رازئے چی کلے وکڑو

رازئے چی کلے وکڑو

ہمارے پختون کلچر میں کلے کرنا' باہم اخوت' یگانگت اور ہنسی خوشی ایک ساتھ زندگی بسر کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ یہ پختونوں کی صلح کل اور عالی ظرفی کی دلیل ہے۔ اس روایتی قدر کے تحت اگر وہ کسی سے کچھ اختلاف بھی رکھتے ہوں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ متنازعہ مسائل پر باہمی گفت و شنید اور جرگہ مرکہ کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکال کر یگانگت کی فضاء قائم رکھیں۔ ان کو اگر پھر بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی جائے تو پھر وہ ایک ایسے محاورے پر عمل کرنے سے باز نہیں رہتے جس کا ہم بوجوہ یہاں ذکر مناسب نہیں سمجھتے۔ لگتا تو یوں ہے کہ لاہور میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد پنجاب کی انتظامیہ نے پشتونوں کو دیوار سے لگانے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اس مسئلے کا بروقت نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ پنجاب میں مقیم پختونوں کو ہراساں کرنے کی پالیسی فوری طور پر ترک کردے بصورت دیگر قومی سا لمیت کو جس کا پنجاب میں بڑا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اے این پی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے تو پنجاب میں پختونوں کے ساتھ ناروا امتیازی سلوک کو بنگلہ دیش کے قیام سے قبل بنگالیوں کے ساتھ سلوک سے مشابہ قرار دیا ہے اور تنبیہہ کی ہے کہ حکمرانوں کو تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔ پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان نے بھی گزشتہ رات ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر انٹرویو میں بتایا کہ پنجاب میں پختونوں کے ساتھ جس نسلی تعصب کا سلوک ہو رہا ہے اس کا مجھے بخوبی علم ہے۔ لاہور میں نہ صرف پختونوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے بلکہ بعض مقامات پر تو پولیس کمانڈوز رات کی تاریکی میں پختونوں کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کی تلاشی لیتے' خواتین و بچوں کو ہراساں کرتے اور خاندان کے بوڑھے اور جوانوں کو ویگنوں میں ڈال کر تھانے لے جاتے ہیں۔ عمران خان نے پنجاب میں مقیم پر امن پختونوں کے خلاف اس نوع کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ نے جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے پختونوں کے ساتھ پنجاب پولیس کے اس امتیازی رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ قومی سطح کے ان رہنمائوں کے اس احتجاج کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ فی الوقت تو پنجاب کی حکومت پر لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے کا فیصلہ آنے پر سرشاری کا عالم طاری ہے۔ سنگینوں کے سائے میں میچ سے لطف اندوز ہونے کا یہ پہلا تجربہ ہوگا۔ سٹیڈیم کے باہر عوام کا کیا رد عمل سامنے آتا ہے وہ اس روز معلوم ہوگا۔ شنید ہے کہ اس روز لاہور میں تمام تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز بند رکھنے کے احکامات زیر غور ہیں۔ یہ اطلاع اگر درست ثابت ہوئی تو سٹیڈیم کے باہر کرفیو کا سا سماں ہوگا اوراندر پی سی بی کے معزز اراکین ان لوگوں کے درمیان بیٹھے میچ دیکھ رہے ہوں گے جنہوں نے چار سے بارہ ہزار تک کا ایک ٹکٹ خریدا ہوگا۔ ہم اس ایونٹ کو ایک بار پھر ان رنگ رلیوں سے مشابہت دینے پر مجبور ہیں جب نادر شاہ درانی کے ساتھ جنگ کے دوران رنگیلا پیا کرنال کیمپ میں نور بائیوں کے سریلے گیت اور بھانڈوں کی جگت بازیوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ لاہور میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے تحریری احکامات جاری ہوچکے ہیں کہ ان کے کارندے پختونوں کے روایتی پہناوے میں افراد کو مشکوک سمجھ کر ان پر کڑی نظر رکھیں۔ منڈی بہائو الدین کی پولیس نے تو اس ضمن میں کسی مصلحت کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی اور پشتونوں کی نشاندہی کے لئے نہایت ہی مخصوص قسم کی یک رخی تصویر (Profiling) جاری کی ہے۔ با وثوق پریس رپورٹس کے مطابق فاٹا کے ہزاروں پشتونوں کی کڑی نگرانی کے طور پر کچھ ایسے اقدامات تجویز کئے ہیں جن کے تحت ان کو سیکورٹی چپ والے خصوصی شناختی کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ راولپنڈی' اٹک ' چکوال اور جہلم کے شہر اس انوکھے تجربے کے لئے مخصوص ہوچکے ہیں۔ افرا سیاب خٹک کی ایک انگریزی تحریر (The Pakhtoon profile) کے مطابق گزشتہ چند سالوں سے پنجاب کے کچھ اضلاع میں اس پالیسی پر عمل جاری ہے۔ اٹک' بکھر' چکوال اور پختونخوا کے قریب واقع پنجاب کے کچھ دوسرے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز مقامی آبادی کے لئے مسلسل یہ ہدایات جاری کر رہے ہیں کہ وہ پختونخوا یا فاٹا سے تعلق رکھنے والوں سے جائیداد کی خرید و فروخت سے احتراز کرے۔ یہ سب اقدامات پختونوں سے امتیازی سلوک کی واضح مثالیں ہیں۔ ہم یہاں یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ افغان مہاجرین اور خیبر پختونخوا کے پشتونوں سے یکساں سلوک کیا جائے بلکہ پاکستان میں قانونی طور پر قیام پذیر افغان مہاجرین کو بھی ہراساں نہیں کرنا چاہئے۔ خیبر پختونخوا کے پختون بالیقین پاکستانی باشندے ہیں اور ان کے شناختی کارڈ ان کی پاکستانی شہریت کا قانونی دستاویزہے جبکہ حالیہ دنوں میں پنجاب میں مقیم پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے جن سے ان کی کاروباری سرگرمیوں پر اثر پڑ رہا ہے۔ پنجاب کی انتظامیہ کو پشتونوں کے ساتھ یہ معاندانہ رویہ فوری طور پر ترک کردینا چاہئے کہ اس سے پشتونوں کو اپنی روایتی قدر ''رازئے چی کلے وکڑو'' پر عمل کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