ہلیری کلنٹن کا ڈونلڈ ٹرمپ پر خواتین سے بدتمیزی کا الزام

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے خواتین کی شکل و صورت پر تنقید کرنے پر اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کو 'بداخلاق' قرار دیا ہے۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی خواتین کو 'رسوا کرنے، بے عزت کرنے اور زیادتی کرنے' کی 20 سالہ تاریخ ہے۔

ٹرمپ کو ہلیری پر ’برتری‘، امیدواروں کی مہم میں تیزی

الیکشن ڈائری: پستی کی نئی گہرائیوں کو چھوتی ’فائٹ ٹو فنش‘

دوسری جانب رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو 'کرپٹ' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ 'امریکہ میں صحت کے نظام کو ہمیشہ کے لیے برباد کر دیں گی۔'

الزامات کا یہ تبادلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدارتی انتخاب میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور ایک نئے نیشنل پول کے مطابق پہلی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک پوائنٹ کی برتری حاصل ہے۔

ریاست فلوریڈا میں سابق مس یونیورس الیشیا مچاڈو کے ہمراہ سٹیج پر خطاب کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ انھوں نے 'بہت پہلے ابتدائی سکول میں سیکھ لیا تھا کہ لوگوں کو بے عزت کرنا ٹھیک نہیں ہے۔'

خیال رہے کہ الیشیا مچاڈو نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ان کا وزن بڑھ جانے پر 'مس پگی' کہا تھا۔

سابق مس یونیورس الیشیا مچاڈو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 'ظالم' قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے رپبلکن پارٹی کے امیدوار کے ان جملوں کے ردعمل میں کئی برسوں تک 'کھانا نہ کھانے کی بیماری' کا سامنا کیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے اوہائیو میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'رپبلکن امیدوار نے اپنی زندگی خواتین کو سور اور کتے اور بے عقل کہتے ہوئے گزاری ہے۔'

ڈویموکریٹس کی جانب سے ایک نیا ٹی وی اشتہار بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پرانی ویڈیو شامل کی گئی جس میں وہ کہتے ہیں کہ 'اپنی بیوی کو کام پر بھیجنا بہت خطرناک ہے۔'

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ سنہ 2005 میں ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد رپبلکن امیدوار کو خواتین کو ہراساں کرنے کے متعدد الزامات کا سامنا ہے۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انھوں نے انتخاب کے بعد اس میں شامل افراد پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسکونسن میں خطاب کرتے ہوئے افورڈ ایبل کیئر ایکٹ جسے اوباما کیئر کا نام بھی دیا گیا ہے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ سہولت کم آمدن والے کنبوں میں تیزی سے غیرمقبول ہو رہی ہے اور ان کے خیال ان خاندانوں کو انھیں ووٹ دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں