ہم سی پیک پر بہت خوش ہیں!

ہم سی پیک پر بہت خوش ہیں!

ہم بہت خوش ہیں کہ ملک میں ترقی ہور ہی ہے ۔ اس ترقی کا ایک ہی چہرہ ہے ۔ ایک ہی نام ہے ، ایک ہی جسم سے جسے ہم سی پیک کہہ رہے ہیں ۔ سی پیک ایک ایسی جادو کی چھڑی ہے ہمیں بتا یا جا رہا ہے کہ اسکے بعد اس ملک کی عمارتیں سونے کی ہو جائیں گی ، سڑکوں پر کنکروں کی جگہ ہیرے جواہرات ملیں گے ۔ لوگ غسل خانوں میں نل کھولیں گے تو چاندی کاپانی بہے گا ۔ سی پیک سے ہماری زندگیاں ہی بدل جائیں گی ۔ اس ملک کے لوگ اب خواب دیکھتے ہیں تو انہیں سی پیک دکھائی دیتا ہے ۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ قسمت کی دیوی ہم پر مہربان ہوگئی ہے کیا ہوا کہ اس دیوی کا نام چین ہے ۔ وہ مہربان ہے تو اب ہمارے دن بدلنے والے ہیں ۔ ایک مدت ہوئی ہے کسی نے بہتری کا ، اثبات کا ، ترقی کا خواب نہیں دکھایا تھا ، اب ہم یہ خواب دیکھیں گے اب دیوی جادو کی چھڑی ہمارے سروں پر یوں گھمائے گی کہ ہم گدا سے شاہ بن جائینگے ہمارے دن اب پھرنے والے ہیں ، ہم امیر ہونے والے ہیں ۔ سب کے منہ کھلے ہیں اور باچھوں سے رالیں ٹپک رہی ہیں لیکن سی پیک دراصل کس چڑیا کا نام ہے ، ہم میں سے کوئی نہیں جانتا ۔ اتنا جا نتے ہیں کہ ایک سڑک ہے ، جسے پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک قسمت کی سنہری لکیر کی مانند پھیر دیا جانا ہے ۔ ایک ایسی لکیر ایک ایسی سڑک جس پر چینی ٹرکوں میں بھر کر ہماری قسمت لائی جائے گی اور ہمارے ارد گر د بکھیر دی جائے گی ۔ لیکن پھر کہیں سے آواز آتی ہے ، قوموں کی قسمتیں سڑکوں سے نہیں بنا کرتیں ۔ ترقیوں کے ڈھول سڑکوں کو بچھا دینے سے بجائے نہیں جا سکتے ۔ سڑکیں ترقی کے نتیجے میں اپنے آپ بن جایا کرتی ہیں کیونکہ مال کو منڈی تک پہنچا نے کی ضرورت چابک لیے سر پر آکھڑی ہو جاتی ہے ۔ بس ملک میں خواندگی کی شرح پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہوئی ہو ، اس ملک میں لوگوں کی پریشانی اور بیجارگی کے پیمانے دنیاکے دوسرے ملکوں کی نسبت زیادہ بھر ہوئے ہوں ، اس ملک میں سڑکوں کی تعمیر پر ملک کے سارے وسائل نہیں لگائے جاتے ۔لیکن ہم اس ملک میں سڑکیں بنا رہے ہیں ۔ بناتے چلے جارہے ہیں ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک انتہائی کمزور حکومت ، اپنے لالچ کو مختلف لبادے اوڑھا کر ہمارے خوابوں کی صورت میں پیش کرنے کی ماہر ہو چکی ہے ۔ ایک ایسی حکومت جوجھوٹ بولتی ہے تو بولتی ہی چلی جاتی ہے ۔ یہ وہ کمال لوگ ہیں جو اتنا سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ گوادر کی جس بندرگاہ کو ہمارے چینی دوست استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ صرف مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تیل کی درآمد کے لیے ہی استعمال ہونے والی نہیں ۔ چین کی بے شمار سرمایہ کاری افریقہ میں بھی موجود ہے ۔ گوادر سے افریقہ کا راستہ بھی بہت کم رہ جاتا ہے ۔ گوادر کی بندر گاہ دنیا کی بڑی بندر گاہوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔ اور یہ چین کے لئے بہت اہم ہے ۔ ہم اس کی اہمیت کا یہ بھی اندازہ نہیں کر سکے کہ ملک میں بجلی بنانے کے کارخانے ، آبی طاقت سے لگانے کی بات کرسکتے ، ایسے ملکوں میں جہاں آبی وسائل اس کیفیت میں موجود نہیں جیسے پاکستان میں موجود ہیں ، وہاں پانی اتنی بلندی سے سطح سمندر کی جانب سفر نہیں کرتا جس قدر پاکستان میں موجود ہے ۔ اس پانی کو ایسی قدرتی اونچائی حاصل ہے کہ محض پانی کے بہائو پر ٹربائین (Turbine)لگائی جا سکتی ہے اور اس سے بجلی پیدا ہو سکتی ہے ۔ یہاں سیاسی حکومت کو اگر لوگوں کے سامنے اپنی کارکردگی ثابت کرنے کے لیے کوئلے کے کارخانوں کی ضرورت محسوس ہو بھی رہی تھی تو خوف خدا سے یہ لوگ ایک قومی گرڈ کی ہی بات کر لیتے تاکہ گلگت بلتستان میں بجلی پیدا کر کے ملک میں لائی جاسکتی یہ بجلی کوئلے کے کارخانوںمیں پید ا ہونے والی بجلی سے کہیں سستی ہوتی ۔ جب یہ حکومت یہ بات نہیں کر سکی ، چین کی حکومت سے اتنا جائز مطالبہ بھی اس صورت میں منوا نہیں سکی جبکہ گوادر کی بندرگاہ کی چین کو اشد ضرورت ہے اورہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں تو ان سے اور کیا امید کی جاسکتی ہے ۔ سی پیک کے ہی حوالے سے ایک صاحب حکومت کی راگنی الاپ رہے تھے ۔ انجینئر تھے لیکن مالکوں کی خوشنودی کے لیے بہت اُتائولے تھے ۔ کہنے لگے کہ میں خود ہی حساب لگا تا رہا ہوں کہ سی پیک بن جانے کے نتیجے میں پاکستان میں کتنے ٹرک سالانہ اس سڑک پر سفر کرینگے ، ان ٹرکوں کی تعداد ذہن میں رکھیں اور موجودہ ٹول کے ساتھ اسے ضرب دے لیں تو سالانہ کروڑوں روپے کی آمدن ہوگی ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جناب ہم بھی آپ کی خوشی میں بہت خوش ہیں لیکن پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ۔ ترقی پذیر ملکوں کویقینا معیشت میں بہتری کی اشد خواہش ہوا کرتی ہے ۔ اور یہ موقع بھی بہت اچھا معلوم ہو رہا ہے ۔ صرف ایک سوال کا جواب چاہتی ہوں ۔ دنیا کے کاربن فٹ پرنٹ میں پاکستان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی گلوبل وارمنگ کے اثرات سے متاثر ہونے والے ملکوں میں پاکستان کے خطرات بہت زیادہ ہیں ۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خطرہ دہشت گردی سے کہیں زیادہ ہے ۔ پاکستان کو چین اور بھارت دونوں ہی کی جانب سے آنے ولی ہوائیں بھی بری طرح متاثر کر تی ہیں ۔ ہزاروں ، لاکھوں ٹرک جب سی پیک سڑک کے نتیجے میں پاکستان میں چلیں گے ، کوئلے کے کارخانوں سے بجلی پیدا ہوگی تو ماحول پر اس کا کیا اثر ہوگا اور سی پیک میں اس بات کو کیسے مد نظر رکھا گیا ہے ؟ تو وہ خامو ش ہوگئے اور پھر بڑے غصے سے گو یا ہوئے کہ منفی باتوں کا ہم پر اثر نہیں ہوتا ۔ میں مسکرائی کہ اثر تو آپ جیسے لوگوں پر کیا ہونا ہے جناب اس ملک کے غریب لوگوں کا کوئی سوچتا ہی نہیں ۔ ہم جیسے لوگ جو اس ملک سے بندھے ہوئے ہیں ، ہماری کیا وقعت ہے لیکن اس ٹرک اور بندر گاہ کی چین کو اس قدر ضرورت تھی ہم اس کو کیش بھی نہ کروا سکے ۔ آخر اس ملک کے حکمرانوں سے کس بھلائی ، کس بہتری کی امید کی جا سکتی ہے ۔ ویسے ہم سی پیک پر بہت خوش ہیں اور خوشی میں بغلیں بجار ہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں