالتوں پر تحفظات رکھنے والوں اور نہ ہی حکومت نے ایسی قانون سازی کی ضرورت محسوس کی بلکہ وقت گزرتا رہااور آج جب فوجی عدالتوں میں توسیع کی ضرورت پیش آئی تو عقدہ کھلا کہ ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کے بغیر ہمارے پاس کوئی چارہ کار نہیں۔ہمارے تئیں ہر دو قسم کے انتہا پسندانہ اختلاف رائے سے گریز کرتے ہوئے قومی ضرورت کے احساس اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے آمادگی اختیار کرنے اور ایک متفقہ دستاویز و مسودہ کو اتفاق رائے سے منظور کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی ضرورت کے تحت انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین جتنی مدت میں بن سکتے ہیں اور ایک متبادل اور موثر نظام جتنی مدت میں قائم کرنا ممکن ہوا اتنی مدت کے لئے فوجی عدالتوں میں توسیع ہونی چاہئے۔بہر حال دو سال کے لئے توسیع پر اتفاق رائے کے بعد آئندہ کے لئے اس کی ضرورت باقی نہ رہنے دینے کا ابھی سے بندوبست کیاجائے۔ پارلیمنٹ میں مسودے پر بحث کے دوران اس امر کا بھی جائزہ لیا جائے اور سیاسی جماعتیں اس کو بھی زیر بحث لائیں کہ دو سال بعد وہ ایک مرتبہ پھر مزید توسیع پر مجبور ہونے کی بجائے متبادل عدالتی نظام وضع کرکے اور قانون سازی کی ضرورتیں پوری کرکے فوجی عدالتوں سے مقدمات کی منتقلی اور فوجی عدالتوں میں مزید توسیع کا جواز ہی باقی نہ چھوڑیں۔

متعلقہ خبریں