عبرت سرائے دہرہے اور ہم ہیں دوستو!

عبرت سرائے دہرہے اور ہم ہیں دوستو!

پارک گیون جنوبی کوریا کی چار سال تک صدر رہیں اور پھر ان پر کرپشن کے الزامات لگنا شروع ہوگئے۔ 9دسمبر 2016ء کو پارلیمنٹ میں ان کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش ہوئی' تین سو میں سے 276ارکان نے تحریک کے حق میں ووٹ دئیے۔ پارک پارلیمنٹ کے فیصلے کے خلاف داد رسی کے لئے ملک کی اعلیٰ عدالت میں گئیں۔ 8ججز نے کیس کی سماعت کی اور پھر اپنے فیصلے میں لکھا کہ صدر کے روئیے اور اقدامات نے ملک کی جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے واقعاتی شہادتوں کے مطابق قانون کی بالادستی کو بھی پامال کیا اور قوم نے ان پر جو اعتماد کیا تھا اس کو شدید ٹھیس پہنچائی بلکہ ان کے بعض فیصلے ملکی آئین کی بنیادی روح کے بھی خلاف ثابت ہوئے۔ جنہیں ایک جمہوری ملک میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ پارک گیون کے خلاف پارلیمنٹ میں عدم اعتماد اور مواخذے کی جو تحریک پیش ہوئی اس میں بھی یہی موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ اقتدار کے دوران ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی ۔ ان کی ایک قریبی ساتھی چوئی سن سل پر یہ الزامات تھے کہ وہ پارک گیون کی ایماء پر ملک کی تجارتی اداروں پر اثر انداز ہوتی رہیں ۔ اس ضمن میں سم سنگ نام کی ایک کمپنی کا نام بطور خاص لیا جاتا ہے۔ چوئی سن کو پارک گیون کی مکمل سرپرستی حاصل تھی اور وہ تجارتی اداروں سے عطیات وصول کرتی تھیں۔ کرپشن کے اس سرمائے کو ذاتی کاروبار میں لگا دیا جاتا تھا۔ اس طرح پارک گیون نے عالمی بنیاد پر ہونے والی کرپشن کے گینگ کے اہم رکن کا درجہ حاصل کرلیا۔ بالآخر گیون کے خلاف قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور ملک گیر سطح پر احتجاج کا آغاز ہوگیا۔ فی الوقت وہ ایک حراستی مرکز میں قید ہیں۔ اس مرکز میں ان کے شب و روز کیسے بسر ہو رہے ہیں اس کی کچھ جھلکیاں پیش کرنے کی اجازت دیجئے۔

دنیا واقعی عبرت سرائے ہے' پارک گیون سے پہلے بھی بہت سے صاحب اقتدار لوگوں کو اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حسنی مبارک پون صدی سے زیادہ عرصہ تک مصر کے صدر رہے لیکن جب ان پر برا وقت آیا اور ان کے خلاف احتجاجی تحریک کے نتیجے میں انہیں صدارت سے ہاتھ دھونے کے علاوہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے تو ان پر دل کے دو تین دورے پڑے۔ فالج کا حملہ ہوا اور انہیں پنجرے میں ڈال کر عدالت لانا پڑا۔ پارک گیون کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے روزانہ تین گھنٹے بنائو سنگھار میں صرف ہوتے تھے۔ اپنے سٹائلسٹ کو خصوصی ہدایت تھی کہ ان کے بال ان کی ماں کی طرح بنائے جائیں۔ انہیں جب پچھلے ہفتے حراستی مرکز لایا گیا تو انہیں اپنے بالوں کا سٹائل برقرار رکھنے کے لئے لگائی گئی پن اتارنے کا حکم دیاگیا کیونکہ حکام کے مطابق کوئی قیدی اپنے ساتھ حراست کے دوران کوئی دھات کی چیز نہیں رکھ سکتا۔ انہیں اپنا میک اپ بھی دھونا پڑا۔ سماعت کے دوران پارک کو سول سنٹرل ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کے عارضی حراستی مرکز میں آٹھ گھنٹے تک لکڑی کے ایک بنچ پر بیٹھ کر پیشی کا انتظار کرنا پڑا۔ وزارت انصاف کے مطابق پارک کی درجہ بندی جاری مقدمہ کی ملزمہ کے طور پر کی گئی۔ ان کو الگ سیل دیا گیا اور مروجہ طریقہ کار کے مطابق ان کی شناخت پریڈ ہوئی۔ میڈیکل چیک اپ ہوا اور ان کے اضافی کپڑے اتار کر تصویر بنائی گئی۔ پارک کو اپنی تمام اشیاء جن میں کچھ کرنسی نوٹ' ذاتی الماری کی چابی اور ایک پرس جس میں میک اپ کا سامنا تھا جیل کے حکام کے حوالے کرنا پڑا۔ انہیں عام قیدی کا لباس پہننا اور ان کے سینے پر قیدی نمبر کا مخصوص بیج لگانا پڑا۔ ہمیں یہاں ایان علی صاحبہ یاد آرہی ہیں ۔ بقول لطیف کھوسہ اس بے چاری کو بھی کچھ ماہ حراست میں رکھا گیا تھا لیکن جب بھی وہ جیل سے پیشی کے لئے آتیں تو یوں لگتا جیسے وہ جیل سے نہیں کسی بیوٹی پارلر سے تشریف لارہی ہیں اور انہیں ماڈلنگ کی کسی شوٹنگ پر تشریف لے جانا ہے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ حراستی مرکز میں پارک گیون کو 67.8 کا ایک سیل جی ہاں کمرہ نہیں سیل میں رکھا گیا ہے۔ اگرچہ اس سیل میں گدا ' شیلف' ڈسک' سینک اور بیت الخلاء کی سہولت تو موجود ہے لیکن حراست کے دوران انہیں اپنے وکیل کے علاوہ اپنی مرضی کے ملاقاتیوں سے ملنے کی اجازت ہر گز نہیں ہوگی۔ حراستی مرکز میں انہیں اپنی مرضی کاکھانا نہیں' فہرست طعام کے مطابق خوراک دی جائے گی اور یہ بھی کہ انہیں کوئی مشقتی بھی فراہم نہیں کیاجائے گا۔ انہیں اپنے کھانے کے برتن خود دھونا پڑیں گے۔ ان کی نیند اور آرام بھی اپنی مرضی کے مطابق نہ ہوگا۔ انہیں صبح 6بجے جاگنا اور 8بجے تک سونا پڑے گا۔ انہیں ذاتی باورچی' سٹائلسٹ اور پلاسٹک سرجن کی سہولت حاصل نہیں ہوگی۔ بالیقین یہ ایک ایسی شخصیت کے لئے انتہائی اذیت ناک بات ہے جنہوں نے جنوبی کوریا کے صدارتی محل میں طویل عرصہ تک حکمرانی کرنے والے آمر پارجنگ کی بیٹی کے طور پر کئی سال اور پھر چارل سال بطور صدر گزارے جنہیں شہزادی کہا جاتا تھا۔ وہ جلد طیش میں آنے والی نازک مزاج خاتون کی شہرت رکھتی ہیں۔ ایک بار جب وہ بطور صدر انچیون شہر کی بندر گاہ کے دورے پر گئیں تو اس نازک مزاج خاتون کی ہدایت پر حکام نے زر خطیر خرچ کرکے ان کے شایان شان واش روم تیار کیا۔ عارضی جسے انہیں استعمال کرنے کی نوبت بھی نہیں آئی۔ آج انہیں قید میں مشقتی تک رکھنے کی اجازت نہیں اور انہیں اپنے برتن خود دھونا پڑ رہے ہیں۔ دنیا واقعی عبرت سرائے ہے ۔ کاش دنیا کے خود پسند اور خود پرست حکمران ان واقعات سے کچھ عبرت حاصل کریں۔

متعلقہ خبریں