ناخوشگوار صورتحال

ناخوشگوار صورتحال

موجودہ حکومت پر سے ابھی ڈان لیکس کی پرچھائیاں پوری طرح چھٹی نہیں تھیں کہ ایک جذباتی اور بلا سوچے سمجھے بیان سے عدالت سے الجھائو کی نوبت آگئی ہے اگرچہ اسے آمنے سامنے والی صورتحال قرار دینا اس لئے موزوں نہ ہوگا کہ وطن عزیز میں اس طرح کی صورتحال تو پیش آیا کرتی ہیں مگر جس طرح صورتحال پیش آتی ہیں اس طرح وہ لا ینحل پس منظر میں جاکر قصہ پارینہ بن جاتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ادوار حکومت میں اس کا اتفاق زیادہ ہونا اتفاقی ہے یا پھر سہو اً ایسے واقعات پیش آتے ہیں ۔ ہمارے تئیں اس طرح کی صورتحال متعلقین کیلئے پریشان کن ہوں یا نہ ہوں وطن عزیز کے عوام کیلئے بڑی تشویش کی بات ہے کہ اقوام عالم میں اس سے ملک کا وقار متاثر اور عام آدمی کو جگ ہنسائی کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تازہ واقعے میں کس کا مقصد کیا تھا کس کی حد کیا ہے اور کس کا دائرہ اختیار اور ضابطہ کار کیا ہے ان تمام معاملات سے قطع نظر ایک مجموعی فضا جن تاثرات کے جنم دینے کا باعث بن رہی ہے وہ ایک خاص دائرہ کار سے باہر ہونے کی ہے ۔ بلاشبہ حکمران جماعت کے ایک سینئر رہنما نے جو ممکن ہے اب سابق رہنما ہو چکے ہوں آگ کا ایک الائو روش کیا مگر دوسری جانب کی صورتحال بھی تحمل و برداشت کے ساتھ صرف معاملے ہی تک محدود نظر نہیں آتی ۔ قاضی کو فیصلہ دینے میں یکسوئی اور جذبات و غصے کی حالت میں نہیں ہونا چاہیئے اور اگر وہ اس حالت میں ہے تو اسے فیصلہ لکھنے کو موقوف کرنے کی ضرورت ہے مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب کی فریق اگر مافیا بن گئی ہے تو دوسری جانب کو اس اعتراض کا موقع دیا گیا ہے کہ ریمارکس حلف کے منافی ہیں۔ بہر حال ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وقتی اور جذباتی صورتحال ہے حکومت کے دبائو میں ہونے اور مسلم لیگی رہنما کے الفاظ پر جذبات کے غالب آنے کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں ۔ ہم سمجھتے ہیںکہ اگر اس معاملے کو کھسیانی بلی کھمبا نوچے والی صورتحال بنا دی جاتی تو یہ ایشو نہ بنتا اور روز دو روز میں بات آہستہ آہستہ تحلیل ہو نا شروع ہو جاتی مگر اب بات کو ٹھوں چڑھ چکی ہے اس لئے یہ موقع بھی شاید نہ رہا ۔ یہ صورتحال ایسی ہے کہ اس پر تو بحث نہ مناسب ہے اور نہ اس کی گنجائش ہے البتہ اس سے پیدا شدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار موقع بھی ہے دستور بھی ہے کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس ضمن میں سود وزیاں کا بھی معاملہ نہیں کہ کس نے کیا کھویا کیا پایا کا حساب کتاب دیکھا جائے یہاں تو کھونے والے کھو نے کیلئے آمادہ بلکہ آبیل مجھے مار کے مصداق دکھائی دیتے ہیں لیکن چھن جانے سے باقی رہنے دینا مصلحت دکھائی دیتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آخر وہ کونسا نکتہ ہے جو اداروں اور حکومت کے درمیان افاد ہ مختتم ثابت ہو تا ہے حال ہی میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی تقریباً یہی آواز لگائی تھی نہال ہاشمی کے لئے بھی اسی برتان آکر ٹوٹتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اداروں کو ان کے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے نہ دینے اور دبائومیں لانے کی یہ روایت پریشان کن ہے۔ یکے بعد دیگرے قومی سیاست کے کرداروں کا مماثل رویہ کسی ادارے یا افراد کے نہیں قومی تضحیک کا باعث بن رہا ہے اور یہ بڑی تکلیف دہ صورتحال ہے اس طرح کی فضا میں قوم کے آگے بڑھنے اور منزل مراد پا لینے کی راہ میں اس لئے رکا وٹیں آرہی ہیں کہ ملک میں اعتما د اور استحکام کی کیفیت کا توازن قائم نہیں ہو پا تا جو داخلی طور پر ہی اہم نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی ملکی وقار کیلئے ضروری ہے۔ اگر ہم اسی طرح باہم لڑتے رہیں تو معیشت ہو یا تجارت یا کوئی بین الاقوامی فورم اقوام عالم ہمیں سنجیدہ نہیں لیں گے ملک میںبیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی اور موجودہ وقت میں جو سی پیک کے عظیم منصوبے کی نمو کا وقت ہے اگر یہ تاثر پھیلے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ناممکن نہیں تو جو محنت سی پیک کو اس مرحلے تک لانے کیلئے ہوئی ہے اس میں ساکت کی صورت پیدا ہو سکتی ہے جس کیلئے ہمارے بد خواہ پڑوسی اور نام نہاد عالمی دوست عرصے سے کوشاں ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک مرتبہ بحیثیت قوم اگر ہم یہ طے کر لیں کہ ہم اپنے اختلافات وجذبات کا اظہار مناسب فورم مناسب وقت اور مناسب الفاظ اور مناسب طریقے سے کریں گے ہر قیمت پر انصاف کا بول بالا اور انصاف کو مجسم حقیقت کے طور پر دیکھیں گے بھی اور یقینی بھی بنائیں گے ایک دوسرے کا احترام اور بہتر تعلق کو وقتی ابھارسے متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا تویہ ہم سب کا اور اس ملک وقوم کے حق میں بہت بہتر ہوگا ۔ہمارے ان حلقوں سے بھی گزارش ہے جو اس شعلہ جوالا کو ہوا دینا چاہتے ہیں وہ اس سے احتراز برتیں اس موقع کو تنقید اور سیاست بازی کا موقع بنانے کی بجائے اس پر اظہار تشویش کرنے کی ضرورت ہے اور اس امر کا احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ اس صورتحال کا جلد سے جلد معمول پر آنا ہی ملک وقوم کے حق میں بہتر ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ ملک میں جاری موجودہ صورتحال زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہے گی اور بہت جلد صورتحال معمول پر آجائے گی ۔

متعلقہ خبریں