بادشاہ وقت کی ذمہ داریاں

بادشاہ وقت کی ذمہ داریاں

نومبر کا مہینہ شروع ہوگیا ہے لیکن ابھی تک بارش کا دور دور تک پتہ نہیں ہے جب بارش کو آنے میں تاخیر ہوجائے تو بڑے بوڑھے کہتے ہیں خشکی کی وجہ سے دھول بہت بڑھ گئی ہے سب چھوٹے بڑے کھانس رہے ہیں اگر ایک آدھ بارش ہوجائے تو یہ دھول بیٹھ جائے گی بے چین طبیعتوں کو چین آجائے گا۔ سردی کا موسم ہمیں بہت سی باتوں کی وجہ سے اچھا لگتا ہے ایک تو اس میں دن بہت چھوٹے ہوتے ہیں راتیں طویل ہوتی ہیں ان میں بہت سا مطالعہ کیا جاسکتا ہے لکھنے پڑھنے کے لیے یہ وقت بہترین ہوتا ہے لحاف میں گھس کر مطالعہ کرنے کا لطف اہل ذوق خوب جانتے ہیںان دنوں ہمارے ہاتھ کوئی اچھی سی کتاب لگ جائے تو ہمارے وارے نیارے ہوجاتے ہیں اور اگر کتاب اپنے قاری کو حیران کرنے کا ہنر بھی رکھتی ہو تو پھر کیا کہنے!آج کل ایسی ہی ایک کتاب ہمارے ہاتھ لگی ہوئی ہے جسے ہم مزے لے لے کر پڑھ رہے ہیں کتاب کیا ہے طلسمات کا ایک جہان ہے حضرت انسان کی کہانی ہے حیات انسانی کا طویل سفر مکمل جزئیات کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔ آج کا انسان مہذب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اپنے حکمرانوں کا احترام بھی کرتا ہے اگرچہ باادب باملاحظہ والے زمانے تو گزر چکے ہیں جب بادشاہوں کو جھک کر سات سلام کیے جاتے تھے بات کرنے سے پہلے بڑی باقاعدگی کے ساتھ یہ جملہ بولا جاتا تھا : بادشاہ سلامت! اگر جان کی امان پائوں تو کچھ عرض کروں ۔ اور اگر بادشاہ کا موڈ اچھا ہوتا تھا تو وہ بڑی ادائے بے نیازی کے ساتھ کہتا تھا : امان ہے ۔ اس کا فائدہ یہ تھا کہ سوال کرنے والے کی جان محفوظ ہوجاتی تھی اب اگر کسی کے منہ سے کوئی ایسا جملہ نکل جائے جو کسی بھی حوالے سے ملک و قوم کے لیے باعث نقصان ہو تو اسے اپنے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں وہ بھی جان بچی سو لاکھوں پائے لوٹ کے بدھو گھر کو آئے کے مصداق دم دبا کر خاموشی سے اپنی دنیا میں واپس لوٹ جاتا ہے ۔اسی طرح کی اور بھی بہت سی مراعات آج کل کے بادشاہوں کو حاصل ہیںوہ اپنے اثاثوں میں بے تحاشہ اضافہ کرسکتے ہیں ان پر اس حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں مگر یہ سوالات صرف سوالات ہی رہتے ہیں ان کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنا آج تک نصیب نہیں ہوا ۔ ہمارے یہاں تو یہ بھی ایک طرفہ تماشا ہے کہ آپ بادشاہت کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی کرسکتے ہیںسرکاری سہولتوں کی مدد سے ، سرکاری خزانے کی مدد سے اپنے کاروبار کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دیتے رہیں بادشاہوں سے پوچھنے والا کون ہے ؟ اور اگر کوئی پوچھنے کی جرات کر بیٹھے تو اسے ناکوں چنے چبوا دیں ۔سرکاری مشینری آپ کے اختیار میں ہے پولیس فورس کو دھڑلے سے استعمال کیجیے آنے والا کل کیا لے کر آئے گا ؟ اس کی فکر نہ کیجیے وطن عزیز کی سلامتی دائو پر لگا دیں کوئی پروا ہ نہیں بس آپ کی کرسی سلامت رہے آپ کے کاروبار ترقی کرتے رہیں آپ کی مونچھ اونچی رہے باقی جو کچھ بھی ہوتا ہے ہوتا رہے ! یہ ساری باتیں ہمارے آج کے مہذب دور میں ہورہی ہیں!کالم کے آغاز میں نرم گرم لحاف میں بیٹھ کر جس کتاب کو پڑھنے کی بات ہوئی تھی وہ کتاب ہمارے لیے اس لیے حیران کن ہے کہ اس میں اس وقت کے حکمرانوں کا ذکر ہے جب لوگ تہذیب یافتہ نہیں تھے تعلیم کا چلن نہیں تھا لوگ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے ان کے عجیب و غریب قسم کے رسم و رواج تھے توہم پرستی کا دور دورہ تھا لیکن اس سب کچھ کے باوجود جو چیز چونکا دینے والی ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت جو قبیلے کا سردار ہوتا تھا اس کا بڑی سختی سے احتساب کیا جاتا تھا لوگ اسے اپنی جان ومال کا محافظ سمجھتے تھے اور اگر اس حوالے سے وہ کسی بھی قسم کی کمزوری کا مظاہر ہ کرتا تھا تو اس کو جان کے لالے پڑ جاتے تھے لوگ اس کی تکا بوٹی کردیتے تھے ! کتاب کا نام ہے The Golden Bough(یعنی شاخ زریں)اس میں انسانی تاریخ کے رسوم و توہمات کی ایک مکمل داستان قلمبندکردی گئی ہے۔ اس ایک پیراگراف کو پڑھ کر آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس وقت کے لوگ اپنی تمام تر جہالت کے باوجود بادشاہوں، سرداروں، مذہبی پیشوائوں کا احتساب کرنا جانتے تھے۔ جاپان اور ویسٹ افریقہ کے قبائلی دنیا کو بادشاہوں کا مرہون منت سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ ان کا سردار بہت سی برکات اور کرامات کا حامل ہے اگر قبیلے پر رحمت باران کا نزول باقاعدگی سے ہورہا ہے ان کے کھیت سر سبز و شاداب ہیں تو یہ بھی بادشاہ یا سردار کی برکت ہے ۔لوگ بارش اور دھوپ جیسی نعمتیں بھی بادشاہ کی مہربانی اور برکت سمجھتے تھے اور اس کا باقاعدہ شکریہ ادا کرتے تھے اور اگر فطرت کی ان مہربانیوں میں کسی بھی قسم کی کمی واقع ہوجاتی تو لوگ اسے بادشاہ کی کمزوری پر محمول کرتے تھے ۔ ان کے نزدیک بادشاہ یا سردار کی زندگی صرف اور صرف عوام کے لیے تھی اگر وہ اپنے فرائض سے غفلت برت رہا ہے یا اس قابل نہیں رہا کہ عوام کی خدمت کرسکے تو پھر اس کی زندگی کا ہونا نہ ہونا بے معنی ہے!اور جب وہ ان فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہتاہے اپنے لوگوں کو سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہوجاتا ہے اس کا قبیلہ مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے اور عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اب سردار اس عہدے کے قابل نہیں رہا تو پھر وہ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔اس کا جتنا احترام کیا جاتا تھا اب اس سے بڑھ کر اس سے نفرت کی جاتی ہے ۔یہ تھا ان وحشیوں کا شعور جن کی نسلوں کو مہذب ہونے میں کئی صدیاں لگیں!لیکن سو سوالوں کا ایک سوال یہ ہے کہ کیا آج ہم مہذب ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں؟ 

متعلقہ خبریں