’صحافی مارو گے تو سچ تک کیسے پہنچو گے‘

’صحافی مارو گے تو سچ تک کیسے پہنچو گے‘

دنیا بھر میں گذشتہ ایک دھائی کے دوران سات سو سے زائد صحافی اپنے پیشے کی وجہ سے قتل ہوئے۔ ان میں سے سو صحافیوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔

ان میں سے اکثر یعنی تقریباً ستانوے فیصد مقدمات میں آج تک مجرموں کو کوئی سزا نہیں ہوئی۔ اس کی شاید کسی کو کبھی فکر بھی نہیں رہی۔ بعض لوگ کہیں گے کہ جہاں دنیا جہاں کے لوگ شدت پسندی اور فرقہ ورانہ تشدد کا شکار ہوئے وہیں اگر چند صحافی بھی مارے گئے تو کیا ہوا۔

صحافیوں کو بغیر کسی خوف کے مسلسل نشانہ بنانے کا منفی پہلو یہ ہے کہ لوگ سچ تک کیسے پہنچیں گے؟ کھل کر بات کیسے کر پائیں گے؟ حکومت اور بااختیار لوگوں کے کرتوت کیسے عیاں کر پائیں گے؟

پاکستان میں تو صحافیوں کے مقدمات کو معمول سمجھ کر حکومت میں شاید کسی کو زیادہ فکر نہیں لیکن عالمی سطح پر اسے ایک حظرناک رجحان مان کر اس کے تدارک کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دو سال پہلے اقوام متحدہ نے دو نومبر کو صحافیوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کے اظہار کے لیے عالمی دن منانا شروع کیا ہے۔ یہ دوسرا سال ہے لیکن درحقیقت صحافیوں کے قاتلوں تک پہنچنے میں کوئی زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اس سال یہ عالمی دن ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی اے) نجی نیوز ایجنسی کے سینر صحافی اور فرنٹیر پوسٹ کے سابق بیورو چیف ملک اسماعیل خان کے اسلام آباد میں قتل کو دس سال مکمل ہوئے ہیں۔

انھیں نامعلوم افراد نے اکتیس اکتوبر، دو ہزار چھ کو آدھی رات کو قتل کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق ان کی لاش اگلے روز یعنی یکم نومبر کو ان کے دفتر کے قریب گرین بیلٹ پر پڑی ملی۔ آج وہاں نشنل پریس کلب کی عمارت قائم ہے۔

پولیس تھانہ کوہسار نے اس واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی لیکن اس کے بعد کی ایک دہائی میں قاتلوں کو پکڑا نہیں جاسکا۔

اسلام آباد پولیس قاتلوں کو تلاش کرنے میں ناکام رہی اور فیڈرل انوسٹیگشن انجیسی ایف آئی اے کی جانب سے کی جانے والی انکوئری اور محکمہ پولیس کو جمع کروائی گئی رپورٹ کے باوجود کیس میں ملوث افراد کی پکڑنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اسماعیل خان کے خاندان کو بھی ایف آئی اے کی رپورٹ پڑھنے تک نہیں دی گئی۔

ان کے چھوٹے بھائی عبدالوحید خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک اسماعیل کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی کسی سے کوئی ذاتی تنارعہ تھا۔ ’ صحافی برادی میں انھیں بہت ہی مہذب اور اچھا مقام رکھنے والے شخص کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ایک اچھے صحافی ہونے کے ناطے انھوں نے ہمیشہ پاکستان میں آزادی صحافت کی مثبت تصویر پیش کی۔‘

محمد اسماعیل خان نے 1976 میں اپنے آبائی شہر اٹک سے روزنامہ اخبار کے نامہ نگار سے اپنے کیریر کا آغاز کیا تھا۔

اسلام آباد اور پشاور میں مختلف میڈیا تنظیموں کے ساتھ بطور ایڈیٹر اور بیورو چیف کام کرتے رہے۔ عبدالوحید کے مطابق سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے حوالے سے دی جانے والی خبروں، ایم آر ڈی اور دوسری سیاسی جدوجہد پر کی جانے والی رپورٹنگ اور پاکستان کے خارجی اور دفاعی معاملات پر دی جانے والی خبر وں پر وہ مہارت رکھتے تھے۔

’افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی سال جنوری میں ان کی بیوی انتقال کر گئیں۔ ان کی والدہ اور بھائی بھی دو ہزار تیرہ میں انصاف کا انتظار کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے۔‘

اسماعیل خان کا قتل محض ایک قتل نہیں بلکہ اگر مناسب تحقیقات ہوتیں اور قاتل پکڑے جاتے تو شاید باقی کے کئی صحافیوں کی زندگیاں بچائیں جا سکتی تھی۔

صحافیوں کے دشمن پر واضح ہوتا کہ ایسی کسی حرکت کی سزا سے وہ بچ نہیں پائیں گے۔ لیکن خوف کے ماحول میں آزاد صحافت بھی ایک چیلنج ہے۔

متعلقہ خبریں