نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق الزامات کی باقاعدہ سماعت کل

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمعرات سے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس میں سامنے آنے والے الزامات کی سماعت باقاعدہ طور پر شروع ہو رہی ہے۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کرتے ہوئے فریقین کو تین نومبر تک ضوابطِ کار جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کمیشن کے قیام پر یہ تحریری یقین دہانی طلب کی تھی کہ فریقین تحقیقاتی کمیشن کے فیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے۔

اس سلسلے میں گذشتہ ہفتے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔

یہ لارجر بینچ پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ حزبِ مخالف کی دیگر جماعتوں جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

خیال رہے کہ اس معاملے میں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے گذشتہ سماعت پر وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں سمیت دیگر متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا تھا۔

اس سلسلے میں نوٹس کے اجرا کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ عدالتِ عظمیٰ میں اس معاملے پر کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور مکمل شفافیت پر یقین رکھتے ہیں اور 'عوام کی عدالت تو پے در پے فیصلے صادر کر رہی ہے، بہتر ہوگا کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی کر لیا جائے۔'

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس معاملے میں اب تک اپوزیشن کی جانب سے مسلسل منفی رویہ سامنے آ رہا ہے اور حکومت کی نیک نیتی پر مبنی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے شفاف اور بے لاگ تحقیقات کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں