دھا نو ں پر پانی پڑ گیا

دھا نو ں پر پانی پڑ گیا

کھلے کھلے چہر ے کے ساتھ عمر ان خان نے پوری قوم کو شادما نی دی کہ آرمی چیف ملک میں جمہو ریت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔وفاقی دارالحکومت اسلا م آباد میں یہ بات انہو ں نے صوبہ پختو نخوا جس کا دارالحکومت پشاور ہے میں کھر بو ں درخت لگا نے کی منعقد ہ تقریب سے خطا ب کر تے ہو ئے کی۔عمر ان خان نے جنرل قمر با جو ہ کے ساتھ اپنی ملا قات کے حوالے سے جمہو ریت کی حما یت کو خوشخبری قرا ر دیا ، خان صاحب نے پا کستان کے سپہ سالار سے ملاقات کے بارے میں جو خوشخبری دی ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے جنرل قمر با جو ہ نے جب سے کما نڈران چیف کا عہد ہ سنبھا لا ہے تب سے کئی مر تبہ اپنے ان زریں خیا لا ت کا اظہا ر کر چکے ہیں ۔ عوا م کو اپنی فوج پر پو را بھر وسہ ہے کہ وہ ملک کے دفاع کی ذمہ داری پو ری کر ے گی اور ما ضی میں ایسی آزمائش میں پوری اتری بھی ہے ۔ جہاں تک عمر ان خان سے ملا قات کے دوران اس خوشخبر ی کا اعادہ کر نے والی بات ہے تو اس کی چیف آف آرمی کو ضرورت ہی نہیں تھی کیو ں کہ وہ ما ضی میں بھی اپنے عزائم کا اظہا ر کر تے رہے ہیں اور قوم کو یقین بھی ہے۔ایو ب خان سے لے کر جنرل ضیا الحق تک اور جنر ل ضیا الحق سے لے کر راحیل شریف تک اسی عزم کا اظہا ر کیا ہے جس کے لیے کسی لیڈر سے ملاقات کی ضرورت محسو س نہیں کی گئی۔ جب بھٹو مرحوم کے خلا ف تحریک چل رہی تھی تو اس وقت بھی جنر ل ضیاء الحق نے فرما یا تھا کہ فوج جمہو ری حکومت کے ساتھ ہے جو ایک منفر د یقین دہا نی تھی ۔ عمر ان خان ایک ایسے نا را ض سیا ست دان ہیں جن کے چہر ے پر کبھی مسکراہٹ نہیں پائی گئی وہ اپنے عوامی جلسو ں میں جس غضب نا ک اند از میں گرجتے ہیں اہل سیا ست اس پر تنقید ہی کر تے چلے آرہے ہیں اور سیا سی رواداری کے اصول بیان کر کے یا د کر اتے ہیں۔عمران خان کو ایک تو اس وقت سر شار دیکھا تھا جب دھر نا کے موقع پر وہ آرمی چیف سے ملا قات کی غرض سے جی ایچ کیو مد عو کیے گئے تھے مگر واپسی پر مایوسی نما یا ں تھی اور اداسی عیا ں تھی ، اب دوسری مر تبہ ان کو شاداںوفرحاں دیکھا ہے جیسے کوئی مراد بر آئی ہو۔ گویا ان کے دھا نو ں پر پانی پڑ گیا ہے ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ سیکو رٹی ادارے ملک کی سلا متی کے ذمہ دار ہو تے ہیں ، ان کا سیا ست سے کوئی تعلق نہیں ہو ا کر تا کسی ادارے کا سربراہ اگر شخصی طورپر سیا ست کرے تو اس کے نتائج کبھی بھی ملک کے لیے بہتر نہیں نکلے ہیں پا کستان تو ان تجر بات سے کئی مر تبہ گزر چکا ہے۔ ایوب خان نے 1956ء کا آئین معطل کر کے جو آمرانہ نظام قائم کیا اس کی سزا آج قوم بڑی شدت کے ساتھ بھگت رہی ہے کہ امریکا سر سے پائوں تک پاکستان کے احسانات میںڈوبا ہو اہے وہ بھی پاکستان کو اپنے تسلط اور دباؤ کا شکا ر بنائے ہو ئے ہے۔