ساکھ کی ریت

ساکھ کی ریت

جمہوریت میں عوام اور حکومت کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ ساکھ اور اعتبار کا ہوتا ہے ۔یہ رشتہ عوام کی طاقت اور اعتماد سے کشید کیا گیا ہوتا ہے ۔یہ ایک باریک سا شیشہ ہوتا ہے ۔عوام جب اپنی طاقت کو ووٹ کے ذریعے سرینڈر کر کے حکومت اور ریاست کے حوالے کرتے ہیں تو یہ ان کے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے ۔یہ اٹوٹ اور دائمی رشتہ نہیں ہوتا یہ صرف اعتماد کی موجودگی تک ہی قائم رہتا ہے۔اعتماد کے شیشے میں بال آجائے تو یہ رشتہ بظاہر جڑا تو رہتا ہے مگر اس دراڑ کو دوبارہ پہلی شکل میں بحال کرنا قطعی ممکن نہیں رہتا۔جب عوام کو اندازہ ہوجائے کہ حکومت بااعتماد نہیں رہی تو پھر عوام اس حکومت سے روٹھ جاتے ہیں ،منہ موڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔پھر اپنی مدت ،عارضی سانسوں کے چند لمحات اور کچھ وقت حاصل کرنے میں کامیاب تو ہوتی ہے مگر وہ عوام کے دلوں سے اُتر جاتی ہے ۔صدر ،وزیراعظم ،پارلیمنٹ ،کابینہ اپنی اپنی جگہ کام کرتے ہیں مگر عملی طور پرحکومت ساکھ کے بحران کا شکار ہوتی ہے ۔خلق خدا اس سے نالاں اور ناراض رہنے لگتی ہے اورحکومت کے دعوئوں اور فیصلوں پر اعتبار نہیں کرتی۔ اہل حکم کسی اور سیارے کی مخلوق اور عوام کسی اور دنیا کی مخلوق لگتی ہے۔پرویز مشرف کے عروج وزوال کے دن بہت پرانی بات نہیں ۔پرویز مشرف مطلق العنان رہنے کے باوجود ساکھ کے بحران کا شکار نہیں ہوا ۔لوگ انہیں کرگل کے ہیرو اور آگرہ کے مجاہد کے طور پر دیکھتے رہے جو کرگل کی بلندیوں میں دشمن کی گردن بھی دبوچ بیٹھا اور کرگل میں پاکستان کے اصولی موقف پر اس وقار سے قائم رہا کہ مشترکہ اعلامئے کو جھٹک کر وطن واپس لوٹ آیا ۔ پرویز مشرف جب ساکھ کے بحران کا شکار ہوئے اس وقت وہ کلی مطلق العنان نہیں تھے وہ جمہوریت کا ڈول ڈال چکے تھے اور اپنے فوجی نظام میں سیاسی لوگوں کی کلغی سجا چکے تھے ۔ملک میں نیم فوجی اور نیم جمہوری نظام کا م کر رہا تھا ۔پرویز مشرف کی چھتری تلے ایک وزیر اعظم ،کابینہ ،پارلیمنٹ قائم ہو چکی تھی اور اس میں موجودہ دور کی تمام جمہوری طاقتیں شامل تھیں۔پاکستان میںفوجی حکومتیں اور آمریت قائم ہونا کوئی نئی بات نہیں مگر یہاں طاقتور ڈکٹیٹر شپ کی مدت بھی دس سال سے آگے نہیں بڑھ سکتی ۔اس سے زیادہ کی منصوبہ بندی کسی بھی ڈکٹیٹر کے لئے بارودی سرنگوں پر سفر ہی ثابت ہوتا رہا ہے ۔پاکستان اس معاملے میں کبھی مشرق وسطیٰ نہیں بن سکا جو دہائیوں تک بادشاہوں اور صدور کے بوجھ تلے اپنی کمر دوہری کرتا چلا آیا ہے۔بالکل اسی طرح پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی اور استحکام کی واحد صورت یہی ہے کہ وہ معروف اور مروجہ جمہوری اصولوں اور معیار ات کے مطابق چلتی رہی ۔جب بھی پاکستان کی جمہوریت برصغیر کے مخصوص سماجی اور سیاسی مزاج کے مطابق خاندانی حکمرانی میں تبدیل ہو نے لگی اسے پٹخ دیا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا اقتدار فوجی اور سیاسی حکمرانوںدونوں کے لئے پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر رہا ۔جنرل ضیاء الحق کو لیںجنہوں نے اپنی آمریت کی کوکھ سے غیر جماعتی انتخابات اور اس کے نتیجے میں ایک نیم جمہوری اور کمزور نظام کو جنم دیا ۔محمد خان جونیجو کی سربراہی میں یہ نظام ابھی اکھڑوں چل ہی رہا تھا کہ خود نظام کے خالق جنرل ضیاء الحق نے ہی اس کی بساط لپیٹ دی اور ا س کے بعد جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کی اُلٹی گنتی شروع ہوئی اور چند ماہ بعد ہی ان کا اقتدار ایک حادثے کے نتیجے میں یوں ختم ہوگیا کہ اس کے بعد ایک نئے اور نسبتاََ آزاد جمہوری نظام کی بنیاد پڑی۔جونیجو حکومت کی برطرفی جنرل ضیاء الحق کی ساکھ کے اصل بحران کی ابتدا ہوئی ۔ان کے اقدام کو ملک کے اندر تو پسند نہیں کیا گیا ان کے بیرونی دوستوں نے بھی اسے جنرل ضیاء الحق کی طرف سے سرخ لکیر عبور کرنے کی خواہش سے تعبیر کیااور یوں تنہا ہوتے ہوئے ضیاء الحق کو راہ سے ہٹانا آسان ہوگیا۔میاں نوازشریف حکومت کو پہلی بار عمران خان کے دھرنے نے دھاندلی کے معاملے پر بحران کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی مگر وہ یہ وار برداشت اور یہ جھٹکا سہہ گئے ۔اب کی بار انہیں پانامہ کے بحران نے آن گھیرا ہے ۔پانامہ محض افسانہ نہیں ایک بین الاقوامی حقیقت ہے ۔حکومت نے اس حقیقت سے نظریں چرانے میں خاصا وقت ضائع کیا۔عمران خان بھی ہٹ کے پکے نکلے اور ''وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں'' کی عملی تصویر بن کر پانامہ پانامہ کرتے رہے۔یہاں تک انہیں حکومت کو اس ڈھب پر لانے کے لئے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔اب پہلی بار یوں لگتا ہے کہ حکومت تحقیقات سے بچتے اور ساکھ کو بچاتے بچاتے ساکھ کے بحران کا شکار ہونے لگی ہے ۔اب حکومتی وزیر وں کے چہروں میں محمد علی درانی کی جھلک دکھائی دینے لگی ہے ۔چیف جسٹس کی بر طرفی اور نظر بندی کے فوراََ بعد جب مشرف حکومت ساکھ کے بحران کی طرف لڑھکنے لگی تو وزیر اطلاعات کے طور پرمحمد علی درانی کی ذمہ داری اس ساری کارروائی کا دفاع ٹھہری ۔دنیا کہتی تھی کہ چیف جسٹس نظر بند ہیں مگر محمد علی درانی میڈیا میں اس ڈیوٹی پر مامور تھے کہ وہ اس نظر بندی سے انکار کرتے چلے جائیں ۔ایک کے بعد دوسرا ترجمان ان کی مدد کو دوڑا دوڑا آیا مگر بحران بڑھتا چلا گیا ۔پرویز مشرف کی ذات اور شخصیت اس بحران کی زد سے پھر کبھی باہر نہیں آئی یہاں تک ایک روز ان کا اقتدارجمہوریت کے معمولی سے جھٹکے سے ختم ہو گیا ۔موجودہ حکومت نے پانامہ کی پوٹلی کو بچاتے بچاتے خود کو اس مقام پر لاکھڑ اکیا ہے۔ جہاں ایک معاملے کو چھپانے کے لئے کئی افسانے گھڑنے پڑتے ہیں۔پرویز خٹک کے کاررواں کو روکنے کا تماشا لگا کر حکومت نے وکلاء تحریک کے مناظر کو تازہ کیا ہے ۔حکومتیں جمہوری ہوں یا فوجی ان میں بے تدبیری کا ایک رشتہ ضرور ہوتا ۔کوئی بھی حکومت کسی بھی لمحے اپنی بے تدبیری سے مسائل کھڑے کر سکتی ہے ۔پاکستان میں اب ایسا ہی ہورہا ہے۔حکومت وقت سے پہلے رخصت ہوتی ہے یا اپنی مدت پوری کر تی ہے مگر اس کا نقش اب نقش ِ برآب ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں