اپنے گھر واپسی

اپنے گھر واپسی

مجھے وہ لمحہ' وہ مہینہ اور موسم اب بھی یاد ہے جب میں پہلی دفعہ اپنے گھر سے بوریا بستر باندھ کر میٹرک کے بعد کے تعلیمی مراحل طے کرنے کے لئے گورنمنٹ کالج بنوں میں داخلہ لینے کے بعد یکم ستمبر کو کلاسیں شروع ہونے پر صبح تڑکے جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) میں بیٹھا۔ میرے جن بڑوں اور ہم عمروں نے جی ٹی ایس میں سفر کیاہے شاید ان کو اس سفری عیاشی کا احساس اب بھی ہوتا ہوگا۔ طلبہ کے لئے تو خاص عیاشی یہ تھی کہ آدھے کرایے پر سفر کرتے۔ لیکن ہم بھی کیا قوم ہیں کرپشن میں مہارت کے سبب اس بہترین عوامی سروس کو بھی نیلامی کی بولی تک پہنچا کر رکھ دیا۔ خیر۔ میں جب اپنے گائوں سے نکلا تو میری سادہ لوح والدہ ماجدہ بھی ساتھ ساتھ چلی۔ میں نے کئی بار سڑک تک پہنچنے سے پہلے والدہ صاحبہ کے سامنے آکر تبرک کے حصول کے لئے سر جھکا کر اجازت چاہی لیکن والدہ کا دل کہاں مان ر ہا تھا جب تک جی ٹی ایس بس ان کی نظروں سے غائب نہ ہوئی میں پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتا رہا اور وہ وہیں کھڑی رہیں جہاں سے مجھے رخصت کیا تھا اور ایسا صرف والدہ ہی کرسکتی ہیں۔ میں جب ماں جی کی معیت بس میں سفر کی نیت سے اپنے گائوں سے نکل رہا تھا تو راہ میں میری دادی کی ہم عمر ہمارے دیوار بہ دیوار پڑوسن معروف و مشہور ڈاکٹر خالد عثمان کی والدہ ماجدہ جو میری دادی ہی کی طرح بہت ہی مشفق اور باوقار خاتون تھیں مجھے بستر بہ دوش دیکھ کر میری والدہ کو مخاطب کرکے کہنے لگی کہ ''برخوردار جب دوبارہ اپنے گھر واپسی کریں گے تو بالوں میں چاندی اتری ہوگی'' اور پھر بقول اقبال 

نجد کا صحرا کہاں' افرنگ کا قریہ کہاں
شوق مضطر کا قدم اٹھا کہاں پہنچا کہاں
سعودی عرب کے صحرائوں کی خاک چھانتے پھانکتے حرمین الشرفین کی زیارت سے ہر تین چار مہینے میں ایک بار آنکھوں کو ٹھنڈک اور طراوت دیتے ہوئے ایک ایسی شخصیت سے ملاقات ہوئی کہ انہوں نے میری طرز حیات اور طرز فکر ہی بدل ڈالی۔ کہاں بنکنگ (سعودی کی) اور کہاں خیبر پختونخوا کی تاریخی یورنیورسٹی جامعہ پشاور۔ استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر سعید اللہ قاضی نے ایم اے اردو' ایم اے اسلامیات کے بعد دوبارہ ریال اور دراھم کی طلب میں دیار عرب جانے کے بجائے جامعہ پشاور میں لیکچرر کی حیثیت سے کام کرنے کی ترجیحات پر مائل کرلیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آج نگاہ موڑ کر دیکھتا ہوں تو ہر قدم پر اور ہر نماز میں ان کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ دیار عرب میں جا کر شاید کچھ پیسے تو ضرور کما لیتا لیکن الحمدللہ! آج عمر عزیز کے ساٹھ برس کو پہنچنے کے بعد جس حال میں ہوں اس پر میرے بدن کا رواں رواں سراپا شکر ہو جائے تب بھی شاید حق ادا نہ ہوسکے۔شیخ زید اسلامک سنٹر' جامعہ پشاور میں آج سے تیس برس پہلے جب میں نے قدم رکھا تو میرے سر اور داڑھی کے بال سیاہ اور اعضاء و جوارح میں بھرپور رعنائی و توانائی جس ادارے میں کبھی طالب علم رہا تھا اس کی دس برس طویل مدت تک قیادت و سربراہی کرکے اپنی محرومی' نا مرادی اور مظلومیت میں میر تقی میر کی طرح مزہ آیا۔ان دس برسوں میں اس عظیم علمی ادارے کی کیا خدمت ہو سکی یہ بتانا میرا کام نہیں بلکہ تاریخ کے سپرد ہے اور تاریخ بھی کیا ظالم چیز ہے بقول سید مودودی '' تاریخ کھوٹوں کو تو کبھی تسلیم نہیں کرتی ' کبھی کبھی کھروں کو کھرا تسلیم کرنے میں بھی صدیاں لگ جاتی ہیں'' میں بھی اس سلسلے میں یہی عرض کرسکتا ہوں کہ
مانا کہ اس جہاں کو گلشن نہ کرسکے
کانٹے تو کچھ ہٹا دئیے گزرے جہاں سے ہم
وقت کتنی تیزی کے ساتھ گزرتا ہے اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب وقت گزرتا جاتا ہے اور پھر احساس ہوتا ہے کہ '' مالہ گل بوئی کڑے نہ وو بہار تیر شو'' اوراب تین اپریل کو ہم ریٹائرڈ جس کو عربی میں مقاعدین (بیٹھے ہوئے) اور عام زبان میں بزرگ شہری کہتے ہیں میں شمار ہو جائیں گے۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ استاد اور جرنیل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے لیکن یہ آدھا سچ ہے جو جرنیل کی حد تک تو صحیح ہے لیکن استاد پاکستان میں اور پھر ریٹائرڈ۔! بقول کمال بابا۔ کتنا ہی بڑا افسر کیوں نہ ہو جب ریٹائر ہو جاتا ہے تو فیوز بلب کی مانند رہ جاتا ہے''۔اپنی عظیم مادر علمی جامعہ پشاور میں یار دوستوں اور طلبہ کے ساتھ رفاقت کا ایک طویل دور مکمل ہوا۔ میرے اس عظیم ادارے نے مجھے بہت کچھ دیا۔ نام' عزت' شہرت ' ہمت و حوصلہ' تجربہ اور سب سے بڑھ کر اپنے نونہالوں اور جواں نسل کی تعلیم و تربیت کی سعادت دلا دی۔ اس ناچیز خدمت کے عوض اللہ تعالیٰ نے مجھے بطور انعام تعلیم یافتہ اور فرمانبردار اولاد سے نواز ا۔
اب اپنے اس ادارے کو چھوڑتے ہوئے یادوں کی برسات کے ساتھ اس پنچھی کی طرح ایک عجیب سے نا سٹلجیا میں مبتلا ہو ا جا رہا ہوں جو پہلی بار گھونسلا چھوڑتا ہے۔ اسے چھوڑا ہوا گھونسلا یاد تو بہت آتا ہے مگر وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اب ایک نیا گھونسلا کسی نئی زمین' نئی فضائوں اور نئی ہوائوں میں کسی سایہ دار درخت پر ٹانگ لے۔

متعلقہ خبریں