وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس پر سماعت ملتوی

وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس پر سماعت ملتوی

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے پاناما لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم اور دیگر افراد کی نا اہلی سے متعلق دائر ریفرنس کی سماعت اس وقت تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک اس معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آجاتا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) اور عوامی مسلم لیگ کی جانب سے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، کیپٹن (ر) صفدر اور حمزہ شہباز کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹارئرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں فل کمیشن نے ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو وزیر اعظم کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ پاناما کے معاملے پر سپریم کورٹ سماعت کررہی ہے لہٰذا فیصلہ آنے تک الیکشن کمیشن کو سماعت روک دینی چاہیے۔

اس پر حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی ائی نے اعتراض اٹھایا اور موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ میں جاری کیس میں وہ فریق ہی نہیں لہٰذا الیکشن کمیشن سماعت جاری رکھے۔

پی ٹی ائی کے وکیل حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے سماعت روکنے کا کوئی حکم نہیں دیا اور الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی کارروائی جاری رکھے اور ان ریفرنسز پر فیصلہ سنائے۔

الیکشن کمیشن نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا کہ ان ریفرنس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک مزید کارروائی نہیں کی جائے گی۔

اسی طرح الیکشن کمیشن نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر تین درخواستوں کو خارج کردیا۔ پی ٹی آئی کے ان دونوں رہنماوں کے خلاف درخواستیں ذاتی حیثیت میں دائر کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس پر الیکشن کمیشن نے ان دونوں افراد سے 16نومبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ سپیکر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر الیکشن کمیشن کو 90 روز میں فیصلہ کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں