دو تقاریب کا تذکرہ

دو تقاریب کا تذکرہ

جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں ''خواتین کے حقوق' اسلامی تعلیمات کے تناظر میں'' کے موضوع پر دعوت خطاب ملی تو یہ دیکھ کر دل خوش ہوا کہ اکیڈمی کی عمارت بہت خوبصورت آرکیٹیک کی ذہانت کی عکاس تھی۔ عمارت میں عدلیہ سے متعلق ججز صاحبان اور دیگر افسران اور عملے کی تربیت اور دفتری امور نمٹانے کے لئے بہترین دفاتر موجود تھے اور حقیقت یہ ہے کہ حکومت پاکستان کا اس اکیڈمی کی تعمیر پر کافی خرچہ آیا ہوگا لیکن یہ سوچ کر دل اداس ہوا کہ چند برسوں کے اندر اندر اس کی حالت بھی ہمارے دیگر سرکاری دفاتر اور عمارتوں کی طرح نہ ہو جائے۔ اس لئے میں نے وہاں دو تین متعلقہ آفیسر سے درخواست کی کہ یقینا اکیڈمی میں صفائی ستھرائی کے لئے سٹاف اور عملہ بھرتی کیا جا چکا ہوگا لہٰذا کوشش یہ کریں کہ اس حسین اکیڈمی کو اس طرح نتھرا اور ستھرا رکھا جائے۔
ہمارے سرکاری دفاتر میں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ سرکاری چیز کو اپنی نہیں سمجھتے یعنی اسے اون (Own) نہیں کرتے۔ مگر ہم اپنے دفاتر اور اس کے اثاثوں کو ذاتی اشیاء کی طرح سمجھنا شروع کردیں تو بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کیاجاسکتاہے کہ سرکاری عمارات و دفاتر کی سیڑھیاں اور واش رومز وغیرہ ٹھیکیدار کے ناقص میٹریل اور ہم عوام اور سرکاری دفاتر میں کام کرنے والوں کی بے رخی و لا تعلقی چند مہینوں کے اندر ہی دفاتر کا حلیہ بدل دیتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں صفائی اور سینیٹیشن سٹاف عموماً صبح ایک دو تین گھنٹے کہیں جھاڑو اور پونچھا وغیرہ مار کر کہیں کونے کھدرے یا سیڑھیوں کے نیچے بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اور سگریٹ نوشی کا شغل کرتے ہیں۔ یوں نئی نویلی عمارتیں داغ دھبوں سے بھر جاتی ہیں اور بد نمائی کی شکار ہو کر ذوق نفس کا منہ چڑاتی ہیں۔ جوڈیشل اکیڈمی کے نفیس ہال میں جب محترم ضیاء الدین خٹک اورجناب عطاء اللہ نے مجھے اپنے نوجوان ججز خواتین و حضرات سے مخاطب ہونے کا موقع دیا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میری عام سی باتوں کایہ لائق فائق لوگ اتنا گہرا اثر لیں گے۔ دل کی گہرائی سے کہتا ہوں کہ مجھے دلی خوشی ہوئی ایسے نفیس اور با ذوق لوگوں سے مل کر۔ خواتین کے حقوق کے سلسلے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبصورت' پاک اور مختصر مگر جامع تعلیمات کا جب خلاصہ پیش کیا تو نوجوان حاضرین مجلس نے بہت وقار اور سنجیدگی کے ساتھ میری معروضات کو سنا۔ میری کوشش تھی کہ ان چند عام زیر گردش غلط فہمیوں کو دور کرسکوں جو خواتین کے حقوق کے سلسلے میں ہمارے معاشرے میں صبح و شام زیر عمل آتے ہیں۔انسان کی حیثیت سے مرد اور عورت میں کو ئی فرق نہیں ہے۔ تعلیم' خوراک' لباس' آزادی تحریر و تقریر' شادی بیاہ و نکاح' مالیات اور زندگی کے دیگر سارے اہم شعبوں میں عورت کسی طرح بھی کسی مرد سے کمتر نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی چار صاحبزادیوں کے ساتھ محبت' ان کی دلجوئی' دکھ سکھ میں ان کی ہر بات و احساس کا خیال رکھنا ' سارے دنیا کے انسانوں کو درس دیتا ہے کہ عورت کا احترام معاشروں کی ترقی اور شرافت کی پہچان اور بنیاد ہے۔
عورت کا عورت ہونا اس کی کمزوری کی دلیل و بنیاد اسلام سے پہلے کی تہذیبوں اور معاشروں نے بنایا تھا۔ اس لئے مصری' رومی' ایرانی اور ہندی تہذیبوں میں عورت کا عورت ہونے کے ناتے بری طرح استحصال کیا گیا ۔ عورت کو صحیح معنوں میں اگر کہیں تحفظ و احترام ملاہے یا مل سکتاہے تو وہ اسلامی تعلیمات میں مضمر ہے۔ لیکن چونکہ معاشرے کے جابر و طاقتور اور مفاد پرست طبقات نے ہمیشہ کمزور طبقات کا استحصال کیا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام سے قبل بھی عورت اور کمزور طبقات کو ان کے حقوق نہیں دئیے گئے اور اسلام کے تیس چالیس برس کی مختصر مدت جس میں شریعت کے نفاذ کی وجہ سے خواتین کو ان کے حقوق ان کے مطالبہ کے بغیرحاصل تھے۔ لیکن پھر اس مثالی عہد کے بعد ایک طرف اسلامی معاشروں میں اسلامی تعلیمات کی غلط اور من مانی تاویلات کے ذریعے ان کے حقوق کو غصب کیاگیا اور کبھی ان کو ان کے حقوق دلانے کے نام پر ان کے حقوق سے محروم کیاگیا۔
امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہ وطن کبھی بنام مذہب
دوسری تقریب پچھلے ہفتے نشتر ہال میں 27اکتوبر( کشمیر بلیک ڈے) کے حوالے سے منعقد ہوئی جس میں جناب مشتاق شباب کی مہربانی سے شرکت کاموقع ملا۔ نشترہال کو جس خوبصورت طریقے سے تزئین و آرائش سے گزارا گیا ہے لائق تحسین ہے لیکن وہاں بھی یہی دھڑکا لگا رہا کہ کتنے مہینوں تک ہم اس کے حسن کو برقرار رکھ سکیں گے۔ محکمہ ثقافت کے جواں سال ڈائریکٹر محمد اجمل خان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ مشتاق شباب کے تجربات و مشاہدات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اس کا خاص خیال رکھوائیں گے۔نشتر ہال کی تزئین سے جہاں خوشی ہوئی وہاں اس بات کا دکھ رہا کہ مسئلہ کشمیر کو ہماری حکومتیں اب بھی وہ توجہ نہیں دیتیں جو ضرورت ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر جل رہاہے اور انسانی تاریخ کے بدترین مظالم کا شکار یہ خطہ عالم اسلام اور انسانیت کا ورد کرنے والوں کی فوری توجہ کا مستحق ہے۔ پاکستان پر تو مظلوم کشمیریوں کی ہر طرح سے مدد کرنا فرض ہے کیونکہ پاکستان کی بقا و استحکام کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل کرنا اور اس طرح حل کرنا کہ مظلوم کشمیریوں کو ان کا بنیادی انسانی حق یعنی حق خود ارادیت ملے' پر منحصر ہے۔

متعلقہ خبریں