مشرقیات

مشرقیات

حضرت شیخ ابو حمزہ خراسانی نیشا پور کے باشندے ، مشائخ کبار سے تھے ، توکل میںیگانہ روزگار تھے ، ابو تراب نخشی شیخ ابو سعید خراز کی صحبتوں میں رہے ۔ سید الطائفہ کے معاصرین میں تھے ۔ صاحب کشف المحجوب نے لکھا ہے کہ ایک دن جنگل میں ایک کنویں میں آ پ گر گئے ۔ جب تین دن اسی طرح پڑے پڑے گزر گئے ۔ ایک گروہ وہاں پہنچا ، دل میں سوچا کہ ان کو آواز دوں ۔ پھر سوچا کہ نہیں ، آواز دینا ٹھیک نہیں ۔ غیر سے مدد چاہوں اور شکایت کروں کہ خدا نے مجھے کنویں میں پھینک دیا ہے ۔ تم مجھے باہر نکال دو ۔ کچھ دیر میں وہ لوگ کنویں پر آئے اور باہم کہنے لگے کہ یہ کنو اں راستہ میں ہے ، مبادا کوئی بے خبری میں آئے اور اس میں گرجائے ۔ لہٰذا اس کو اوپر سے پاٹ دیں تو بڑ ا ثواب ہوگا ۔ آخران لوگوں نے کنویں کو بند کردیا اور واپس چلے گئے ۔ جب رات ہوئی تو کنویں پر میں نے ایک آواز سنی دیکھا تو کنویں کا منہ کھلا ہوا ہے ، اژدہے کی مانند ایک بڑے جانور نے اپنی دم کنویں میں لٹکائی ۔ میں نے خیال کیا کہ یہ میری رہائی کے لئے ایک صورت پیدا ہوئی ہے اور خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہے ۔ میں نے اس کی دم کو پکڑ لیا۔ اس نے مجھے باہر نکال دیا ۔ ہاتف سے ایک آواز سنی کہ تو نے خوب نجات پائی اے ابو حمزہ ! ہلاکت کے ذریعے تجھے ہلاکت سے نجات دی ۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت شیخ جنید بغدادی نے ابلیس کو خواب میں دیکھا کہ برہنہ لوگوں کی گردن پر کود رہا ہے ، آپ نے کہا اے ملعون تجھ کو ان لوگوں سے شرم نہیں آتی ۔ شیطان نے جواب دیا ۔ کون سے مرد یہ تو مرد نہیںہیں ۔ مردوہ ہیں ، جو مسجد میں کلونجی کی طرح سیاہ ہوگئے ہیں اور میرا دل جلارکھا ہے ۔ جب مسجد میں گئے تو ابو حمزہ خراسانی ابو الحسین نوری اور ابو بکر وراق کو ایک گوشہ میں مراقب دیکھا ۔ ابو حمزہ نے سر اٹھا یا اور فرمایا ۔ اس ملعون ابلیس نے جھوٹ کہا ۔ خدا کے اولیا ء اس سے زیادہ عزیز ہیں کہ ابلیس کو ان کے حال کی اطلاع ہو محمد بن مساب سلامی ایک بزرگ گزرے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک بار بغداد کے لوہار کے پاس ایک آدمی لوہے کے کڑے لایا ، جو اس لوہار نے خرید لئے ۔ مگر جب انہیں گرم کر کے کا ٹنے لگا تو وہ نرم ہونے کا نام ہی نہ لیتے تھے ۔
آخر وہ تنگ آکر تھک گیا اور پھر خریدنے والے کو تلاش کر کے پوچھا کہ یہ لوہے کے ٹکڑے تو نے کہاں سے لئے ہیں ۔ اس نے بتایا کہ بس مجھے ملے ہیں ۔ مگر یہ لوہار اس کے پیچھے پڑ گیا اور پوری تفصیل جاننے کیلئے اس کی منت سماجت کرنے لگا تو اس نے بتایا کہ ایک دن میں قبرستان گیا ۔ وہاں ایک کھلی قبر میں ایک لاش کی ہڈیاں اس میں جکڑی ہوئی تھیں ۔ میں نے اس لوہے کو پتھر سے توڑنے کی بڑی کوشش کی ، مگر ناکام رہا جس پر میں نے مردے ہی کی ہڈیاں توڑ کریہ لوہا نکال لیا ۔ لوہار بولا تب ہی تو اس لوہے پر دنیا کی آگ اثر نہیں کرتی ۔
حوالہ : (شرح الصدور208)

متعلقہ خبریں