فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع''سیاسی اتفاق''

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع''سیاسی اتفاق''

فوجی عدالتوں نے ایک آئینی ترمیم کے تحت دو سال مقدمات سنے اور ان کے فیصلے کیے۔ آئین میں دی گئی یہ مدت 7جنوری کو ختم ہو گئی اور اس کے بعد چند دن کے لیے خاموشی چھا گئی ۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ حکمران مسلم لیگ کے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی ایسی ہی بات کی البتہ یہ بھی کہا کہ یوں بھی ان کی کارکردگی کچھ اتنی اچھی نہ تھی ۔ لیکن یہ آخری جملہ اس کے بعد نشر ہونے والی خبروں میں حذف کر دیا گیا۔ تاہم وفاق اور پنجاب کی مسلم لیگ کی حکومتیں اس بات پر متفق نظر آئیں کہ دو سال کے بعد ان فوجی عدالتوں کی ضرورت نہیں ۔ یعنی جس سنگین صورت حال کی وجہ سے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا اب وہ صورت حال باقی نہیں رہی تھی۔ فوجی عدالتوں کا قیام ایک مجرد اقدام نہیں تھا بلکہ اس اقدام کے ساتھ یہ توقع بھی تھی کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد ہو گا۔ لیکن اس پلان کے تحت فوج کے ذمے جو کام تھے وہ تو مکمل ہوئے جو کام سویلین حکومت نے کرنے تھے ان پر کماحقہ عمل درآمد نہ ہو سکا۔ جب فوج کی طرف سے اس کم کوشی کی نشان دہی کی گئی تو ایک واویلا مچ گیا اور کہا گیا کہ اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہنا چاہیے۔ یہ دائرہ کار وہ تمام امور تھے جن کا احاطہ نیشنل ایکشن پلان میں کیا گیا تھا یا مختلف اداروں کا الگ الگ دائرہ کار یہ بات قابلِ غور ہے۔ دو سال پہلے فوجی عدالتوں کا قیام اس وقت عمل میں آیا تھا جب دہشت گردی کے خلاف فوج کا آپریشن ضرب عضب جاری تھا اور سانحہ اے پی ایس برپا ہو چکا تھا۔ اب فوجی عدالتوں کے احیاء کی طرف حکومت کی طرف سے پیش رفت اس وقت ہوئی جب لاہور سمیت چاروں صوبوں میں پے در پے دہشت گردی کے بہیمانہ واقعات رونما ہوئے ۔ اس سے یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ آیا ہماری حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے موثر اقدامات کرنے کے لیے دہشت گردی کے بیہمانہ واقعات کی منتظر رہتی ہے یا دہشت گردی کو جو ملک میں ایک عشرے سے زیادہ عرصہ سے جاری ہے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جو دیر طلب کام ہے کوئی موثر حکمت عملی اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔ ایک موثر حکمت عملی نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں حکومت کے پاس موجود تھی اور ہے۔آ کار جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آٹھ بار مذاکرات کے بعد اب یہ خبر آئی ہے کہ فوجی عدالتوں کی کارکردگی کی مدت میںمزید دو سال توسیع کر دی جائے جو موثر بہ ماضی ہوگی۔ یعنی اب سابقہ آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کی مدت جو 7جنوری کو ختم ہو گئی تھی اب اس تاریخ کی شرط ختم ہو جائے گی اور یہ سمجھا جائے گا کہ فوجی عدالتیں جو 2015ء میں دو سال کے لیے قائم کی گئی تھیں وہ مجوزہ آئینی ترمیم کے بعد چار سال تک قائم تصور کی جائیں گی۔ لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو اس سارے عمل کی حکومت کی طرف سے ترجمانی کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ مجوزہ آئینی ترمیم سابقہ آئینی ترمیم سے کچھ مختلف ہے ۔ نئی آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد فوجی عدالتوں میں پیش کیے جانے والے مقدمات کی نوعیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سابقہ ترمیم میں ان مقدمات کی نوعیت مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر دہشت گردی تھی جس کی منظوری جمعیت علمائے اسلام نے بھی دی تھی۔ نئی ترمیم کے لیے جمعیت کے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے الفاظ حذف کر دیے جائیں۔ لیکن تحریک انصاف نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ریاست کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں پیش کیے جائیں۔ پارلیمانی لیڈروں کے آٹھویں اجلاس میں آخر کار دونوں کی بات مان لی گئی۔ تو کیا اب وفاقی وزارت داخلہ ایسے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کو ارسال کرے گی جو ریاست کے خلاف دہشت گردی کے ضمن میں آتے ہیں اور گزشتہ د و سال کی مدت میں پیش نہیں کیے گئے تاہم اس ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے کام میں اضافہ ہو جائے گا۔ فوجی عدالتوں کو مقدمات وفاقی وزارت داخلہ ارسال کرتی ہے۔ گزشتہ دو سال کی مدت میں اڑھائی سو کے قریب مقدمات ارسال کیے گئے جن میں سے ڈیڑھ سو کے قریب ملزموں کو موت کی سزا سنائی گئی لیکن ان میں سے بیس سے کم مجرموںکی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ سزا پر عمل درآمد سول حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان سزاؤں پر عمل درآمد کی راہ میں کون سی قانونی رکاوٹیں حائل تھیں، یہ وفاقی حکومت ہی جانتی ہے۔ پارلیمانی جماعتوں کے آٹھ اجلاسوں کے بعد مجوزہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کا مسودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے کہنے کے مطابق بعض ترمیم کے بعد منظور کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس آٹھویں اجلاس میں پیپلز پارٹی شامل نہیں تھی جس کے اپنے تحفظات ہیں اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہے اورآئینی ترمیم کے لیے ایوان کی دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے۔ پیپلز پارٹی کا یہ موقف بیان کیا جاتا ہے کہ اس ہنگامی صورت حال میں بھی ملک کے عمومی قوانین اور نظام عدل پر انحصار کیا جانا چاہیے۔ یہاں پھر دائرہ اختیار کا معاملہ ہے۔ کراچی میں دہشت گردی، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ کے انسداد کے لیے جب رینجرز کو اختیارات دیے گئے تو پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے ان کی منظوری دی۔ لیکن جب رینجرز نے کرپشن کے ان منابع ہر ہاتھ ڈالنا شروع کیا جہاں سے ان جرائم کے کارندوں کو سرپرستی حاصل ہوتی تھی تو شور مچ گیا۔ اس احتجاج سے ایک پہلو یہ بھی سامنے آتا ہے کہ معمولی کارندوں کا ٹارگٹ کلرز' دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کا صفایا ہو جانا ان کے سرپرستوں کے بھی حق میں بہترتھا کہ ان کی طرف جانے والا سراغ اور شہادتیں تلف ہو جاتی تھیں۔ رہی بات معمول کے نظام عدل پر انحصار کی تو اگر معمول کا نظام عدل صحیح کام کر رہا ہوتا تو خصوصی عدالتوں اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت اقدامات تجویز کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی۔ معمول کے نظام عدل کو اس لائق ہونا چاہیے کہ وہ ملک میں امن وامان قائم رکھ سکے۔

متعلقہ خبریں