پانامہ لیکس احتجاج اور عدالتی حل

پانامہ لیکس احتجاج اور عدالتی حل


پانامہ لیکس کے معاملے پر عدالت عظمیٰ کی جانب سے کمیشن کے قیام کا عندیہ وزیر اعظم کے خاندان پر لگنے والے الزامات اور احتساب ہی کے حوالے سے اہم نہیں بلکہ ملک میں جاری سیاسی صورتحال میں یہ خاص طور پر اہم ثابت ہوا کہ تحریک انصاف نے احتجاج مئوخر کر کے یو م تشکر منانے کا اعلان کیا اور تصادم کے خطرات ٹل گئے ۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات سے اٹھنے والا تنازعہ جس طرح سڑکو ں پر آ گیا تھا اس سے پورا ملک متاثر ہونے لگا تھا ۔ جہاں تک عدالتی معاملات کا سوال ہے عدالتی معاملات دنوں میں طے نہیں ہوتے بلکہ اس کی تکمیل کیلئے وقت مقرر کرنے کے باوجود زیادہ عرصہ لگنے کا امکان رہتا ہے ۔ گزشتہ روز جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ پاناما لیکس پر تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے آج ہی ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کمیشن کی سربراہی کون کرے گا اور اس میں کون ہوگا اس کا فیصلہ عدالت کرے گی اور دوسرے فریق کی رضامندی کے بعد عدالت کمیشن کے قیام کا فیصلہ کرے گی۔ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی اور عدالت نے تمام فریقین کو پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مجوزہ کمیشن کو سپریم کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے اور کمیشن عدالت عظمٰی ہی کو رپورٹ پیش کرے گا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پاناما لیکس سے پورا ملک متاثر ہوا، عدالت کا کام ملک کو انتشار اور بحران سے بچانا ہے۔ اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تنازعات کے حل کا سب سے بڑا ادارہ سپریم کورٹ ہے اور عدالت فیصلہ کرنے میں تاخیر نہیں کرے گی۔ پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام پرپہلے ہی آمادہ تھی اور اب بھی حکومت نے عدالت عظمیٰ میں آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ وزیراعظم لندن کی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے راضی ہیں اور الزامات درست ثابت ہوئے تو وزیراعظم نتائج تسلیم کریں گے۔اپوزیشن کے ٹی او آرز 6 ماہ پہلے والے ہی ہوں گے، بعدازاں پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ نے فریقین کو ٹی او آرز پیش کرنے کا کہا ہے اور اگر ان پر اتفاق نہیں ہوا تو عدالت خود ٹی او آرز سیٹ کردے گی۔ پاناما انکشافات کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے تھے اور وزیراعظم کے بچوں کے نام پاناما لیکس میں سامنے آنے پر اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔بعد ازاں جوڈیشل انکوائری پر اتفاق کیا گیا جس کے لیے وزیر اعظم نواز شریف نے 22 اپریل کو قوم سے اپنے خطاب میں کیے گئے اعلان کے مطابق سپریم کورٹ کو کمیشن کے قیام کے لیے خط ارسال کیا تاہم چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کمیشن بنانے سے متعلق حکومتی خط کو اعتراضات لگا کر واپس کر دیا تھا۔حکومت کو جوابی خط میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے لکھا تھا کہ جب تک فریقین مناسب ضوابط کار پر متفق نہیں ہوجاتے، کمیشن تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ حکومتی ضوابط کار بہت وسیع ہیں، اس کے تحت تحقیقات میں برسوں لگ جائیں گے اور جس خاندان، گروپ، کمپنیوں یا افراد کے خلاف تحقیقات کی جانی ہیں ان کے نام فراہم کرنا بھی ضروری ہیں۔سپریم کورٹ کیلئے تحقیقات کروانا مشکل ہوگاموجودہ صورتحال میں عدالت کی آمادگی کے سوا اس لئے کوئی راستہ نہ بچا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے فریقین کو ٹی او آرز طے کرنے اور عدالت کی مدد کیلئے ضروری قانون سازی اور اختیارات طے کرنے کا جو کام سونپا تھا اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کی غرض سے حکومت اور اپوزیشن کی 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، حکومت اور اپوزیشن میں اس حوالے سے متعدد اجلاس ہوئے مگر فریقین اس کے ضابطہ کار پر متفق نہ ہو سکے۔اگر دیکھا جائے تو عدالت عظمیٰ نے بھی فریقین کو ایک مرتبہ پھر اسی مقام پر دوبارہ لا کھڑا کیا ہے کہ وہ ٹی او آرز طے کریں چھ ماہ سے الجھی یہ لٹ اگر پہلے سلجھ سکتی تو آج معاملات اس انتباہ کو نہ پہنچتے اس لئے امکان یہی ہے کہ ایک مرتبہ پھر اتفاق رائے کی کوئی صورت نہیں نکلے گی اور فریقین معاملہ کے تحفظات کے باعث عدالت عظمیٰ اور مجوزہ کمیشن ہی کو طریقہ کار طے کرنا پڑے گا ۔ لیکن اس کے لئے قانون سازی اور پارلیمنٹ کی منظوری کی ضرورت پڑے گی یا پھر عدالت اس کا کوئی اور راستہ نکالے گی یہ اور اس طرح کے کئی ایسے سوالات ہیں جو آئندہ دنوں میں سامنے آسکتے ہیں ۔ بہر حال عدالتی کمیشن اس معاملے کو نمٹانے میں کس مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ان مشکلا ت اور پیچید گیوں کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں ان معاملات سے قطع نظر خوش آ ئندپہلو یہ ہے کہ اس پیشرفت کے بعد ملک میں معاملات معمول پر آنے لگے ہیں ۔ احتجاج اور توڑ پھوڑ کی جگہ یو م تشکر نے لے لی ۔

متعلقہ خبریں