امید کا چراغ

امید کا چراغ

کل ایک دوست کے ساتھ گپ شپ لگ رہی تھی وہ شوگر کا مریض ہے پچھلے کئی برسوں سے انسولین پر ہے دوران گفتگو اس کے ایک جملے نے مجھے آزردہ کردیا اس نے بڑے دکھی لہجے میں کہا کہ قدرت نے تو مجھے کئی برس پہلے مار دیا تھا یہ تو میں دوائیوں کے بل پر زندہ ہوں!اتنے پڑھے لکھے دوست کے منہ سے یہ جملہ سن کر میری حیرت کی انتہانہ رہی ! یہ تم کیا کہہ رہے ہو میرے دوست ؟میں جانتا ہوں یہ جملہ انتہائی منفی جذبات کا عکاس ہے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ غلط ہے لیکن کیا کروں پچھلے چند ماہ سے یہ خیال میرے ذہن کے ساتھ چپک کررہ گیا ہے اس منفی خیال سے ہزار جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن کامیاب نہیں ہو پاتا۔ میرے دوست نے اپنے اردگرد غور سے نہیں دیکھا ورنہ اس قسم کی مایوسی کا اظہار وہ کبھی بھی نہ کرتا اس وقت ذہن میں یہی آیا کہ اسے اپنے ایک رشتہ دار کی بیماری کا حال سنادوں شاید اس کی ناامیدی امید میں بدل جائے ۔یار اس طرح کی باتیں نہیں کیا کرتے ہمارا ایک رشتہ دار ہے عمر یہی چوبیس پچیس برس ہوگی اس کا نچلا دھڑ پولیو کی وجہ سے مکمل طور پر مفلوج ہے اس نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے آپ کو وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے دیکھا اس کا بچپن لڑکپن اور نوجوانی اسی وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے گزر گئی ہے۔ اللہ پاک نے اسے بڑا زرخیز ذہن عطا کر رکھا ہے ایم ایس سی کرنے کے بعد ایک اچھے تعلیمی ادارے میں پڑھا رہا ہے۔ ماواں تے ٹھنڈیاں چھاواں !بیٹے کی نوکری لگی تو ماں نے اپنے بیٹے کے لیے چاند سی دلہن کی تلاش شروع کردی اسے امید تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے دلہن ڈھونڈنے میں ضرور کامیاب ہوجائے گی اور پھر تلاش بسیار کے بعد اس کی امید بھر آئی وہ اپنے بیٹے کے لیے چاند سی دلہن لے آئی خاموش گھر شادی والے گھر میں تبدیل ہوگیا خوشی کے شادیانے بج اٹھے پھر اللہ نے مزید کرم یہ کیا کہ انہیں اولاد کی نعمت سے بھی نواز دیا گول مٹول چاند سا بیٹا جب گھر کے آنگن میں بھاگتا ہے دوڑتا ہوا آکر باپ کی گود میں چھلانگ لگا کر بیٹھتا ہے تو ماں باپ کے چہرے کھل اٹھتے ہیںتم ذرا سوچو؟اگر وہ اپنی معذوری کو لے کر بیٹھ جاتا تو اس کی ساری زندگی کرسی پر روتے دھوتے گزر جاتی مگر اس نے اپنی بیماری کو اپنا نصیب سمجھ کر قبول کر لیا جو اپنے نصیب پر خوش ہوتا ہے وہی خوش نصیب ہوتا ہے۔ جہاں تک شوگر کا تعلق ہے تو اب امریکی ڈاکٹروں نے تو اسے بیماریوں کی فہرست میں سے نکال دیا ہے پاکستان کے ہر گلی کوچے میں آپ کو شوگر کے مریض ملیں گے ڈاکٹر شوگر کے کنٹرول میں تینوں چیزوں کے کردار کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ علاج، پرہیز اور ورزش!اگر ان تین چیزوں کا خیال رکھا جائے تو شوگر کی مجال نہیں ہے کہ مریض کو تنگ کرسکے بس اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو دوائی کا استعمال نہیں کرتے بس پرہیز اور ورزش سے کام چلاتے ہیں اور شوگر کے مریض کے لیے سب سے اہم ورزش پیدل چلنا ہے۔ کرکٹر وسیم اکرم بیس برس کی عمر سے انسولین پر ہیں وہ دن میں تین چار مرتبہ انسولین لیتے ہیں۔ پرہیز کرتے ہیں اور ورزش کا ناغہ بالکل نہیں کرتے اب بھی ان کی صحت قابل رشک ہے شوگر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ پرہیز کی وجہ سے مریض دوسری بہت سی بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔ ہمارے وہ بھائی جنہیں شوگر ہے ہماری باتیں پڑھ کر یا تو ہنس رہے ہوں گے یا ہمیں کوس رہے ہوں گے کہ کالم نگار بھی جس موضوع پر جی چاہتا ہے لکھنا شروع کردیتا ہے جبکہ وہ اس موضوع کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتا۔ مجھے یقینا آپ سے اتفاق ہے آب بالکل صحیح سوچ رہے ہیں لیکن میں بیماریوں کے حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کچھ ایسی بیماریاں ہیں جن سے جان چھڑانا انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی یہ ساری زندگی انسان کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں جیسے بلڈ پریشر، شوگر اور دوسری بہت سی بیماریاں !اب ہمارے پاس دوصورتیں ہوتی ہیں پہلی یہ کہ ان بیماریوں سے ڈر کر ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں انہیں اپنے ذہن پر سوار کر لیںاور دوسری یہ کہ ان بیماریوں کو ناگزیر سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ مقابلہ کریں ان سے جیتنے کی کوشش کریں۔ سب سے پہلے تو ہم اپنے ذہن پر ان کا خوف سوار نہ ہونے دیں۔ پھر پرہیز کریں اور دوسری احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو ان بیماریوں کی رفاقت میں بھی پچیس تیس برس گزر ہی جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیماری کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے آپ ذرا سوچیئے! اگر عمران خان کی والدہ محترمہ شوکت خانم کی موت کینسر سے واقع نہ ہوتی تو ان کا بیٹا کبھی بھی شوکت خانم ہسپتال تعمیر نہ کرتا جس سے آج ہزاروں کی تعداد میں کینسر کے مریض شفا یاب ہورہے ہیں۔ قدرت کا اپنا نظام ہے وہ لوگوں سے اپنے انداز میں کام لیتی ہے۔ آپ دنیا کے ان امیر ترین لوگوں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں جو مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوئے اورپھر انہوں نے اپنی دولت اور اثرورسوخ سے کام لیتے ہوئے ان بیماریوں کے علاج کے لیے بڑے بڑے ہسپتال تعمیر کیے اور مخلوق خدا کو بے تحاشہ فیض پہنچایا اور پھر سب سے بڑی بات تو یہی ہے کہ کون پانچ سو برس تک زندہ رہتا ہے اس پتنگ نے تو ایک دن کٹنا ہوتا ہے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ مریض جو اپنی بیماری کی وجہ سے زندگی کی بے ثباتی کے راز کو پالیتے ہیں۔ کتنے ایسے گناہوں سے بچ جاتے ہیں جن میں مبتلا ہو کر لوگ اپنے ایمان تک سے محروم ہوجاتے ہیں جو بیماری یا کسی بھی قسم کی تکلیف انسان کو اللہ پاک کے قریب کردے بھولے ہوئے رب کی یاد دلادے وہ باعث رحمت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں