بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنر ز کے ساتھ زیادتی

بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنر ز کے ساتھ زیادتی

مرزا غالب نے کہا تھا ایک ہنگا مے پہ موقوف ہے گھر کی رونق 

نوحئہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی
ہمارے سیاسی رہنمائوں نے مرزا غالب کے کہے ہوئے کو رہنمااصول کے طور پر اپنا رکھا ہے ، اور ہر وقت سیاسی ، غیر سیاسی ، باہمی منافرت اور مخالفت پر ہنگامے کھڑے کر کے اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں ۔ یعنی اپنے ہونے کا پتہ دیتے ہیں ۔ ہم بھی زنجیر ہلا دیتے ہیں والی صورتحال بناتے ہوئے پہلے سے پریشان عوام کو داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ اب یہی دیکھ لیجئے آنے والے مالی سال کے بجٹ پر اگرچہ قومی اسمبلی میں بحث ہورہی ہے لیکن اپوزیشن نے سید خورشید شاہ کی بطور اپوزیشن لیڈر تقریر براہ راست نہ دکھانے پر اسمبلی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے جبکہ سینیٹ میں بجٹ پر اپوزیشن نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مجوزہ اضافے کو کم قرار دیتے ہوئے اسے تنخواہ دار طبقے کے ساتھ زیادتی قرار دے دیا اور اس میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سینیٹ میںکہا ہے کہ بجٹ پر لوگوں کی نظر ہوتی ہے لیکن پنشنرز اور تنخوادار طبقے کے ساتھ بجٹ میں زیادتی کی گئی ہے ، ہائوس رینٹ ، میڈیکل الائونس میں اضافہ نہیں رکھا گیا ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ مہنگائی کے لحاظ سے ناکافی ہے ۔ لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ، پیپلز پارٹی کے شیڈو بجٹ کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 25فیصد اضافہ کیا جائے ۔ حبیب جالب نے کہا تھا
ہمارے در د کا جالب مداوا ہو نہیں سکتا
کہ ہر قاتل کو چارہ گرسے ہم تعبیر کرتے ہیں
ہر سال بجٹ کی آمد سے پہلے حکومت وقتاً فوقتاً یعنی ہر دو تین دن کے وقفے سے خصوصاً سرکاری ملازمین اور پنشنر ز کو طفل تسلیاں دینے کیلئے تنخواہوں اور پنشن کے حوالے سے فلر (Filler)چھوڑ تی رہتی ہے جسے عوامی زبان میں اگر لمبی چھوڑنے سے تعبیر کیا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت سرکای ملازمین اور پنشنرز اخبارات کے ذریعے مہنگائی کا رونا روتے ہوئے اپنی تنخواہوں اور پنشن میں معقول یعنی مہنگائی کے تناسب سے اضافے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں ۔ حاضر سروس ملازمین کے پاس تو حکومت کو تڑی لگانے کا حربہ بھی موجود ہوتا ہے اور ماضی میں ہم دیکھ بھی چکے ہیں کہ ملازمین نے سیاہ پٹیاں باندھ کر قلم چھوڑ ہڑتال کر کے یا پھر مکمل شٹر ڈائون کرتے ہوئے مظاہرے تک کئے ۔ تاہم جہاں تک بے چارے پنشنر ز کا تعلق ہے ان کی حالت تو مردہ بدست زندہ کی ہوتی ہے اور وہ تو چلے ہوئے کارتوس والی بندوق کی مانند ہوتے ہیں جس کا کوئی مصرف نہیں رہ جاتا یعنی وہ تو ورنہ پر گزارہ کرتے ہوئے جھوٹ موٹ کی تڑی دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے اور سر تسلیم خم ہے کی صورت جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا کہہ کر صرف اپنے اشک بہانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس لئے بجٹ میں جتنامل جائے اسی پر اکتفا کر لیتے ہیں کہ اگر حکومت یہ بھی نہ دے تو یہ پنشنرز کر بھی کیا سکتے ہیں ۔ حالانکہ بجٹ پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جو لوگ بحث کر کے ملازمین کی تھوڑی بہت اشک شوئی کر سکتے ہیں انہیں اپنی تنخواہوں میں اضافے کی پڑی ہوتی ہے جو ماضی کے حالات کی روشنی میں بعض اوقات دوسو فیصد سے لیکر پانچ سو فیصد تک ہوتی ہے۔
ابھی چند روز پہلے ہی ایک صوبائی اسمبلی میں ممبران کی تنخواہوں میں '' سینکڑوں فیصد '' اضافے کے مطالبے کی باز گشت سنائی دی ہے ، یعنی اپنے لئے تو اتنا اضافہ جو ظاہر ہے ہائوس میں ایک قرار داد سے ہی ہو جاتا ہے لیکن سرکاری ملازمین اور پنشنر ز کیلئے محض دس فیصد اضافہ اور اس پر بھی یہ اضافہ ایوان ہائے میں بحث سے مشروط اور بجٹ تجاویز کی منظوری کے بعد ہی دیا جاتا ہے ، مگر اپوزیشن رہنما سید خورشید شاہ نے حکومت کو ''واک اوور '' دینے اور اپوزیشن کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی سے واک آئوٹ اور بائیکاٹ کی آڑ میں بجٹ کو بہ آسانی منظور کرانے کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور خصوصاً پنشنر ز کو کسی تنخواہ پر کام کرنے کی راہ میں کوئی مزاحمت نہ کی جاسکے ، اور ملازمین کے حق میں بات نہ کر سکنے کا الزام بھی اپوزیشن پر نہ لگایا جاسکے ۔ رہ گئی بات سینیٹ کی تو بجٹ کے معاملے میں سینیٹ کی کوئی کلیدی حیثیت ہے ہی نہیں یعنی سینیٹ چونکہ بجٹ کی منظوری نہیں دیتا اس لئے وہاں اگر ایسا کوئی مطالبہ کیا بھی جائے تو حکومت اس کو تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہوتی ، قارئین کرام کو یا دہوگا کہ جب تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے حوالے سے اخبارات میں فلرز چھوڑ ے جار ہے تھے اور کبھی تیس فیصد ،کبھی 25فیصد اور کبھی 20فیصد اضافے کی خبریں چھپ رہی تھیں تو میں نے اسی وقت اپنے کالم میں سرکاری ملازمین اور پنشنر ز کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ محض اس طبقے کا ری ایکشن معلوم کرنے کا بہانہ ہے اور آخر میں ہوگا وہی جو گزشتہ سالوں میں ہوتا آیا ہے اور بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ ، خوف ،امید یا نہ جانے کیا کیا تھا ۔ صرف الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس کی جو بھی وضاحت آپ کرسکتے ہیں کرلیں ، کیونکہ حکومت کے خزانے نہ غریب طبقات کیلئے ہوتے ہیں نہ بے چارے ملازمین کیلئے ، ہاں مراعات یا فتہ طبقات پہلے بھی نہال تھے پھر بھی نہال ہوں گے ۔ سید خورشید شاہ اگر اپنی بے جا ضد چھوڑ کر قومی اسمبلی میں ملازمین اور پنشنر ز کے حق کیلئے آواز بلند کر یں تو ان کا رتبہ مزید بلند ہو جائے گا ۔

متعلقہ خبریں