تاریخی حقائق یہ ثابت کر تے ہیں کہ فوج کو مشرقی پاکستان میں شکست نہیں ہو ئی تھی وہا ں فوج بھارتی علا قو ں کے اندر مو جو د تھی مگر یحییٰ کی سیا ست مشرقی پاکستان کو کھا گئی ۔جنر ل ضیا الحق کی سیا ست نے کیا رنگ دکھا ئے وہ سب سامنے ہے ، کئی دانشور و ں کا کہنا ہے کہ پا کستان آج جن حالا ت سے گزر رہا ہے اس سب کے ذمہ دار ضیاء الحق ہیں اسی طرح پا کستان آج جس بدترین دہشت گردی کا شکا رہے اور پاکستان کی فوج جس کو کبھی بھی اپنی مغربی سرحد کی فکر لا حق نہیں ہوئی وہ آ ج وہا ں مصروف ہوگئی۔ اب اس کو مشرقی اور مغربی سرحد و ں دونو ں جا نب سے فکر مندی ہے۔ یہ سب کیا دھر ا مشرفی سیاست کا نتیجہ ہے کہ جس نے اپنے شوق اقتدار میں نہ صرف جمہو ری حکومت پر شب خو ن مارا ، آئینی اقدار کی دھجیا ں بکھیر دیں ، دومر تبہ آئین سے غداری کی جس کے نتیجہ میں آج وہ خود سے ملک بدر پھر رہے ہیں۔ یہ مکا فات عمل ہیں کہ ایک وقت نو از شریف ملک بدر نہیں ہو نا چا ہتے تھے مگر زبردستی کر دیا گیا جب وہ ملک واپس آنا چاہتے تھے تو آنے نہیں دیا گیا مگر آج مشرف جو خود ملک بدری چاہتے تھے ان کو ملک بدر ہونے نہیں دیا جا رہا تھا مگر ان کو بیساکھیا ں مل گئیں وہ ملک سے مفر ہو نے میں کامیاب ہو ئے ۔ پا کستان کے عوام کی خواہش ہے کہ وہ ملک واپس آئیں اور ان کہ واپسی میں کوئی روک بھی نہیں ہے اس کے باوجو د وہ آنے کی ہمت نہیں رکھتے حالانکہ وہ اب بھی پا کستان کے وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھتے ہیں ان کے بقول وہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین پا رٹی کے سربراہ ہیں ۔ لیکن اپنے سیا سی مر بی الطاف بھائی کی طرح بیر ون ملک ڈیر ہ ڈال دیا ہے۔ خوش خبری کی شادما نی صرف عمر ان خان کے ہی چہر ے پر عیاں نہیں بلکہ جہا نگیر ترین ، اسد عمر ، اور تحریک کے چو ٹی کے لیڈروں کے ساتھ عام کارکنوں کے چہر و ں پر بھی بکھر ی ہو ئی ہے گویا دھر نے کی ما یو سی خوشی میں بدل گئی ہے ، اسی لیے پا رٹی کے تمام چہر ے مہک اور لہک رہے ہیں ، ایسی ملا قاتو ں اور واقعات پر این پی کے لیڈرو ں کے بھی چہر ے گلاب ہو جا یا کرتے تھے ، جب مشر ف نے جمہو ریت کو لوٹ لیا تھا اس کے فوری بعد ایک فوجی افسر سے ملاقات کا اجمل خٹک مر حوم نے ذکر کیا جس کی بھنگڑوں اور خٹک ڈانس کی تاپ کے ساتھ پا رٹی نے خوب ڈونڈی پیٹی تھی ، صد احترام بیگم نسیم ولی خان سمیت پارٹی کے ہر بڑے نے کہا تھا کہ اے این پی کے تعا و ن بغیر کوئی حکومت نہیں چلا سکتا ، ان دعوؤں کو سن کر قو م حیر ان تھی کہ ایو ب خان کی آمر یت کو بھی کیا تعاون حاصل تھا جب کہ اے این پی کی تاریخ تو جمہوریت کے لیے بیش بہا قربا نیو ں سے لبر یز نظر آتی ہے ۔ 

متعلقہ خبریں