پاگل پن کا شکار کون؟

پاگل پن کا شکار کون؟

آپ نے اس شخص کے بارے میں تو ضرور سنا ہوگا جس کو اس کے دوستوں نے خاموشی کی ہدایت کی تھی' حالانکہ اس کی شخصیت خاصی جاذب نظر اور رعب دار تھی۔ اگرچہ ماہرین نفسیات اور عام لوگوں کے درمیان اس لفظ شخصیت یا پرسنیلٹی کے حوالے سے بھی اختلافات نہایت واضح ہیں یعنی عام لوگ بندے کی ظاہری شکل و صورت اور کپڑے وغیرہ پہننے کے قرینے سے اس کی شخصیت کو متاثر کن قرار دیتے ہیں جبکہ ماہرین نفسیات اس کے عقل و خرد کے پیمانے سے اس کی شخصیت کا تعین کرتے ہیں۔ خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے اور ان پر مزید بحث سے ہم اپنے موضوع سے بھٹکنے کا شکار ہو سکتے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ واپس موضوع سے ہی بندھے رہیں۔ ہاں تو عوامی نکتہ نظر سے جس شخص کی ظاہری شکل و صورت پر مبنی متاثر کن شخصیت سے محفل میں لوگ پہلی ہی نظر میں مرعوب ہو جایا کرتے اسے دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ ویسے تو ماشاء اللہ تمہاری پرسنیلٹی سے لوگ بہت متاثر ہوتے ہیں لیکن یہ صورتحال تب تک برقرار رہتی ہے جب تک کہ تم محفل میں زبان نہیں کھولتے ۔ کیونکہ تم جو بات بھی کرتے ہو وہ نہ صرف عقل سے بعید ہوتی ہے بلکہ انتہائی احمقانہ بھی۔ اس لئے خدا کے لئے اپنی شخصیت کا بھرم رکھنے کے لئے تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ محفل میں خاموشی اختیار کرو ۔ یعنی بقول مرزا غالب

بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا
اگر اس طرہ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر بھی اوپر دی گئی مثال کا اطلاق یقینا کیا جاسکتا ہے کیونکہ ویسے بھی ان کے سیاسی مخالفین ان کے بیانات پر عموماً معترض رہتے ہیں کہ کپتان بغیر سوچے سمجھے بولتے ہیں اور بے تکان بولتے رہتے ہیں اور پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات انہیں یوٹرن لینے کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔مثلاً 35پنکچر والے بیان کو انہوں نے سیاسی بیان کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی عادتوں سے خود ان کی پارٹی کے کئی دیگر رہنماء بھی بہت متاثر ہو کر مختلف چینلز پر جس طرح بلا سوچے سمجھے بولتے رہتے ہیں اس سے ان کی شخصیت کی پرتیں بھی کھلتی رہتی ہیں۔ ہاں تو بات کپتان کی ہو رہی تھی جو بقول مخالفین کے بلا سوچے سمجھے اور بغیر تولے ہی بول کر اپنی قامت کی درازی کا ''بھرم''کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ اس کا تازہ ثبوت موصوف کا گزشتہ روز وہ بیان ہے جوپی ایس ایل کے فائنل میچ کے حوالے سے جو لاہور میں کھلانے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے اور صرف چار روز پہلے پاکستان سپر لیگ کے فائنل لاہور میں انعقاد کے حوالے سے انہوں نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اچھا ہوتا جو پورے ٹورنامنٹ ہی کا لاہور میں ہی بندوبست کیاجاتا مگر جب پی سی بی کی جانب سے حکومت پنجاب یہاں تک کہ آرمی چیف کی جانب سے بھی اس میچ کو تحفظ دینے کا اعلان سامنے آنے کے بعد فائنل میچ کو دوبئی سے لاہور منتقل کرنے کا اعلان ہوا تو کپتان نے حسب عادت ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے اس پر اعتراض جڑ دیا اور کہا کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کرنا پاگل پن ہے۔
موصوف کے اس بیان پر اگرچہ ملک بھر میں سخت رد عمل کااظہار کیاجا رہا ہے اور خصوصاً وفاقی اور صوبہ پنجاب کے بعض وزراء نے کپتان کے حوالے سے بھی سخت رویہ اختیار کرلیا ہے اس لئے یہ بات بہ آسانی کہی جاسکتی ہے کہ اگر کپتان اس قسم کے بیان داغنے کی بجائے خاموشی اختیار کرتے تو ان کی شخصیت کا ''رعب'' برقرار رہتا اور یہ جو انہوں نے مزید فرمایا ہے کہ اگر اس موقع پر کچھ ہوگیا تو اگلے دس سال تک پاکستان میں کرکٹ واپس نہیں آسکے گی۔ ایسے مواقع کے لئے بھی سیانوں نے کہہ رکھا ہے کہ جدوں منہ ونگا ہو وے تابندہ گہل( بات) تا چنگی کرداوے۔یعنی بلا وجہ خدشات ظاہر کرنے کے اگر موصوف یہ کہہ دیتے کہ قوم کی دعائیں ساتھ ہیں اور انشاء اللہ یہ کوشش ضرور کامیاب ہوگی تو موصوف کا کیا بگڑ جاتا۔ مگر نہیں' ایسے موقع پر بھی جب پوری قوم اس فیصلے پر خوشیاں منا رہی تھی منفی انداز فکر سے صورتحال پر سوالیہ نشان ثبت کرنے سے کپتان کیا اور کس قسم کی سیاسی سکورنگ کرنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر جب ان کے سیاسی دست راست شیخ رشید احمد نے بھی نہ صرف اس فیصلے کا خیر مقدم کیاہے بلکہ انہوں نے لاہور جا کر میچ دیکھنے کی خواہش اور ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔کئی سینئر اور سابقہ کھلاڑیوں نے بھی کپتان کے اس رویے پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے پی ایس ایل کے فائنل کے لاہور میں انعقاد کو سراہاہے اور امید ظاہر کی ہے کہ انشاء اللہ اس سے پاکستان میں کرکٹ کی بحالی میں بہت مدد ملے گی۔ نجم سیٹھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کئی غیر ملکی کھلاڑیوں کے لاہور آنے کی نوید دی ہے جبکہ پی سی بی کے چیئر مین شہر یار خان نے غیر ملکی کرکٹ بورڈز کے بھی اس موقع پر پاکستان آمد کی بات کی ہے جبکہ کردستان کی حسینہ شینے عزیز آکو نے بھی ایک ٹی وی بیان میں کہا ہے کہ وہ فائنل دیکھنے لاہور آرہی ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنی نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پی ایس ایل کا لاہور میں انعقاد وطن دشمن قوتوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ جو بقول سیدنا عثمان مروندی (لال شہباز قلندر) خون بہانے کا تماشہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا
تو آں قاتل کہ از بہر تماشا خون من ریزی
من آںبسمل کہ زیر خنجر خونخوار می رقصم

متعلقہ خبریں