مجھے گفتگو عوام سے ہے

مجھے گفتگو عوام سے ہے

ہم آج کی تحریر کے لئے موضوع کی تلاش میں تھے۔ ملک کے سیاسی محاذ پر گزشتہ چند دنوں سے ایک ہنگامہ برپاہے۔ کسی پر جمہوریت کے خاتمے کے الزامات لگائے جارہے ہیں تو کوئی اس کے جواب میں جمہوریت کا علم بلند رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہاہے۔ ہمیں تو یہی لگتاہے جیسے جمہوریت بے چاری کے گلے میں رسی پڑی ہے اور ہر کوئی اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش میں ہے۔ دونوں اطراف سے دعویٰ یہی ہے کہ اس کھینچا تانی میں عوام کاف فائدہ پوشیدہ ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس کشمکش میں عوام کا بھرکس نکلتا ہے یا پھر جمہوریت کی قربانی ہوتی ہے۔ چونکہ ہمیں سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں اور ہمیشہ اس سے محترز رہتے ہیں کہ یہ ہمارا میدان نہیں پھر سیاسی موضوعات پر خامہ فرسائی کا فائدہ کیاہے؟ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ جو ہم دوسرے موضوعات پر زیر بحث لاتے ہیں اس کا کوئی نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے یا نہیں البتہ ہمارے ذہن سے ایک بوجھ ضرور اتر جاتا ہے۔ یہی بات ہم نے درگئی سے اپنے ایک محترم قاری امتیاز خان سے عرض کی۔ انہوں نے ہمیں اپنے کالم میں درگئی کے مضافات میں ایک انڈسٹریل زون اور وہاں کچھ فولاد کے کارخانوںکے منفی اثرات کے بارے میں لکھنے کے لئے کہا۔ ان کے مطابق ایک تو صنعتی علاقہ آبادی کے قریب قائم کیا جا رہاہے جس سے یہاں کے باشندوں کے روز مرہ کے معمولات متاثر ہوں گے اور صحت کے مسائل بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہاں جو فولاد کے کارخانے بنائے گئے ہیں ان کی وجہ سے قرب و جوار کے علاقے میں شدید فضائی آلودگی پھیل چکی ہے۔ ہم نے تو کالم میں درگئی کے لوگوں کے ایک مسئلے کی نشاندہی کردی اب دیکھتے ہیں کہ حکومت اس کا کیا اور کب کوئی نوٹس لیتی ہے۔ ایک مسئلے کا ذکر ہمیں زرعی یونیورسٹی سے نذیر محمد نے اپنے ایک برقی مراسلے میں کیا ہے۔ ہمیں ان کی اس بات سے صد فیصد اتفاق ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کی جی ڈی پی میں اس کا 56 فیصد حصہ ہے جس میں لائیو سٹاک کا بقول ان کے 54 فیصد حصہ بھی شامل ہے۔ اس کے باوجود لائیو سٹاک جیسا اہم شعبہ حکومت کی توجہ سے محروم ہے۔ نذیر محمد کے کہنے کے مطابق ہر سال 300 وٹرنری سرجن تعلیم تو مکمل کرلیتے ہیں لیکن ان کے لئے آسامیاں نہیں ہوتیں نتیجتاً اس وقت کم و بیش 2200 وٹرنری سرجن ملازمت سے محروم ہیں۔ سندیافتہ وٹرنری سرجنوں سے ہر سال صرف 20 کی تقرری ہوتی ہے۔ لائیو سٹاک کے شعبے کی اہمیت کے باوجود ازراہ ضرورت اس محکمے میں نئی آسامیاں پیدا نہیں کی جاتیں۔ حکومت نے اگر اس مسئلے کی طرف فوری توجہ نہ دی تو مستقبل میں وٹرنری سرجن کا مسئلہ مزید گمبھیر ہوسکتا ہے۔ ایک برقی مراسلہ ہمیں ڈیرہ اسماعیل خان سے مطیع اللہ خان نے روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ان ٹیچرز کا ذکر کیاہے جو عارضی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پختونخوا کی موجودہ حکومت نے سکول اساتذہ کی مانیٹرنگ کا جو نظام وضع کیا ہے اس کی وجہ سے ان کی کارکردگی میں کافی بہتری نظر آنے لگی ہے۔ البتہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو ملکی ترقی کے جدید تقاضوں سے ہم آ ہنگ کر نے کی ضرورت ہے۔ تاو قتیکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اساتذہ کے سروس رولز پر نظر ثانی نہ کی جائے اس شعبے میں بہتری نہیں آسکتی۔ فی الوقت آئی ٹی اساتذہ کو پراجیکٹ کے تحت ملازمت فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت کروڑوں روپے کے اخراجات سے سکولوں میں آئی ٹی لیبارٹریز تو قائم کردیتی ہے لیکن ان میں کام کرنے کے لئے سہ ماہی معاہدے پر اساتذہ کو بھرتی کیاجاتا ہے۔ انہی عارضی ملازمت کی وجہ سے وہ مسلسل ملازمتی بے یقینی کا شکار رہتے ہیں۔ مطیع اللہ کے بیان کے مطابق 2014ء میں اہلیت کی بنیاد پر بھرتی کئے گئے342 آئی ٹی اساتذہ عارضی بنیادوں پرکام کر رہے ہیں۔ ان اساتذہ کی ملازمت میں چار دفعہ توسیع کی گئی ہے ۔ لیکن دفتری کارروائی کی وجہ سے توسیع کے عمل میں اس قدر تاخیر ہو جاتی ہے کہ وہ کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رہتے ہیں۔ عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہ میں سالانہ اضافہ (Increment) شامل نہیں کیا جاتا۔ بتایاگیا کہ آئی ٹی اساتذہ کی تقرری کے احکامات میں انہیں تمام الائونسز کی ادائیگی کی شرط موجود ہوتی ہے۔ 2009ء جو اساتذہ ملازمت پر آئے ان کی آسامیوں کو مستقل کیاجا چکاہے۔ اس نظیر کے پیش نظر منظور شدہ آسامیوں پر کام کرنے والے آئی ٹی اساتذہ کو ا گر این ٹی ایس کے ذریعے مستقل کردیا جائے تو اس سے عارضی اساتذہ کا اپنی ملازمتوں کے بارے میں بے یقینی کا تاثر ختم ہو جائے گا اور ان کی کارکردگی سے آئی ٹی کے شعبے میں مزید ترقی ہوگی ۔ اساتذہ پورے سکون کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرسکیں گے۔ ہم نے کسی سیاسی موضوع پر بحث کرنے کی بجائے قارئین کے مراسلوں کی روشنی میں تین اہم مسئلے حکومت کی خدمت میں پیش کردئیے۔ کیونکہ سیاسی چپقلشوں پر لا یعنی گفتگو سے جن کے خاتمے کا ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا عوامی مسائل زیادہ اہم ہوتے ہیں اور ہمیشہ مجھے گفتگو عوام سے ہے۔

متعلقہ خبریں