پختونوں اور پنجابیوں میں دراڑیں ڈالنے کی سازش

پختونوں اور پنجابیوں میں دراڑیں ڈالنے کی سازش

کہتے ہیں جنگ اور محبت میں سب ''جائز ''ہوتا ہے۔ طالبان ہوں،القاعدہ ہو،داعش ہو یا جماعت الاحرار ان سے آپ ہتھکنڈے، اورہر قسم حرکت کی امید رکھیں۔ انہیں موقع ملے گا تو یہ ہمارے بچوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔انہیںکوئی کمزور لمحہ ہاتھ آیا تو یہ ہماری عورتوں اور بزرگوں پر بھی وار کریں گے کہ ان کے نزدیک ہم ان کے دشمن ہیں۔ یہ پنجابی ہوں، عرب ہوں،پٹھان ہوں،ازبک یا تاجک ہمارے بارے میں ان کی رائے ایک ہے۔انہیں ہم سے نہیں ہماری پاکستانیت سے پرخاش ہے کیونکہ ان کی لڑائی پاکستان سے ہے۔الحمدللہ اب تک پاکستان کی ان چاروں بڑی قومیتوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اس مشترکہ دشمن کے خلاف ایک ہیں اور آگے چل کر بھی ان کا یہ بھائی چارہ اور یگانگت قائم رہے گی لیکن ان چاروں قومیتوں کو اس بات پر گہری نظر رکھنا ہوگی کہ ان کا مشترکہ دشمن انہیں آپس میں لڑانے کے لئے کوئی بڑی سازش کر سکتا ہے اور اس طرح کی ایک سازش کو پنجاب کے ضلع منڈی بہا ئو الدین میں پکڑا بھی گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر '' گھمائی '' گئی سازش کو پکڑنا اگرچہ ایک دشوار امر ہوتا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ پنجاب حکومت ضلعی حکومت کے ساتھ مل کر جس تندہی اور عرق ریزی سے اس کا کھوج لگانے میں لگی ہوئی ہے توقع کی جا سکتی ہے کہ بہت جلد سازش کرنے والوں کو ڈھونڈ نکالے گی۔ سوشل میڈیا پر اور شاید ہینڈ بل کے طور پر بھی ایک صفحے کا پمفلٹ تقسیم کیا گیا ہے جس میں لکھا ہوا تھا کہ ضلع منڈی بہائو الدین میں مقیم تمام ایسے پختون جو قہوہ بیچتے ہیں،ڈرائی فروٹ فروخت کرتے ہیں یا دیگر پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ تھانہ سٹی میں حاضر ہو کر اپنی شناخت کرائیں تاکہ ان کے کوائف کا اندراج کیا جا سکے۔ آخر میں لکھا ہوا تھا منجانب سٹی پولیس۔جونہی پنجاب کے و زیر اعلیٰ شہباز شریف کے نوٹس میں یہ بات آئی انہوں نے سب سے پہلے یہ کنفرم کرایا کہ کہیں منڈی بہائو الدین پولیس کی طرف سے یہ حماقت تو نہیں ہوئی؟جب یہ بات کنفرم ہو گئی کہ پولیس کے فرشتوں کوبھی اس کا علم نہیں تو پھر انہوں نے سازش کرنے والوں کو پکڑنے کے احکامات جاری کئے ۔ سازشیوں کے ذہن میں منصوبہ بندی یہ تھی کہ جونہی یہ بات ملک بھر کے پختونوں کے علم میں آئے گی تو خیبر سے کراچی تک نفرت کی لہر دوڑ جائے گی کہ پنجاب میں انہیں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔اس میں شک نہیں زیادہ تر خودکش دھماکے یا تو افغانی کرتے ہیں یا پختون لیکن حلفیہ کہتا ہوں کہ میں نے پنجاب میں رہتے ہوئے آج تک کسی پنجابی کی زبان سے یہ بات نہیں سنی کہ ان کے ملک یا صوبے میں کس قومیت کے لوگ شر اور فساد پھیلا رہے ہیں۔ وہ انہیں صرف اور صرف خود کش حملہ آور کہتے ہیں اور پشاور میں ہونے والے جانی نقصان پر بھی اتنے ہی رنجیدہ ہوتے ہیں جتنے مغموم لاہور میں دھماکے پر ہوتے ہیں۔ان کو تو پتہ ہی نہیں کہ نسلی اور صوبائی تعصب کیا ہوتا ہے۔پورا پنجاب پختونوں سے بھرا پڑا ہے۔پختون نسل در نسل یہاں رہ رہے ہیںاور ایک پنجاب پر ہی کیا موقوف کراچی پختونوں سے بھرا پڑا ہے۔ کیا سندھ کے اس شہر میں انہیں کبھی ایک لمحے کے لئے بھی محسوس ہوا کہ وہ کسی اجنبی شہر میں رہ رہے ہیں؟اہل پختونخوا جانتے ہیں کہ ان کے صوبے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جتنے بھی چھوٹے بڑے شہر ہیں ان میں بسنے والے پنجابیوں کی تعدادنہ ہونے کے برابر ہے۔ میرا اپنا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ خیبر پختونخوا کا یہ واحد سرائیکی اکثریتی شہر ہے لیکن میں نے وہاں چند پنجابی نوے کی دہائی میں دیکھے۔ اس سے پہلے صرف تین طرح کے لوگ اس شہر میں رہتے تھے۔ اول سرائیکی، دوم پختون اور سوم اردو بولنے والے مہاجر۔میں بچپن میں پشاور میں بھی رہا وہاں بھی پنجابیوں کی ایک قلیل تعداد دیکھی یعنی نہ ہونے کے برابرلیکن پنجاب کے بڑے شہروں میں تو کئی کئی لاکھ نفوس پر مبنی ایسی آبادیاں ہیں جن میں اکثریت پختونوں کی ہے۔ مثال کے طور پر راولپنڈی کی فوجی کالونی یا پیر ودھائی کا علاقہ۔راولپنڈی ہی کا علاقہ چاہ سلطان جہاں گاڑیوں کا پرانا سامان بکتا ہے ،پختونوں سے بھرا ہوا ہے۔راولپنڈی صدر سے شروع ہو جائیں،چوہڑ ،مصریال،نصیر آباد سے سرائے خربوزہ تک آپ کو پٹھان ہی پٹھان ملیں گے اور آپ کو محسوس ہوگا جیسے یہ پنجاب نہیں پختونخوا کے علاقے ہیں۔ اسی طرح کراچی میں سہراب گوٹھ سمیت کئی آبادیاں بھی کراچی کی نہیں پختونخوا کی آبادیاں لگتی ہیں۔ پنجاب نے انہیں ایک ماں کی طرح اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے۔ انہیں اپنے اندر یوں سمو لیا ہے کہ یہ اسی مٹی کے سپوت لگتے ہیں۔دور کیوں جائیں میں خود قوم کا بلوچ ہوں۔ جتوئی میری سب کاسٹ ہے۔ میرے والد پنجاب میں رچ بس گئے تو میں ہی نہیں میری آل اولاد بھی اسی صوبے کی ہو کر رہ گئی۔ اللہ گواہ ہے مجھے آج تک کسی بھی نوعیت کے امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔سو جو سازش منڈی بہائو الدین میں ہوئی وہ پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ہوگی۔ پختونوں اور پنجابیوں کو لڑانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اس لئے دونوں قوموں کو ہوشیار اور خبردار رہنا ہوگا اور یاد رکھنا ہوگا کہ وہ حالت جنگ میں ہیں اور ان کا دشمن مشترک ہے۔

متعلقہ خبریں