''جمہوریت کے ساتھ''

''جمہوریت کے ساتھ''

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی آرمی چیف سے ملاقات کے بعد مختلف ٹاک شوز میں مختلف مبصرین اور کالم نگار اس ملاقات کے موضوع یا موضوعات پر تبصرے نشر اور شائع کر رہے ہیں۔ فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے محض اتنی خبر آئی کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے۔ اگلے روز ایک بلین درخت لگانے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں صحافیوں نے عمران خان سے پوچھ ہی لیا کہ آرمی چیف سے ان کی کیا گفتگو ہوئی اور انہوں نے محض ایک جملے میں اس سوال کا جواب دیا۔ انہوں نے جنرل صاحب کے بارے میں اپنا تاثر بیان کیا اور کہا کہ وہ جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس تاثر کو انہوں نے قوم کے لیے خوش خبری قرار دیا۔ ان کے اس جواب سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ایک گھنٹے کی اس ملاقات میں کن کن موضوعات پر کیا کیا باتیں ہوئیں۔ اس لیے یہ ملاقات بدستور صحافیانہ انداز ہ کاری کا موضوع ہے۔ جہاں تک عمران خان کے جواب کی بات ہے انہوں نے کہا ہے کہ قوم کے لیے خوش خبری یہ ہے کہ آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جمہوریت ہمارے ہاں ایسا لفظ جس کے معنی ہر شخص کے لیے مختلف نظر آتے ہیں۔ عمران خان کس کو جمہوریت کہتے ہیں ' انہوں نے یہ واضح نہیں کیا۔ البتہ ایک ٹی وی شو کے آغاز میں ان کا یہ جملہ روزانہ سنائی دیتا ہے کہ جمہوریت کو نواز شریف کی بادشاہت سے خطرہ ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف جمہوری طریق کار کے مطابق پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ہیں تو اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ ان کی پالیسیوں اور ترجیحات متنازع ہو سکتی ہیں لیکن رواں سال انتخابات کا سال ہے۔ اس لیے ان کی پالیسیاں اور ترجیحات پر بحث میں گرم بازاری کا عنصر نمایاں ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں ہونی چاہیے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ تمام سیاسی عناصرکو ساتھ لے کر چلنے کو جمہوریت کا حسن سمجھتے ہیں۔ لیکن عمران خان یہ طعنہ دے رہے ہیں کہ انہوں نے آئندہ انتخابات میں برسراقتدار رہنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ ڈیل کر لی ہے اور اس ڈیل کے تحت ہی ماڈل ایان علی بیرون ملک چلی گئی ہے' ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت ہو گئی ہے اور سندھ کے سابق وزیر شرجیل میمن جن پر کئی ارب روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں وطن واپس آ گئے ہیں۔ یوں بھی عمران خان کا نواز شریف کی حکمرانی پر سب سے بڑا الزام کرپشن کی سرپرستی ہے۔ اسی بنا پر وہ وزیر اعظم نواز شریف کی موجودہ حکومت کو جمہوری قرار نہیں دیتے ۔ اس کے بعد ان کے اس جملے کے معنی پر بات کرنا کہ جنرل باجوہ جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر عمران خان اگر وزیر اعظم نواز شریف کے دور کو جمہوری نہیں سمجھتے تو ان کے مطابق جنرل باجوہ کس جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ یہ بھی زیر ِ غور رہنا چاہیے کہ قوم کو یہ خوش خبری کہ آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں ' صرف عمران خان نے دی ہے۔ کسی نے ان کی تائید نہیں کی۔ البتہ مسلم لیگ ن کی ترجمان وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کا ردِ عمل عمران خان کے بیانات پر سابقہ تبصروں سے مختلف نظر آیا ہے۔ انہوں نے یکایک عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات کی تعریف کر دی اور کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے عمران خان وہ تمام ملاقاتیں بھی کریں جو ملک کی بہتری کے لیے ہوں۔ مریم اورنگزیب نے عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات کو ملک کے لیے بہتری قرار دیا ہے۔ یہ ان کے عمران خان کے بارے میں رویہ ایک واضح تبدیلی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور رہنی چاہیے کہ یہ ملاقات آرمی چیف کے ایما پر ہوئی تھی جیسے کہ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ مریم اورنگزیب کوکسی قدر اندازہ ہے کہ ملاقات میں گفتگو کن موضوعات پر کیاہوئی تھی۔ دوسری بات جو مریم اورنگزیب کے ردِ عمل سے ظاہر ہوئی ہے کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے عمران خان کی اور بھی ملاقاتوں کی توقع رکھتی ہیں۔ یہ ملاقاتیں کن شخصیات سے متوقع ہیں اس کا اندازہ شاید آئندہ چند روز میں ہو جائے گا اگر عمران خان نے مریم اورنگزیب کی توقع کے مطابق مزید ملاقاتیں کیں۔ مختلف تبصرہ نگار آرمی چیف سے عمران خان کی ملاقات کو پاناما کیس کے فیصلے سے بھی جوڑ رہے ہیں جو کہتے ہیں چندایک روز میں متوقع ہے۔ اس حوالے سے چند روز پہلے اس خبر نے توجہ حاصل کی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف آئندہ چند روز لاہورمیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزاریں گے۔ پھر یہ خبر آ گئی کہ وزیر اعظم کے گردے میں ایک چھوٹی سے پتھری دریافت ہو گئی ہے جو آسانی سے قابلِ علاج ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ اس دوران اہم شخصیات کی ملاقاتوںکی خبر نہیں آئی۔ البتہ یہ ضرور ہے ان کے بھائی پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ دو ایک روز پہلے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کی ملاقات کا ذکر ضرور آ رہا ہے۔ لیکن اسے کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ایک معاصر کے مطابق منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ان کی مسلم لیگ قبل از وقت انتخابات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے اتفاقِ رائے ہونا ضروری ہے کیونکہ اس طرح سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں بھی توڑنا پڑیں گی ۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ اب تک انتخابی اصلاحات کے بارے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ یہ انتخابات کا سال ہے اس میں سیاسی خبروں میں عوام اور اہل سیاست دونوں کی دلچسپی عام حالات کی نسبت زیادہ ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات میں اور شہباز شریف سے ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات میں ملک کی عمومی صورت حال پر بات ہوئی ہو گی اور اس گفتگو سے عمران خان یہ تاثر لے کر آئے ہوں گے کہ آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

متعلقہ خبریں