جمعیت علمائے اسلام کا صد سالہ اجتماع

جمعیت علمائے اسلام کا صد سالہ اجتماع

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اضاخیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت کا صد سالہ اجتماع مسلمانوں کے اتحاد کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ ان کے اس بیان سے یہ خیال تقویت پاتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ اجتماع میں عالم اسلام کو درپیش باہمی تنازعات اور مسائل پر غور کیا جائے گا اور اس اجتماع میں شریک علماء عالم اسلام کے علماء اور عامة المسلمین کے لیے ایسے رہنما اصول وضع کریں گے جن کی روشنی میں مسلمان ملکوں کے باہمی تنازعات امن اور بھائی چارے کی فضا میں گفتگو کے ذریعے طے پا جائیں۔ باہمی مسائل مسلمان حکمرانوں اور حکومتوں کے اعلیٰ کارپردازوں کی سوچ میں اختلاف کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ حکمران خواہ کتنے ہی خودمختار سمجھے جائیں مطلق العنان نہیں ہوتے بلکہ اپنے فیصلوں کے مقبولِ عوام ہونے کا خیال رکھتے ہیں یا فیصلوں پر پہنچنے سے پہلے ان کے مضمرات کو مقبولِ عوام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اسلامی معاشروں کا خاصہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے تصورات مشترکات کے طور پر غیر متنازع ہیں ۔ نیکی اور برائی کا تصور ' عدل و انصاف کے لیے احترام' عذاب و ثواب کا تصور' خاندان کی حرمت اور فرد کے شرف انسانی کا تصور ' اخوت و مساوات کی تعلیمات' دعوت و تبلیغ کی احتیاطیں اسراف اور معیشت کے بارے میں تصورات سبھی اسلامی معاشروں میں کم و بیش ایک ایسے ہیں۔ اس لیے ہم دعویٰ رکھتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کے باوجود آج عالم اسلام میں اختلافات کیوں پائے جاتے ہیں اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے اور جیسا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے دنیا بھر میں مسلمانوں کے اتحاد کے لیے راہیں کھولنی چاہئیں۔ مولانا نے کہا ہے کہ'' دہشت گردی کی اسلام میں اجازت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلح جدوجہد غیر شرعی ہے ۔ ہمارا مقصد پرامن جدوجہد اور دعوت دینا ہے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا دنیا کے تصور کو بدلنا ہوگا۔ اسلام کا عسکریت پسندی سے کوئی واسطہ نہیں ۔ علماء کا یہی بیانیہ ہے اور کسی نئے بیانیہ کی ضرورت نہیں۔'' جہاں تک مولانا کے بیان کردہ موقف کا تعلق ہے اس سے سرمو اختلاف کی گنجائش نہیں لیکن علماء جو عامة المسلمین کی رہنمائی کے ذمہ دار ہیں انہیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ دنیا میں اس موقف کو کیوں تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ غیر مسلم دنیا میں جو تاثر اسلام کے بارے میںمرتسم ہوتا ہے وہ اسلامی ملکوں اور معاشروں کی صورت حال کی بنیاد پر ہی ابھرتا ہے۔ بجا کہ دہشت گردی کی اجازت اسلام میںنہیں اور یہ کہ مسلح جدوجہد غیر شرعی ہے تو پھر داعش' بوکو حرام' الشہاب اور تحریک طالبان پاکستان ایسی تنظیمیں اسلام کے تعارف کے ساتھ کیوں ابھرتی ہیں۔ اگر علماء نے اس فکر کو عام کیا ہوتا کہ اسلام کے نزدیک مسلح جدوجہد غیر شرعی ہے تو مختلف ممالک کے نوجوان جن میں پڑھے لکھے نوجوان بھی شامل ہیں انتہا پسند تنظیموں میں کیسے شامل ہو سکتے تھے۔ علماء کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ عالم اسلام میں اس بیانیہ کو فروغ دیں جو حقیقی اسلامی تعلیمات اور اقدار پر مبنی ہے۔ اور جس کی توثیق اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے سے ہو سکتی ہے۔ اس بیانیہ کے مبنی برحقیقت ہونے کو واضح کریں جس کی بنیاد تصورات ' تاویلات اور زمانہ قبل از اسلام سے چلی آ رہی ہے۔ ایسی روایات پر مبنی بتائی جاتی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جمعیت کے زیر ِ اہتمام یکجا ہونے والے علمائے اسلام کو عالم اسلام کی زبوں حالی پر بھی غور کرنا چاہیے ۔ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے ' میانمار کے مسلمانوں پر جس طرح زندگی تنگ کی جا رہی ہے ۔ فلسطین میںجس طرح اسرائیلی اپنا قبضہ بڑھائے جا رہے ہیں اور ان کے لیے راستے بند کیے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جس طرح مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں قتل اور بے گھر ہو رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں جس طرح مسلمانوں کے لیے زندگی دو بھر بنائی جا رہی ہے ۔ ان موضوعات پر بھی غور کیا جانا چاہیے اور ان مسائل کے حل بھی تجویز کیے جانے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں