رمضان کی برکات سے خواتین محروم کیوں ۔۔۔

رمضان کی برکات سے خواتین محروم کیوں ۔۔۔

''ارے بھائی سالن میں نمک کم ہے'' کیا کرتی ہو؟ آج میرا فروٹ چاٹ کھانے کا موڈ نہیں تھا پوچھ کر بنالیا کرو۔ بچوں کو سنبھال لیا کریں میرا روزہ ہے میٹر گھوم گیا تو اچھا نہیں ہوگا۔ یہ اور اس طرح کے درجنوں فقرے روز ہمارے گھروں میں سننے کو ملتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ روزہ صرف مردوں کا ہے عورت تو ایک مشین ہے۔ سترہ گھنٹے روزہ رکھ کر سارا دن بچوں کو سنبھالنا، جب کمزوری اور تھکاوٹ عروج پر پہنچ جائے تو آگ اگلتے باورچی خانے میں جاکر طرح طرح کے کھانے تیار کرنا۔ افطار کے وقت دوڑ دوڑ کر دسترخوان تک جانا، بار بار دسترخوان کا جائزہ لینا کہ کچھ رہ تو نہیں گیا۔ ہر ایک کو خوش رکھنا، ہر ایک کی پسند نا پسند کا خیال رکھنا (اپنی پسند کو تو وہ نکاح کے بندھن میں بندھنے کے بعد ہی گلا گھونٹ کر مارچکی ہے) اذان ہوتے ہی سب کھانا تناول کرنے اور مشروبات نوش کرنے میں لگ جاتے ہیں،، اس کا پتہ نہیں کب روزہ افطار کیا، کب نماز پڑھی۔ اس دوران انواع اقسام کے کھانے اور مشروبات پر ہاتھ صاف کرتے مرد اس عورت کے ہاتھ کے بنے کھانوں کی تعریف کرنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ، افطار ڈنر کے مکمل ہونے کے بعد بیچاری عورت کو برتن سمیٹنے کا چیلنج درپیش ہوتا ہے، مردوں کا تو ''روزہ'' ہوتا ہے وہ اس میں کوئی مدد نہیں کریں گے۔ کام نمٹاتے رات ہوجاتی ہے اور یہ عورت پھر سحری کی تیاریوں میں لگ جاتی ہے ۔ تیاری مکمل ہونے کے بعد مرد حضرات دسترخوان پر جلوہ افروز ہوتے ہیں، فرمائشی پروگرام کے ساتھ وہ سحری کرکے نماز فجر کے لیے چلے جاتے ہیں جبکہ یہ مشین پھر برتنوں اور باورچی خانے کی صفائی میں لگ جاتی ہے۔ اس کے بعد شاید نماز کے لیے بھی وقت نکالتی ہوگی۔ دو چار گھنٹے کی نیند لیکر پھر اس کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔ دوسری جانب ذرا مردوں کی مصروفیت بھی ملا حظہ کیجیے، فجر کے بعد لمبی تان کر خواب خرگوش کے مزے لیں گے۔ آفس یا کام پر جانے کے لیے خاتون خانہ جگائے گی ۔ دوپہر کے بعد واپس آکر قیلولہ کریں گے کیونکہ روزہ جو ہے،، عصر کے بعد کچھ تو تلاوت کرکے رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹیں گے جبکہ بعض یار دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرکے ''ٹائم پاس'' کریں گے۔ افطار کے بعد تھوڑی بہت گپ شپ، پھر بیشتر نماز کے بعد تراویح کے لیے رُک جاتے ہیں جبکہ بہت سے نوجوان نائٹ کرکٹ،، آئوٹنگ یا دیگر سرگرمیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں اور سحری تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پشاور میں بہت سے ساتھی عشاء کے بعد جم کا رخ کرتے ہیں تو کچھ تکہ بوٹی سے انصاف کرنے نکل پڑتے ہیں کراچی میں ہمارے دوستوں کو مدینہ اور مؤمن کی بریانی پسند ہے لیکن مجال ہے جو وہ گھر واپسی پر خاتون خانہ کے لیے بھی کچھ لیکر جائیں۔ ہمارے ایک ڈاکٹر دوست کو شاید اپنی زیادتیوں کا احساس ہوگیا تھا،، ایک بار سحری سے کچھ دیر پہلے اہلیہ نے برگر کھانے کی خواہش ظاہر کی تو موصوف نکل پڑے اور برگر لیکر واپسی ہوئی ،، لیکن اس کی بدقسمتی کہ راہ چلتے دوستوں کے ٹولے نے دیکھا اور تفتیش کرنے لگے جس پر اسے سچ بتانا پڑا ، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ سب دوست انہیں خراج تحسین پیش کرتے لیکن مردانہ غیرت نے یہ گوارا نہ کیا اور سب نے مل کر زنانہ قسم کے طعنے دیے ڈاکٹر کو زن مرید اور جورو کا غلام جیسے القابات سے نوازا۔۔ وہ دن اور آج کا دن،، ڈاکٹر صاحب نے پھر بیوی پر ترس کھایا نہ برگرلانے کی ہمت کی۔ 

ہمارے معاشرے اور رسم و رواج نے رمضان المبارک کو عورت کے لیے رحمتوں کے بجائے زحمتوں کا مہینہ بنادیا ہے، کون سی عبادات، کون سی تلاوت،،، کون سی تراویح ؟ ساری رحمتیں اور برکتیں تو مردوں کے لیے ہیں۔ گھریلو خواتین عام دنوں میں بھی صفائی، دھلائی اور کھانا پکانے کی مشین ہوتی ہیں۔ کام زیادہ ہونے کی وجہ سے فرض نماز ہی مشکل سے پڑھ لیتی ہیں۔ لیکن رمضان المبارک میں تو عورت آٹومیٹک مشین بن جاتی ہے عورت نہ ہوئی کولہو کا بیل ہوئی۔ ہمیں سوچنا چاہیئے،، کیا رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹنے کا حق اسے حاصل نہیں۔ کیا اس کا روزہ نہیں ہوتا،، کیا نیند اور قیلولہ اس کی ضرورت نہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے گھر میں نبیۖ مہربان کے معمولات کے بارے میں پوچھا گیا تو اماں عائشہ نے فرمایا'' اپنی بکری کا دودھ دوہتے، اپنے کپڑے سی لیتے، اپنے جوتے سی لیتے اور وہ تمام کام کرتے جو مرد اپنے گھر میں کرتے ہیں، وہ گھر والوں کی خدمت میں لگے ہوتے کہ جب نماز کا وقت ہوتا تھا وہ چھوڑ کر چلے جاتے (ترمذی، باب مما فی صفة اوانی الحوض: حدیت:٢٤٨٩)مختلف احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے ساتھ خصوصیت سے رحم و کرم کا معاملہ فرمایا، اس کی صنفی نزاکت کو ملحوظ رکھ کراس کے ساتھ رحم وکرم کرنے کا حکم دیا، اس پر بھار اور مشقت ڈالنے سے منع فرمایا، اس پر بے جاسختی سے روکا، ماں، بہو، ساس، بیوی وغیرہ کی شکل میں اس کے حقوق عنایت کیے، اس کی تعظیم واکرام کا حکم کیا، اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کو جنت کا وسیلہ اور ذریعہ فرمایا، یہ صنف نازک کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزعمل تھا۔ پھر ہم کون ہوتے ہیں کہ عورت کو کولہو کا بیل بنائیں۔۔۔ دراصل ہم رمضان المبارک میں برکتیں سمیٹیں گے یا نہیں اس کے برعکس عورت پر ظلم کی پاداش میں کہیں لینے کے دینے نہ پڑجائے۔ اگر ہوسکے تو اس ظالم رواج کو بدلے جس نے عورت سے انسان ہونے کا حق بھی چھین لیا ہے ۔

متعلقہ خبریں