افغانستان میں امن کا سوئچ؟

افغانستان میں امن کا سوئچ؟

افغان دارالحکومت کابل کے درودیوار ایک بار پھر خوفناک دھماکے سے لرز اُٹھے اور اس کارروائی میں 90 افراد ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہوگئے۔اسے کابل کے سفارتی ہائی سیکورٹی زون میں 2001کے بعد ہونے والا سب سے بڑا دھماکہ کہاگیا۔سفارتی علاقے سخت سیکورٹی حصار میں ہوتے ہیں جہاں عام آدمی کی آسان رسائی ممکن نہیں ہوتی ۔ایسے علاقوں میں حفاظت کا پرت در پرت نظام ہوتا ہے اور اس قدر محفوظ علاقوں میں ٹرک یا ٹینکر میں بارودی مواد کا پہنچنا سیکورٹی نظام کے بارے میں کئی سوالا ت کو جنم دیتا ہے ۔کابل میں ہونے والے اس دھماکے کی خاص بات یہ ہے کہ سب سے بڑے مزاحمتی گروہ طالبان نے نہ صرف یہ کہ اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ عام لوگوں کو نقصان پہنچانے والی اسے بے ہدف کارروائی قرار دے کر مذمت بھی کی ۔افغانستان کی ابتر ہوتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں یہ واقعہ قطعی نیا اور انوکھا نہیں کیونکہ افغانستان تواتر اور تسلسل کے ساتھ شدید حملوں کی زد میں ہے اور امن وامان کی ذمہ دار مقامی اور عالمی فورسز کے پیروں تلے زمین کھسکنے کا عمل جاری ہے ۔افغانستان کی اس صورت حال کا جائزہ لیں تو امریکہ اور افغان حکمران ہر حملے کے بعد دو کام کرتے ہیں ۔پاکستان پر براہ راست یا اشاروں کنایوں میں الزام تراشی یا پھر ڈومور کا مطالبہ ۔اس حوالے سے امریکہ اور افغان حکمرانوں نے کام بانٹ رکھا ہے ۔کابل کے حکمران الزام عائد کرتے ہیں تو امریکی ڈومور کا مطالبہ داغ کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔گویا کہ افغانستان میں ساری سرگرمیوںکا ایک سوئچ ہے جس پر پاکستان کا ہاتھ ہے ۔افغانستان کی زمینی صورت حال اور ڈیڑھ عشرے سے چلے آنے والے واقعات ایسے کسی سوئچ کے وجود سے انکار کرتے ہیں ۔افغانستان کسی سوئچ کے آن آف سے زیادہ اب قومی مفاہمت ، حکمت اور تدبر کا متقاضی ہے ۔اس لئے افغانستان میں قومی مفاہمت ناگزیر ہو چکی ہے اورطالبان سمیت دیگر فورسز کو شکست دینے کا خواب دیکھنے کی بجائے مفاہمت کے جذبے سے مسئلے کو حل کرنا چاہئے ۔افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کو ڈیرے ڈالے سولہ برس گزر گئے ۔اس عرصے میں اس ملک کے لوگوں کے سروں کے اوپر سے ایک موج خوں گزر رہی ہے۔سولہ برس گزر نے کے بعد امریکہ کو اس ملک پر بموں کی ماں یعنی سب سے بڑا غیر نیوکلیائی بم برسانا پڑا۔سولہ برس بعد مزاحمت کاروں نے تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک فوجی مرکز میں داخل ہو کر سینکڑوں فوجیوںکو قتل کردیا ۔اور اب سولہ برس میں کابل کے انتہائی حفاظتی اقدامات کے حامل علاقے میں سب سے بڑی کارروائی ہوئی ۔سولہ برس بعد تاریخ کی بڑی کارروائیاں بتاتی ہیں کہ افغانستان میں حالات کا پرنالہ وہیں ہے جہاں روزاول تھا۔گزشتہ دنوں افغانستان کے حالات کو پیچیدہ تر ثابت کرنے والی کئی رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں ۔جن میں پہلی رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی امور کی کو آرڈی نیشن کی طرف سے جاری کی گئی ہے ۔یہ افغانستان میں سال 2017کے پہلے پانچ ماہ کا جائزہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ان پانچ ماہ میں امن وامان کی صورت حال ابتر ہو چکی ہے۔خانہ جنگی پورے افغانستان میں پھیل رہی ہے۔ملک کے تمام شمالی علاقوں پر طالبان نے قبضہ جمالیا ہے۔کابل حکومت کو 34میں سے 29صوبوں میں طالبان اور داعش کے جنگجوئوں کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے ۔اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے ساتھ ہی ایک اور رپورٹ امریکہ کی طرف سے جار ی ہوئی ہے ۔جس میں کہا گیا کہ رواں برس افغانستان میں امریکی فضائی حملوں میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔یہ رپورٹس اور افغانستان کے بدلتے ہوئے زمینی حقائق کو پیچیدہ تر بنارہے ہیں۔امریکہ بھارت اور کابل حکومت مل کر حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔امریکہ نے اپنے متبادل کے طور پر طاقت کا خلاء پر کرنے کے لئے بھارت کو آگے بڑھایا تھا مگر یہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید الجھ کر رہ گیا ۔امریکہ ،بھارت اور کابل کی مثلث بننے نے پاکستان کو دوسری انتہا پر لاکھڑا کیا ۔پاکستان ایک مدت تک تنہا عالمی عتاب اور طعنے سہتا رہا اب اسے کئی ہم خیال مل گئے ہیں جن میں روس اور چین شامل ہیں۔افغانستان کے دو اہم ہمسائے ایران اور پاکستان کابل کے ریاستی نظام میں اجنبی ہی نہیں دشمن کے کٹہرے میں کھڑے کر دئیے گئے ہیں۔روس امریکہ اور بھارت کو باہر رکھ کر افغانستان میں اپنا کردار تلاش کررہا ہے۔امریکہ افغانستان میں روس کی اس نئے انداز سے واپسی سے خوف کھا رہا ہے۔نیا انداز اس لئے کل روس ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب کی صورت کابل حکومت کا ساتھی تھا اور امریکہ مزاحمت پسند تحریک کا حامی۔آج روس تحریک مزاحمت کے ساتھ راہ ورسم بڑھا رہا اور امریکہ کابل حکومت کا سرپرست اور معاون ہے۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ افغانستان جیسے پیچ در پیچ شورش زدگی کا شکار ملکوں کا کوئی ریموٹ کنٹرول نہیں ہوتا ،کوئی مین سوئچ نہیں ہوتا،کوئی جنتر منتر حل نہیں ہوتا۔المیہ یہ ہے کہ یہی وہ غلط فہمی ہے جو افغان جنگ کے سب سے طاقتور فریق اور شریک امریکہ کو مدتوں لاحق رہی ہے اور یہی غلط فہمی حالات کی رسی پر ڈولتے ہوئے افغان حکمرانوں کو ہے ۔ جن کا خیال ہے کہ افغانستان میں امن کا جادوئی نسخہ پاکستان کے ہاتھ میں ہے ۔ان کا ایک حکم طالبان کو ہتھیار پھینک کرتخت کابل کی اطاعت پر مجبور کر سکتا ہے ۔اول تو افغانوں پر اس قدر برے دن کبھی نہیں آئے کہ وہ پاکستان سمیت کسی ملک کی ڈکٹیشن میں اس حد تک چلے جائیں اگر اس کی موہوم سی امید کبھی رہی بھی ہے تو وہ دن بہت پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ اب نئے ،طاقتور اورتازہ دم کھلاڑی میدان میں اُتر آئے ہیں۔

متعلقہ خبریں