کو رکمانڈر پشاور کا استحکام اعتماد کے اقدامات

کو رکمانڈر پشاور کا استحکام اعتماد کے اقدامات

رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں میں جب ہم مجموعی طور پر اپنے معمولات میں آسانی پیدا کرنے کی سعی میں ہوتے ہیں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر بٹ کا جنوبی وزیر ستان جا کر سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مورچہ بند دفاع وطن پر مامور فوجیوں سے ملاقات اور خاص طور پر وہاں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اورمتاثرین کی بحالی و آبادکاری کے معاملات کا جائزہ لینا قابل تحسین امر ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مرحلے پر فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا کو مزید بہتر بنا نے پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ شمالی اورجنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشنز دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک مشکل اور ظاہری حصہ تھا جسے کامیابی سے انجام دینے کے بعد اس کے اثرات و ثمرات کو دوام بخشنے کیلئے فوج اور دیگر حکومتی اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں علاقے کے عوام کے اعتماد کو بہتر سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔اس ضمن میں کامیابی سے انکار ممکن نہیں ۔ شمالی و جنوبی وزیرستان میں فوج کے ساتھ ساتھ عوام بھی جن مشکل حالات سے گزرے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس ضمن میں قابل اطمینان امر یہ ہے کہ پاک فوج اور وہاں کے عوام کے درمیان اعتماد کا وہ مضبوط رشتہ قائم ہو چکا ہے جس کی بنا ء پر اب مقامی آبادی کے نمائندے پوری طرح ذمہ داری کے ساتھ تعاون کا مظاہر ہ کر رہے ہیں اور ان کو اس امر کا ادراک ہو چکا ہے کہ ماضی میں ان سے لاعلمی یا دیگر وجوہات کی بنا پر جو کوتاہیاں سرزد ہوئی تھیں اب ان کا اعادہ نہ کیا جائے وہاں کے عوام کا فوج کے ساتھ پوری طرح اور بھر پور تعاون کے فیصلے پر پہنچنااور اس کا علمی مظاہر ہ اس یقین کیلئے کافی ہے کہ اب قبائلی علاقوں کے حالات اور عوام تبدیل ہوچکے ہیں ۔ علاقے میںپاک فوج کی نگرانی میں تعمیر و ترقی بحالی بنیادی اساس کا جو کام جاری ہے اس کی رفتار کو سست کہنا تو ممکن ہے مگر اس سے صرف نظر اور انکار کی گنجائش نہیں ۔ کور کمانڈر پشاور اور متعلقہ حکام آئے روز سامنے آنے والی مشکلات اور معاملات سے بار بار کے دور وں اور رابطوں ہی کے ذریعے آگاہی ممکن ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ دو طرفہ تعاون اور تعمیر و ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا اور قبائلی عوام اپنی سرحدوں کو محفوظ اور علاقائی ترقی میں روز افزوں اضافے کو اپنے تعاون کے باعث مزید مستحکم اور بہتر بنائیں گے ۔
بنک آف خیبر سکینڈل کا معمہ
خیبر بنک سکینڈل سے متعلق جماعت اسلامی کا تحقیقات کیلئے اپنے مطالبے کا اعادہ قرب انتخابات میں اس الزام سے اپنا دامن دھونے کی سعی کے سوا کچھ نہیں وگرنہ اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے بہتر مواقع آئے اور چلے گئے ۔ اگر جماعت اسلامی کی قیادت اور وزراء کو اپنے دامن پر لگے داغ کا اتنا ہی احساس تھا تو اب تک اس ضمن میں مصلحت آمیز خاموشی اختیار کئے رکھنا چہ معنی دارد ۔ یہ پہلی مرتبہ ہی ہوا تھا کہ ایک ادارہ کے عہدیدارانے اپنے متعلقہ وزیر کے خلاف الزامات کی فہرست اخبارا ت میں بطور اشتہار ات شائع کروائی ہوں اور بعد ازاں گول مول طریقے سے اس کی وضاحت دی گئی ہو جسے دوسرے لفظوں میں معافی سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے یاکیا گیا ہے ۔ اصولی طور پر یہ ایک سنجید ہ صورتحال تھی جس کا حکومت کو صرف اختیارات سے تجاوزیا چیقلش جیسے سطحی امور کی حد تک نوٹس نہیں لینا چاہیئے تھا بلکہ اس میں ہر دو فریقوں میں سے کسی ایک فریق کے موقف کی صداقت و لغویت کو ثابت کرنے کی سعی کر لینی چاہیئے تھی مگر اسے لا ینحل چھوڑنے پر اکتفا ء کیا گیا جسے جماعت اسلامی کی قیادت نے بھی تسلیم کرکے ہی خاموشی اختیار کی ہوگی اور اگر ایسا نہیں تھا تو اب تک خاموشی اختیار کئے جانے کے بعد اب اچانک کیا سوجھی کہ دامن کا داغ دھوڈالنے کی پھر سے تحریک پیدا ہوئی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کی جس طرح تحقیقات کی ضرورت تھی وہ ممکن ہی نہ بنا ئی جا سکی اگر اس معاملے کی تحقیقات کے بعد کسی ایک فریق کو ذمہ دار گردانا جاتا تو یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جاتا اس اونٹ کا کسی کروٹ نہ بیٹھنا معاملے کو مشکوک رکھنے کیلئے کافی ہے اگر اس معاملے کی تحقیقات اور اونٹ کو کسی کروٹ بٹھانے کا بندوبست نہ کیا گیا تو آنے والی حکومت کو یہ ذمہ داری نبھانی پڑے گی ۔ بینک آف خیبر سکینڈل سے متعلق اسمبلی فلورپریقین دہانی کے باوجودپارلیمانی کمیٹی تشکیل نہ دینا اوراس حوالے سے ایوان میں رپورٹ بھی نہ پیش کیا جانا مذاق ہے یا مصلحت کا تقاضا اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر جماعت اسلامی کا اس معاملے پر اس وقت اچانک ایک مرتبہ پھر انگڑائی بھی دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں نظر آتا ۔حکومت لیت و لعل سے کیوں کام لے رہی ہے ۔ کیا حکومت اپنے اتحادی اور سرکاری ادارے کے درمیان رسہ کشی اختیار ات کی جنگ اور الزامات کو جاری رکھنا چاہتی ہے اگر ایسا نہیں تو اس ضمن میں صوبائی وزیر خزانہ کے مطالبے کو ماننے کے باوجود پورا کرنے میں کیا امر مانع ہے ۔

متعلقہ خبریں