ہم پانی پی رہے ہیں یا زہر؟

ہم پانی پی رہے ہیں یا زہر؟

کسی بھی ریاست کی یہ بنیا دی ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ ریاست کے با شندوں کو بنیادی سہولیات بہم پہنچائیں جن میں روز گار ، تعلیم، سر چھپانے کی جگہ اور پا نی جیسی بنیادی سہولیات شامل ہیں، مگر بد قسمتی سے وطن عزیز کے حکمران70 سال گزر جانے کے با وجود بھی عوام کو بنیادی سہولیا ت فراہم کر نے میں ناکام رہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کنوئوںکا 60 فی صد پانی پینے کے قابل نہیں۔ ترقی پذیر ممالک اور با لخصو ص پاکستان میں میں 80 فی صدبیماریاں جن میں ٹائیفائڈ، پیچش،ہیضہ،معدے کی بیماریاں، بلند فشار خون، اُلٹیاں اور قے ،کینسر ، گر دے کی بیماریاں، اعصابی نظام میں نقائص،بھوک نہ لگنا، پانی میں موجود بیکٹیر یل انفیکشن اور حد سے زیادہ سوڈیم، پو ٹاشیم، نائٹریٹ ،فلو رائیڈ،آئرن اور آر سینک کی موجودگی کی وجہ سے ہو تی ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر دیہاتی لوگ دور دور سے پینے کاپانی لاتے ہیں۔ ان میں 23 فیصد لوگ آدھے کلومیٹر سے، 10 فی صد لوگ ایک کلومیٹر، 5 فیصد لوگ ایک سے لیکر تین کلومیٹر تک ، 4 فی صد 3سے لیکر5کلومیٹر تک کے فاصلے سے پانی لاتے ہیں۔پاکستان کو نسل آف واٹر ریسورس نے کچھ عر صہ پہلے وطن عزیز کے 24 اضلاع میں 14000 پانی کے نمونے چیک کئے بد قسمتی سے ان نمونوں میں 83 فی صد پانی پینے کے قابل نہیں تھا، جبکہ صرف 17 فی صد پانی پینے کے قابل تھا۔ ان میں پنجاب میں 79 فی صد، سندھ میں 72 فی صد، خیبر پختون خوا میں 93 فی صد اور بلو چستان میں 99 فی صد پانی پینے کے قابل نہیں تھا جبکہ خیبر پختون خوا میں مردان اور صوابی اور پشاور کا98 فی صد ،جبکہ مینگورہ کا93فی صد پانی پینے کے قابل نہیں تھا۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں 250 ملین لوگ آلودہ پانی سے بیمار ہو جاتے ہیں پاکستان میں 62 فی صد اموات نا قص پانی کے استعمال سے ہو تی ہیں۔بد قسمتی سے اڑھائی لاکھ بچے پانی سے پیدا شدہ بیماریوں کی وجہ سے لُقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ما ہرین کہتے ہیں کہ 100 ملی لیٹر پانی میں اگر10 مائیکرو آرگینزم یعنی 10 مائیکرو جراثیم ہوں تووہ پانی پینے کے قابل ہو تا ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں 100 ملی لیٹر میں 30 سے 50 مائیکروآرگینزم پایا جا تا ہے جو عالمی معیار سے بُہت زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں سالانہ 10 کروڑ ہیضے کے مریض ہسپتالوں کے او پی ڈی میں آتے ہیں ،جنکی بیماری کی اصل وجہ ، آلودہ اور غیر معیاری پانی کا استعمال ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے ہسپتالوں میں 30 سے لیکر 50 فی صد تک خراب پانی کے ہو تے ہیں۔خوراک زراعت اور صحت کے عالمی اداروں کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جاپان کے 30 دیہاتی علاقوں میں پانی کے خراب پائپ تبدیل کئے گئے جن کی وجہ سے انتڑیوں ، پیٹ اور ٹراچوماکی بیماریوں میں 65 فی صد تک کمی واقع ہوئی۔اسی طر ح جاپان کے اس قسم کے اقدام سے بچوں کی شرح اموات میں 52 فی صد تک کمی واقع ہوئی۔بھارت کے صوبہ اُتر پر دیش میں عام لوگوں کو پینے کا صا ف پانی مہیا کیا گیا جسکی وجہ سے ہیضہ کی بیماری میں 75 فی صد، ٹائی فائیڈ 64 فی صد اور پیچش کی بیماری میں 24 فی صد کمی واقع ہوئی۔وطن عزیز میں زیادہ سے زیادہ ٹیوب ویل اور پانی کے فلٹر لگانے چاہئیں تاکہ عا م لوگوں کو صاف پانی میسر ہوں اور اس طرح ہیپا ٹائٹس اے بی سی، ملیریا، ٹائیفا ئیڈ اور یرقان کی بیماریاں جو تیزی سے پھیل رہی ہیں انکا فوری تدارک کیا جائے ۔ وطن عزیز میں جتنے ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں انکا مہینے میں ایک بارمعائنہ ہونا چاہئے اور جن لوگوں کی ڈائریکٹ نکاس آب والی نالیوں کے ساتھ باتھ روم کی لائن ملائی ہوئی ہیںان کو پابند بنانا چاہئے کہ وہ ٹائلٹ کی لائنوں کو سیوریج لائن میں نہ ملائیں۔ اگر صا ف پانی کی فراہمی پر زور دیا گیا تو اس سے بہت ساری بیماریوں پر قابو پاکر حکومت اور لوگوں کے خرچے میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ زندگی کے لئے پانی ایک بنیادی ضرورت ہے اور ہمیں ایک قوم کے طور پر اور ریاست کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہئے ۔بد قسمتی سے ہمارے شہری علاقوں میں جہاں جہاں واٹر فلٹر لگائے گئے اُنکی بھی صفائی نہیں کی جاتی اور نہ اسکی مرمت کی جا تی ہے ۔لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ ان واٹر فلٹر کی اچھی طریقے سے مہینہ میں ایک دفعہ صفائی ضرور کرے۔ اور جن لوگوں کو حکومت کی طرف سے محلے میں واٹر فلٹر میسر نہیں وہ 4یا 5ہزار کا واٹر فلٹر لگا کر اپنا پینے کا پانی صاف کر سکتے ہیں۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ پختون ڈیڑھ لاکھ کی کلاشن کوف تو خریدتے ہیں مگر 4یا 5 ہزار کا واٹر فلٹر نہیں خریدتے اور گندا پانی پی کر لاکھوں روپے ڈاکٹروں اور لیبا رٹریوں کو دیتے ہیں۔ میں نے یہ بات سُنی ہے کہ بعض کا رخانہ دار اپنی انڈسٹر ی کے گندا پانی کو زمین کی گہرائی تک لے جاکر زمین دوز پانی میں شامل کرتے ہیں جس سے زمین دوز پانی زہریلا ہو جاتا ہے۔لہٰذا اس قسم کے کاموں کا بھی تدارک ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں