CSSکا امتحان اور اردو زبان

CSSکا امتحان اور اردو زبان

پاکستان کے حوالے سے بعض فیصلے قرار داد پاکستان کی منظوری کے ساتھ ہی ہو جاتے تو اُس کے بہت دور رس اور خوشگوار اثرات ہوتے ، لیکن چونکہ قرار داد میں اس کی گنجائش نہیں ہوتی لہٰذا 23مارچ 1940ء کو مسلما ن اکثریتی علاقوں پر مسلمانان ہند کی خود مختاری اور اس کے نتیجے میں ایک الگ وطن کے قیام کا فیصلہ تو ہو گیا لیکن اس کے بعد کے سات برسوں میں محمد علی جناح کو اتنے کام درپیش تھے کہ بہت سی اہم باتوں کے بارے میں اُن کی دو ٹوک وضاحت کے باوجود اُن کا مئوقف پوری طرح سامنے نہ آسکا اور یار لوگوں نے گزشتہ ساٹھ ستر برسوں میں اُن کی ایسی من مانی تشریح و تعبیر کی کہ حقیقت خرافات میں کھو گئی ۔ مثلاً پاکستان کے نظام حکومت اور طرز حکمرانی کے بارے میں قائد اعظم کا یہ فرمان کتنا واضح اور دوٹوک ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے ذریعے آئینی اور نمائندہ حکومت ہوگی ۔ کوئی گروہ غیر قانونی طریقے استعمال کرکے کسی منتخب حکومت پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرے گا ۔ حکومت اور اس کی پالیسی کو صرف منتخب نمائندوں کے ووٹ کے ذریعے ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن پاکستان میں اس حوالے سے جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ طرز حکمرانی کے ساتھ نظام معیشت سب سے اہم مسئلہ ہے ۔ قائد اعظم نے پاکستان میں جس نظریہ معیشت کی وکالت کی وہ اسلامی معیشت کا نظریہ ہے ۔قائد اعظم محمد علی جناح نے بہت مختصر مدت حکمرانی میں پاکستان کے لئے ہر شعبہ زندگی میں وہ رہنما اُصول پیش کئے جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے اخذ شدہ ہیں اور پاکستان کے عوام کے فلاح وبہبود کے لئے ضروری ہیں ۔ لیکن افسوس ہے کہ آپ کی وفات کے بعد '' منزل اُن کو ملی جو شریک سفر نہ تھے ''کی وجہ سے آپ کے وژن پر عمل در آمد نہ ہوا جس کی وجہ سے بہت بڑا نقصان ہوا ، انتظامی ادارے اور بیورو کریسی ملک کے انتظام کو چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لہٰذا اس ملک کو جو اسلام کے نام پر بناہے ، چلانے کے لئے ایسے سرکاری افسران کی ضرورت تھی جن کا نظر یاتی و تہذیبی خمیر اسلامی تعلیمات سے اُٹھا ہو ، اور وہ پاکستان کی ترقی اور خدمت کو عبادت کا درجہ دیتے ہوں ۔ بابائے قوم نے سرکاری افسروں کے فرائض سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے بیان کئے اور فرمایا ''آپ کو اپنے فرائض خدمت گاروں کی حیثیت سے ادا کرنے ہیں کسی بھی سیاسی جماعت سے آپ کا کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے یہ آپ کا کام نہیں ہے ۔ آپ حاکم طبقے میں شامل نہیں ہیں ۔ آپ کا منصب خدمت گزاری ہے ۔ لیکن افسوس ہے کہ پاکستان کے سرکاری افسروں بالخصوص بیوروکریسی میں بہت کم لوگ قائدکے مقررکردہ اس معیار پر پورا اُترتے ہیں ۔ اس سلسلے میں بڑی کمی یہ رہی کہ زبان کی رکاوٹ کے سبب وہ لوگ جو پاکستان کے نظریاتی تشخص پر ایمان و یقین رکھتے تھے ، انتظامی عہدوں تک پہنچ نہ پائے ۔ یہاں تک کہ قدرت اللہ شہاب جیسے لوگ جو آج کے مقابلے میں بہترین افسروں میں شمار ہوتے ہیں ، زندگی کے آخری ایام میں اعتراف کرتے ہیں کہ ایوب خان کی مدد کر کے میں نے اپنی قوم سے خیانت کاارتکاب کیا ہے لہٰذا اللہ سے معافی مانگتا ہوں ۔ انگریز کے پروردہ اور اُسی ذہنیت کے حامل لوگوں نے انتظامی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کے لئے مقابلے کے امتحانات کا نصاب اور زبان وہی رکھا جو صرف وہ پاس کر سکتے تھے جو انگریزی تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ ہوتے تھے ۔ مدارس ، دینی اداروں اور ٹاٹ سکولوں اور کالجوں اور اردومیڈیم کے پڑھے لکھے افراد انگریزی زبان میں کمزور ہونے کے سبب ان امتحانات میں تیاری کے باوجود بہت کم تناسب میں کامیاب ہو سکے ۔ اس لئے گزشتہ ساٹھ برسوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیئے ہماری بیورو کریسی کی فہرست دیکھئے اس میں مختار مسعود ، قدرت اللہ شہاب ، عبداللہ ، اور اس قبیل کے دیگر افسران بہت ہی کم نظر آئیں گے ۔ علماء کو تو شاید برائے نام موقع اور حصہ بھی نہیں ملا ، آئین پاکستان جو قیام پاکستان کے چھبیس برس بعد وجود میں آیا ، معلوم نہیں یہ بات کس نے اور کیسے لکھوائی کہ دس سال کے اندر اندر پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے سارا کام ہوگا لیکن آج تک آئین کی ا س شق پر عمل در آمد نہ ہو سکا ۔ اردو سے محبت کرنے والوں نے بھر پور کوشش کی کہ اردو پاکستان کے تعلیمی اداروں ،دفاتر اور مقابلے کے امتحانات میں اپنا مقام پائے اورملک و قوم کی یکجہتی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرے لیکن منہ زور اور بے لگام بیورو کریسی یہ کہاں ہونے دے رہی تھی ، بابائے قوم نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کے دوران جو بات کی وہ اتنی دوررس تھی کہ اگر اُس پر عمل ہو جاتا تو یہ مسائل اس طرح نہ ہوتے ۔ اب الحمد للہ ! اللہ اللہ کر کے لاہورہائیکورٹ نے وہ تاریخی فیصلہ کیا ہے جس کے ہمارے ملک و معاشرے پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ سی ایس ایس کا امتحان اردو زبان میں ہونے کی وجہ سے متوسطہ طبقہ کے لائق اور محنتی افراد اور طلبہ اس میں حصہ لیکر کامیاب ہوں گے اور یقینا مدارس کے فارغ التحصیل بھی انگریزی بطور مضمون میں خوب تیاری کے ساتھ شامل ہوں گے تو انشا ء اللہ اس کے شاندار نتائج بھی آئینگے ۔ 

متعلقہ خبریں