ایک تلخ حقیقت

ایک تلخ حقیقت

حال ہی میں ملک کی اعلیٰ ترین سول سروس، سی ایس ایس، کے تحریری امتحان کے رزلٹ کا اعلان کیا گیا ہے جس میں صرف دو فیصد امیدوار ہی کامیاب قرار پائے۔ اس مایوس کن رزلٹ نے ملک میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے ۔ دوسری جانب اس موضوع سے مختلف لیکن کسی حد تک مماثلت رکھنے والے ایک واقعے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک کی خراب گورننس پر بیان دیتے ہوئے پاکستان کی جمہوریت کو ' بادشاہت' قرارد یا ہے۔ اب ہم پہلے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں سول سروس کے لئے واقعی اعلیٰ ترین دماغ اور بہترین خصوصیات کے حامل افراد کی ضرورت ہے؟ یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ ورزش کرنے سے انسانی اعضا مضبوط ہوتے ہیں اور سستی کی وجہ سے انسان کاہل اور لاغر ہو جاتا ہے۔ یہی مثال عقل و دانش کے بارے میں بھی دی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی اعلیٰ دماغ دانشور سول سروس میں شمولیت اختیار کرے تو ہمار اسسٹم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جائے۔ہمارا موجودہ نظام سول سرونٹ(مستقل ایگزیکٹیو) سے زیادہ سیاست دانوں (عارضی ایگزیکٹیو)کو ترجیح دیتا ہے۔ اس لئے موجود نظام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی سول سروس میں ذہین لوگوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس نظام میں ذہین سے ذہین شخص کی صلاحیتوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے۔ یہاں پر ہم پالیسی سازی کی مثال سامنے رکھتے ہیں۔ ہمارے ملک میں سول سرونٹ کو پالیسی سازی کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔ ٹائون پلاننگ اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی سیاست دانوں کی خواہشات کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ کوئی بھی سول سرونٹ اپنی طرف سے بہت منصوبے بنا سکتا ہے لیکن ان منصوبوں پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں ہوگا جب تک کسی سیاست دان کی طرف سے منظوری نہیں ملے گی کیونکہ ہمارے نظام میں سیاسی فوائد حاصل کرنے کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔جہاں تک خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو حکومت بھی اس حوالے سے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت میں خارجہ پالیسی کا قلمدان وزیرِ اعظم خود سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کی مشاورت کے لئے خارجہ پالیسی کے دو سینئر مشیر بھی موجود ہیں لیکن حکومت خارجہ پالیسی کے معاملات میں زیادہ بااختیار نظر نہیں آتی۔ موجودہ دورِ حکومت میںپاکستان ریلوے کو تبدیل کرنے اور منافع بخش بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ اگر ان دعوئوں کو سچ مان لیا جائے تو کیا ریلوے میں ا نقلاب لانے میں سول سرونٹس نے کوئی کردار ادا کیا ہے ؟جس کا جواب ہے 'نہیں'۔ ریلوے کے محکمے میں جو چیز اس حکومت نے تبدیل کی ہے وہ ریلوے کا وزیر ہے۔ ہمارے ملک کی نئی نسل کو مستقل سرکاری ملازمت کی بجائے پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں پر وہ اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کر سکیں اور ملک کے لئے ریونیو حاصل کرنے کا باعث بن سکیں۔ ہمیں نئی نسل کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں نئی دریافتیں کرنے اور ترقی یافتہ ممالک سے تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینی ہوگی تاکہ وہ پاکستان کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی ماڈلز بناسکیں ۔اس کے علاوہ ہمیں اپنی نئی نسل کو صحافت کا پیشہ اپنانے کی ترغیب دینی ہوگی جہاں پر وہ صرف حقائق کی روشنی میں رپورٹنگ کرسکیں ۔ لیکن یہاں پرمیں اپنے الفاظ واپس لینا چاہوں گا کیونکہ میڈیا میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خیال کچھ زیادہ مناسب نہیں لگ رہا۔ اس بات سے قطع نظر کہ سرل المیڈا کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ کے معاملے کی تحقیق کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں، کسی بھی چھوٹے میڈیا ہائوس سے تعلق رکھنے والا صحافی مستقبل میں اس طرح کے واقعے کی رپورٹ کرنے سے باز رہے گا۔اس لئے میرا نہیں خیال کہ پاکستان کی نئی نسل بااُصول صحافت کو اپنا ہدف بناتے ہوئے صحافت کا پیشہ اپنائے۔ اگر یہ پیشہ اپنانا ہے تو پھر کہیں نہ کہیں اپنے اور صحافت کے اصولوں کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا۔ہمارے ملک میں عموماً اوسط درجے کے کاموں اور اوسط صلاحیت کے حامل افراد کو خوش آمدید کہا جاتا ہے ۔ان حالات میں ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس سول سرونٹ کے ساتھ حکومت کی طرف سے کیا سلوک کیا جاتا ہوگا جو حکومتی احکامات کی تعمیل سے انکار کرتا ہوگا۔آخر میں ، ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے ملک میں سول سروس کا امتحان دینے والے امیدواروں کا معیار ملکی جمہوریت کی طرح زوال کا شکار ہے، اگرچہ اس جمہوریت کو آمریت کہا جانا زیادہ بہتر ہوگا۔ اس طرح کی حالات کسی بھی ملک میں 'برین ڈرین' کا سبب بنتے ہیں کیونکہ کسی بھی آمریت میں ایسے افراد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی جو باصلاحیت ہوں اور اپنی ذاتی رائے رکھتے ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو اس بات کی سمجھ آچکی ہے اور اب بہت کم ذہین اور باصلاحیت افراد ہی سول سروس میں شامل ہونے کی خواہش مند نظر آتے ہیں جو رزلٹ سے صاف ظاہر ہے۔ جہاں تک سول سروس میں اصلاحات کی بات کی جائے دور دور تک اصلاحات کا امکان نہیں ہے اس لئے حکومت کو ایسے اقدمات کرنے ہوں گے جن سے ہمارے نوجوانوں کو دیگرشعبوں کا حصہ بننے اور ملکی ترقی کے لئے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں