سی پیک' پاک چین تجارتی سرگرمیوں کا خوش آئند آغاز

سی پیک' پاک چین تجارتی سرگرمیوں کا خوش آئند آغاز

چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک)کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ایک ایسے موقع پر ہوا جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے ۔ اگر ملک سیاسی کشیدگی سے دو چار نہ ہوتاتو قوم کی ساری توجہ خوشی و مسرت کی اس خبر کی طرف مبذول ہونا فطری امر تھا۔ بہر حال پاکستان اور چین کے درمیان تجارت و ترقی کا یہ نیا باب جہاں دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی مثال ہے وہاں اس سے اقتصادی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جس کے اثرات بہت جلد پورے خطے میں محسوس کئے جاسکیں گے۔ مقام صد شکر ہے کہ گزشتہ روز100کے قریب چینی کنٹینرز سوست ڈرائی پورٹ میں داخل ہوئے جبکہ ایک روز قبل اس پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کی افتتاحی تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔واضح رہے کہ سوست ہنزہ کا ایک گائوں ہے اور قراقرم ہائی وے پر واقع یہ پاکستان کا آخری قصبہ ہے جس کے بعد چینی سرحد کا آغاز ہوجاتا ہے۔سوست پورٹ پر کسٹمز کلیئرنس ملنے کے بعد چینی کنٹینرز گوادر کی بندرگاہ کی جانب روانہ ہوگئے۔اندازہ یہ ہے کہ ہر ہفتے قراقرم ہائی وے کے ذریعے ایک ہزار چینی کنٹینرز گلگت بلتستان سے گزریں گے۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے مطابق وفاقی حکومت نے اس خطے کے لیے 72 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے ہیں جن سے گلگت بلتستان کو جدید ٹیکنالوجی سے بھی ہم آہنگ کیا جائے گا۔سوست پورٹ کے کسٹمز سپرٹنڈنٹ کے مطابق وہ کنٹینرز جن پر سی پیک منصوبوں سے متعلق اشیا موجود ہیں انہیں امپورٹ ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ سی پیک ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا لیکن بد قسمتی سے اس عظیم منصوبے کو بھی تضادات اور اختلافات کاشکار بنا دیاگیا ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا کے عوام کو اب تک اس امر کاعلم اور یقین نہیں کہ اس منصوبے میں ان کو ان کاجائز اور قانونی حصہ اور حق دیا جائے گا۔ اس ضمن میں وفاق اورصوبے کے درمیان موقف اور نکتہ نظر کا اختلاف اور ہر فریق کی اپنی تاویل معمہ بنا ہواہے جس سے عوام کے درمیان بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اس سے قطع نظر کہ خیبر پختونخوا کو اس کا جائز حق ملتا ہے یا نہیں۔ پھر بھی کوئی وجہ نہیں کہ صوبے کے عوام کو اس اہم ترین منصوبے کے آغاز پر خوشی نہ ہو ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مد میں جو غلط فہمیاں اور اختلافات موجودہیں وہ ایسی نہیں کہ ان کو دور نہ کیا جاسکے یا ان کا ازالہ نا ممکن ہو۔
ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایت پر تصادم کامعاملہ
پشاور کے علاقہ نوتھیہ جدید میں گلی کی تعمیر و مرمت میں سست روی اور ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایت پر کونسلر کے والد کا شکایت کنندگان پر حملہ اور تشدد اور ڈسٹرکٹ ناظم کی طرف سے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے سے روکنا تحریک انصاف کے منشور کی سراسر خلاف ورزی اور خلاف قانون اقدام ہے۔ اصولی طور پر تحریک انصاف کے کونسلر کو اس شکایت کی نوبت نہیں آنے دینا چاہئے تھی اور اگر کسی وجہ سے شکایت کی بھی گئی تو اس سے نمٹنے کا جو طریقہ اختیار کیاگیا وہ شکایت کرنے والے کے موقف کو تقویت دینے کا خود بخود باعث بن گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی شکایات عام ہیں اور کونسلروں کی جانب سے اپنوں کو نوازتے ہوئے صرف نظر اختیار کرنے کی بلکہ ملی بھگت سے رقم اینٹھنے کی شکایت عام ہے۔ اس ضمن میں ضلع ناظم کا کردار و عمل خاص طور پر قابل مذمت ہے کہ انہوں نے معاملہ صلح و صفائی سے حل کرنے یا پھر ناقص میٹریل کے استعمال کا نوٹس لینے کی بجائے الٹا مضروب فریق کو قانون کاراستہ اختیار کرنے میں رکاوٹ پیدا کرنے کی سعی کی۔ نوتھیہ میں عوامی نمائندے اور عوام کے درمیان تصادم ہر لحاظ سے قابل افسوس واقعہ ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اسطرح کی صورتحال میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کی بجائے اگر معاملے کی صداقت اور شکایت کی نوعیت دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا تو زیادہ موزوں ہوتا۔
پشاور میں نیا جدیدائیرپورٹ بنایا جائے
ایشیاء کے ہوائی اڈوں میں پشاور کے باچہ خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا تیسرے نمبر کا بدترین ائیر پورٹ قرار پاجانا صوبہ خیبر پختونخوا کے حاکمین اور عوام کے لئے کوئی مژدہ نہیں بلکہ باعث افسوس امر ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا باچا خان ائیر پورٹ کو سرے سے نظر انداز کرنے کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ شہری آبادی میں گھرا یہ ہوائی اڈہ اب نہ صرف ناکافی ہے بلکہ اس پر مزید رقم خرچ کرنا شاید مناسب نہیں۔ دہشت گردی کا شکار اس صوبے کے ائیر پورٹ کی حالت زار میں یہاں سے پروازوں کی بندش کے بعد اضافہ ہوا۔ کئی وجوہات کے پیش نظر یہ تجویز پیش کی جاسکتی ہے کہ خیبر پختونخوامیں کسی موزوں جگہ پر بین الاقوامی سہولتوں سے آراستہ نیا ائیر پورٹ تعمیر کیا جائے۔

متعلقہ خبریں