ویسٹ انڈیز کی ٹیم ڈگمگا کر سنبھل گئی، جیت سے 39 رنز دور

ویسٹ انڈیز کی ٹیم ڈگمگا کر سنبھل گئی، جیت سے 39 رنز دور

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم شارجہ ٹیسٹ میں ڈگمگانے کے بعد سنبھلنے میں کامیاب ہو گئی اور اسے جیت کے لیے صرف 39 رنز درکار ہیں اور اس کی پانچ وکٹیں باقی ہیں۔

153 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز نے چوتھے دن کھیل کے اختتام پر 114 رنز بنا لیے تھے۔

شارجہ: پاکستان کو پانچ وکٹیں، ویسٹ انڈیز کو 39 رنز درکار

پاکستان شارجہ ٹیسٹ بچانے کی کوشش میں مصروف

چار نصف سنچریاں لیکن پاکستان بڑے سکور میں ناکام

پہلی اننگز میں ناقابل شکست بنانے والے کریگ بریتھ ویٹ ایک بار پھر ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے 44 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ ان کے ساتھ ڈورچ 36 رنز پر کریز پر موجود تھے اور یہ دونوں قیمتی47 رنز کا اضافہ کر چکے ہیں۔

اگر ویسٹ انڈیز نے یہ ٹیسٹ میچ جیت لیا تو یہ 14 ٹیسٹ میچوں میں اس کی پہلی جیت ہوگی۔ اس نے آخری مرتبہ مئی سنہ 2015 میں انگلینڈ کے خلاف برج ٹاؤن ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ جیسن ہولڈر کی بھی بحیثیت کپتان پہلی جیت ہوگی۔

ویسٹ انڈیز نے جب ہدف کا تعاقب شروع کیا تو پاکستان کی خراب سلپ فیلڈنگ نے لیون جانسن کو دو مرتبہ اپنی وکٹ بچانے کا موقع فراہم کیا۔

ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کے پہلے ہی اوور میں محمد عامر کی گیند پر تیسری سلپ میں مصباح الحق نے آسان کیچ ڈراپ کردیا۔

جانسن کا دوسرا کیچ پہلی سلپ میں سمیع اسلم نے ڈراپ کیا اس بار بھی بدقسمت بولر محمد عامر تھے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کے دورے میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں بھی محمد عامرکی بولنگ پر فیلڈرز نے سات کیچز ڈراپ کیے تھے۔

پاکستان کو پہلی کامیابی چائے کے وقفے کے بعد 29 کے سکور پر ملی جب یاسر شاہ نے جانسن کو ایل بی ڈبلیو کردیا وہ 12 رنز بنا سکے۔

یاسر شاہ نے ویسٹ انڈیز کو دوسرا دھچکہ اس وقت پہنچایا جب انھوں نے ڈیرن براوو کی اہم وکٹ تین رنز کے انفرادی سکور پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے تعاون سے حاصل کی ۔

مارلن سیمیولز بھی یاسر شاہ کےجال میں پھنسے اور ذوالفقار بابر کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

اس مرحلے پر یاسر شاہ 13 گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کر چکے تھے۔

یاسر شاہ کے بعد وہاب ریاض بھی ایکشن میں آئے اور انھوں نے پہلے بلیک ووڈ اور پھر روسٹن چیس کو آؤٹ کردیا۔

ویسٹ انڈیز کی نصف ٹیم 67 رنز کے سکور پر پویلین کا رخ کر چکی تھی لیکن اس کے بعد کریگ بریتھ ویٹ ایک بار پھر پاکستانی بولرز کے لیے مسئلہ بن گئے۔

اس سے قبل پاکستانی بیٹسمینوں کی بے صبری اور غیرذمہ دارانہ بیٹنگ کا سلسلہ چوتھے دن بھی جاری رہا اورپوری ٹیم سکور میں مزید 121 رنز کا اضافہ کرکے 208 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

کھانے کے وقفے پر پاکستان کا سکور پانچ وکٹوں پر 159 رنز تھا لیکن دوسرے سیشن میں پانچ وکٹیں سکور میں صرف 49 رنز کا اضافہ کر سکیں۔

پاکستانی ٹیم محفوظ پوزیشن تک پہنچنے کے لیے اظہر علی اور سرفراز احمد سے غیر معمولی بیٹنگ کی توقع کر رہی تھی جو پوری نہ ہوسکی۔

ان دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ کی شراکت 86 رنز پر اس وقت ختم ہوئی جب سرفراز احمد 42 رنز بناکر بشو کی گیند پر سلپ میں براوو کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

سرفراز اس گیند کو باآسانی چھوڑ سکتے تھے لیکن کھیلنے کی غلطی کر کے اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔

محمد نواز اظہر علی کے ساتھ 41 رنز کا اضافہ کرنے کے بعد 19 رنز پر بشو کی گیند پر جانسن کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

اس سیریز میں محمد نواز بحیثیت بیٹسمین قابل ذکر کارکرگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اظہرعلی کا 91 رنز پر آؤٹ ہونا پاکستانی ٹیم کے لیے زبردست دھچکہ تھا۔

اظہر علی نے بشو کی گیند پر پہلے سوئپ شاٹ کھیلنے کا ارادہ کیا جسے آخری لمحے بدل کر وہ گیند کو سلپ میں کھیلے اور براوو کو کیچ دے گئے۔

ان کے آؤٹ ہونے پر پاکستان کا سکور سات وکٹوں پر 189 تھا۔

محمد عامر جس گیند پر باؤنڈری پر کیچ ہونے سے بچے اسی پر وہ رن آؤٹ ہوگئے۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان ہولڈر جنھوں نے تیسرے دن 17 گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کی تھیں، چوتھے روز پاکستان کی آخری دو وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔

انھوں نے وہاب ریاض کو جانسن کے ہاتھوں کیچ کرایا اور پھر یاسر شاہ کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔

ہولڈر نے صرف 30 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں جو ان کے ٹیسٹ کریئر کی بہترین انفرادی بولنگ ہے۔

اس سے قبل انھوں نے گذشتہ سال انگلینڈ کے خلاف برج ٹاؤن میں 15 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

متعلقہ خبریں