مشرقیات

مشرقیات

حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ انصاری مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑے باغ والے تھے ۔ اُن کا ایک باغ تھا جس کانام بیر حا تھا ۔ وہ ا ن کو بہت ہی زیادہ محبوب تھا ۔ مسجد نبوی کے قریب تھا ۔ پانی بھی اس میں نہایت شیریں اور افراط سے تھا ۔ حضورۖ اکثر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور اس کا پانی نوش فرماتے ۔
جب قرآن شریف کی آیت''ترجمہ '' ''تم نیکی کے کامل درجہ کو نہیں پہنچ سکتے جب تک ایسی چیزوں سے خرچ نہ کرو گے جو تم کو پسند ہیں '' نازل ہوئی تو ابو طلحہ ، نبی کریم ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے اپنا باغ بیرحا سب سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ محبوب مال اللہ کے راستہ میں خرچ کرو ۔ اس لئے وہ اللہ کے راستہ میں دیتا ہوں ۔ آپ جیسا مناسب سمجھیں اس کے موافق اس کو خرچ فرمادیں ۔ حضو ر ۖ نے بہت زیادہ مسرت کا اظہار فرما یا ، اور فرمایا کہ بہت عمدہ مال ہے ۔
میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو ۔ ابو طلحہ نے اس کو اپنے اہل قرابت میں تقسیم فرما دیا ۔ حضرت جعفر طیار حضور اقدس کے چچا زاد بھائی اور حضرت علی کے حقیقی بھائی ہیں ۔حضرت جعفر مساکین کے ساتھ خاص تعلق رکھتے تھے اور زیادہ اٹھنا بیٹھنا غربا ہی کے ساتھ ہوتا تھا ۔ غزوہ موتہ میں شہید ہوئے ۔ ان کے انتقال کی خبرپرحضور ۖ ان کے گھر تعزیت کے طور پر تشریف لے گئے اور ان کے صاحبزادوں عبداللہ اور عون اور محمد کو بلایا ۔ وہ سب کم عمر تھے ۔ اُن کے سر پر ہاتھ پھیر ا اور برکت کی دعا فرمائی ۔ ساری ہی اولاد میں باپ کا رنگ تھا ، مگر عبداللہ میں سخاوت کا مضمون بہت زیادہ تھا ۔ سات برس کی عمر میں حضور اقدس ۖ سے بعیت ہوئی ۔ انہی عبداللہ بن جعفر سے کسی شخص نے حضرت علی کے یہاں سفارش کرائی ۔ اُن کی سفارش پر اس کا کام ہوگیا تو اس نے نذرانے کے طور پر چالیس ہزاردرہم بھیجے ۔ انہوں نے واپس کر دیئے کہ ہم لوگ اپنی نیکی کو فروخت نہیں کرتے ۔ (اصابہ )
حضرت عبدالرحمن بن عوف تجارت کے معاملے میں بڑے خوش نصیب تھے ، گویا وہ پتھر بھی ہٹاتے تو نیچے سے سونا نکل آتا ۔ ایک مرتبہ ان کا تجارتی قافلہ مدینہ آیا تو سات سو اونٹوں پر صرف خوردنی سامان تھا ۔ تجارت کے علاوہ زراعت بھی ان کا ذریعہ آمدنی تھا ۔ امام ابن عبدا لبر لکھتے ہیں کہ جرف کے مقام پر انہوں نے بیس اونٹ کھیتوں کی آبیاری کے لئے رکھوائے ہوئے تھے ، پھر جس قدر آمدنی ہوتی تھی اسی قدر اللہ کے راستے میں خرچ کرتے تھے ، ہزاروں اشرفیاں نقد اور سینکڑوں اونٹ گھوڑے ، جہاد کے سلسلے میں چندے کے طور پر دے دیتے تھے ، امہات المومنین کی کفالت بڑی فراخ دلی سے کرتے تھے ، ہزار ہا روپے نقد ان کی خدمت میں پیش کرتے ۔ ایک باغ ان پر وقف کیا جو چار لاکھ میں فروخت ہو ا۔
(دین و دانش جلد اول)

متعلقہ خبریں