سرکاری گاڑیوں کا ناجائز استعمال

سرکاری گاڑیوں کا ناجائز استعمال

سرکاری گاڑیوں کا سکول کے بچوں کو لانے لیجانے کا کام تو پھر بھی استعمال کے ضمن میں آتا ہے یہاںتو پولیس موبائلز سے مارکیٹ مارکیٹ پھر کردودھ، روٹی ، سالن اورپھیری والوں سے فروٹ اکٹھا کرنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو صرف پولیس گاڑیاں ہی نہیں ہر طرح کی سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال معمول ہے۔ پولیس موبائلز سے چونکہ با قاعدہ طور پر پولیس کی شناخت ہوتی ہے اس لئے ا ن کا دیگر کاموں کیلئے استعمال خاص طور پر نا پسند یدگی کے زمرے میں آتا ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام سرکاری گاڑیوں میں ٹریکر لگا کر ان کی باقاعدہ مانیٹرنگ کا بندوبست کرے علاوہ ازیں غیر مجا ز افراد کو گاڑیاں استعمال کرنے سے روکا جائے۔ مجا ز سرکاری افسران کو صرف ڈیوٹی کے اوقات میں گاڑیاں دی جائیں بعد ازدفتر ی اوقات گاڑیاں سرکاری پول میں کھڑی کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔اس طرح سرکاری خزانے کو مفت کامال سمجھ کر اڑانے کا سدباب ہو سکے گا ۔
فحاشی کے اڈوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت
ہمیں قانونی پیچید گیوں کا زیادہ علم نہیں لیکن کبھی کبھارپولیس کی کارروائیوں سے اس امر کا اندازاہ ہوتا ہے کہ پولیس بالکل بے بس بھی نہیں بلکہ پولیس اگرچاہے توفحاشی کے اڈوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے ۔ امر واقع یہ ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میںفحاشی کا دھند ہ جاری ہے علاقے کے لوگ صرف اسی بنا ء پر ان عناصر کی نشاندہی نہیں کر سکتے کہ انہیں پولیس کی جانب سے تعاون کایقین نہیں ہوتا۔ اگر پولیس لوگوں کو یہ اعتماد دے سکے تو انہیں با آسانی لوگ پر موقع اطلاع دے سکتے ہیں۔ جہاں کارروائی کر کے فحاشی کے مرتکب کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ علاقہ پولیس کی مرضی شامل حال نہ ہو تو کسی کو جرات نہ ہو کہ وہ فحاشی کو بطور کاروبار اختیار کر سکے یا کرایہ پر سہولت کاری کر سکے ۔ اسی طرح کے واقعات جہاں فحاشی کے زمرے میں آتے ہیں وہاں اس سے معاشرے کا نوجوان طبقہ بڑی بے راہ روی کا شکار ہوتا ہے جن جن گلی محلوں میں قحبہ خانے ہوں وہاں کے مکینوں کا خود کو کبھی ذلت میں گھر ا محسوس کرنا فطری امر ہے ۔ اس طرح کے مراکز جرائم پیشہ افراد اور نشے کے عادی افراد کی پسند یدہ جگہیں ہوتی ہیں جس کے باعث شہریوں کی مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں ۔ آئی جی خیبر پختونخوا کو تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو فحاشی کے مراکز کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی ہدایت کرنی چاہئے ۔یوں اس قبیح عمل کی روک تھام ممکن ہوگی ۔ اور نوجوان نسل کو بے راہروی کا شکار ہونے سے بچا سکیں گے ۔
گرانفروشوں کو لگام دیا جائے
اچھی حکمرانی احتساب اور انصاف کے نعروں کی حقیقت اگر اشیائے صرف کی خریداری کے وقت ثابت نہ ہو اور بار بار کی شکایات میڈیا کی جانب سے نشاندہی اور صورتحال سے از خود آگاہی کے باوجود جب انتظامیہ کی بے حسی کا یہ عالم ہو اور ان پر گرفت بھی نہ کی جائے تو اسے ملی بھگت اور صرف نظر اختیار کرنے کا جو بھی نام دیا جائے حالات و واقعات کے تناظر میں غلط نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کا اولین مطالبہ اور ضرورت صرف اور صرف مہنگائی پر قابو پانا ہے جس میں حکومت کی ناکامی کسی سے پوشیدہ امر نہیں ۔گرانفروشی کی روک تھام جونیئر سطح کے افسران اور عملے کا کام ہے لیکن ان کی کارکردگی کہیں دکھائی نہیں دیتی کبھی کبھار ایک آدھ چھاپوں کی اتنی تشہیر اور اس کا پروپیگنڈہ اس منصوبہ بندی سے کیا جاتا ہے کہ حکومت کو تاثر جائے کہ مہنگائی کے جن کو زنجیروں میں بری طرح جکڑ دیا گیا ہے اور منافع خور پس زندان ڈال دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقتاً ایسا کچھ نہیں بلکہ منافع خور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔مارکیٹوں پر چھاپے مارنے کا جو بھونڈا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اس کا بالواسطہ مقصد ہی دکانداروں سے کم سے کم تعرض کرتے ہوئے خانہ پری کی ضرورت پوری کرنا ہوتا ہے ۔ حکام لائو لشکر سمیت اچانک آکر منافع خوروں کو خبردار کرنے کی بجائے خریداری کے لئے آئی ہوئی کسی خاتون گاہک یا بچے کے ساتھ کھڑے ہو کر لوٹ مار کا منظر دیکھیں تو کوئی ایک دکا ندار بھی ایسا نہیں بچے گا جو سلاخوں کے پیچھے دھکیلے جانے کا مستحق نہ ہو مگر کرے کون؟ شہری تو حکام کو دہائی دے دے کر عاجز آگئے مگر پوچھنے والا کوئی نہیں۔توقع کی جانی چاہیے کہ صوبائی حکومت انتظامیہ کو ناجائز منافع خوروں کے خلاف خصوصی مہم شروع کرنے کی ہدایت کرے گی اور عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو سلاخوں کے پار دھکیل دیا جائے گا ۔

متعلقہ خبریں