ایکو کانفرنس سے وابستہ کامیابیاں اور امکان

ایکو کانفرنس سے وابستہ کامیابیاں اور امکان

اقتصادی تعاون کی تنظیم کی جانب سے پاک چین اقتصا دی راہداری کی مکمل حمایت اور اس میں شرکت کی خواہش کا اظہار اور ایکو ممالک کا باہم تجارت کو دوگنا کرنے کے اعلان سمیت دیگر اہم اعلانات اور اقدامات پر مشاورت کے بعد اختتام اجلاس کی کامیابی اور علاقائی تعاون کی نئی راہیں کھولنے کی نئی امید ہے ۔ ایکو ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ ،سائیبر ،توانائی اور سیاحت کے ذریعے عوامی سطح پر رابطے بڑھانے اورتوانائی کے ذرائع کے بہتر استعمال پر بھی اتفاق ، سیاسی تنازعات حل کرنے اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان اور حکومتی نمائندوں کا اتفاق خوش آئند اور حوصلہ افزاء امر ہے ۔ اس اجلاس کی کامیابی کیلئے پاکستان کی مساعی اور رکن ممالک کی دلچسپی کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن افغانستان جیسے پسماندہ اور مشکلات کا شکار ملک کی جانب سے اس اجلاس میں سربراہ یا کم از کم وزیر خارجہ کی شرکت کی بجائے پاکستان میں افغان سفیر کی سطح نمائندگی افسوسناک امر تھا جسے تنظیم کے سربراہی اجلاس میں محسوس کیا گیا اور اگر دیکھا جائے تو افغانستان نے ایسا کر کے خود اپنے ملک کو ایک اہم اقتصادی ترقی و تعاون کے مواقع سے فائدہ اٹھانے سے دور رکھا اور علاقائی ممالک کو اس امر کا منفی تاثر دیا کہ افغانستان کے نزدیک اس اجلاس کی وہ اہمیت نہیںجو ہونی چاہیے تھی ۔پاکستان سے افغانستان کے اختلافات اور سرحد کی بندش کے جاری حالات اپنی جگہ بڑے مسائل ضرورہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان سے تعصب کی بنا ء پر دوسرے علاقائی ممالک سے بھی منہ موڑ لیا جائے۔ ہمارے تئیں افغانستان مناسب نمائندگی کے ساتھ شرکت نہ کرکے اپنا ہی نقصان کر بیٹھا ہے۔ اگر افغان صدر اشرف غنی یا افغان وزیر خارجہ آتے تو رکن ممالک کے درمیان رسمی یا غیر رسمی ملاقاتوں کے دوران اپنے مسائل و مشکلات اور یہاںتک کہ پاکستان سے بھی معاملات پر موزوں ماحول میں بات چیت ہوسکتی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان کشید گی میں کمی کا راستہ نکلنا ممکن ہوتا ۔ بہر حال اس سے قطع نظر اس اجلاس میں جن اقدامات کا عزم ظاہر کیا گیا ہے سارک کے پلٹ فارم پر بھی ایسے ہی معاملات کے عزائم قبل ازیں ظاہر کرنے کا رواج ضرور رہا ہے اور وقتاً فوقتاً خوش آئند اعلانات بھی ہوتے آئے ہیں مگر اس ضمن میں عملی طور پر پیش رفت کے معاملے میں ایسی کار کردگی سامنے نہیں آئی جسے حوصلہ افزاء اور امید افزاء قرار دیا جاسکے ۔ ماضی کے تناظر میں تو اپکو موجودہ سربراہی اجلاس بھی نشستند ، گفتند وبرخواستند ہونا چاہیے مگر اس اجلاس کو اس کے بر عکس اور امید افزاء قرار دینے کی ایک بڑی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ علاقائی ممالک کے پاس سی پیک سے منسلک ہونے اور اس کے فوائد و ثمرات سمیٹنے کی صورت ایک سنہری موقع موجود ہے ۔ اس موقع کی نشاندہی کوئی مشکل نہیں کہ اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سامان تجارت کی نقل وحمل کیلئے عالمی معیار کا ایک بنیادی ڈھانچہ کھڑا کر کے خطے کے ممالک کو باہم مربوط اور ترقی و تجارت اور وسیع کاروبار و روابط کی قربت کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اگر دیکھا جائے تو اس پر خطے کے ممالک آمادہ بھی ہیں اور اس ضمن میں سبھی کی خواہش ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری علاقائی تعاون اور خوشحالی کے ضمن میں اہم پیشرفت ہے جس سے پورا خطہ مستفید ہوگا ۔ یہ عظیم منصوبہ نہ صرف پاکستان اور چین کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا بلکہ تمام پڑوسی ملکوں خصوصاً اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی معیشتوں کی ضروریات بھی پوری کرنے کا سبب بنے گا۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ معاشی یگا نگت اور رابطہ تیز رفتار اقتصادی ترقی ، ملازمتوں کے نئے مواقع کی تخلیق تجارت میں توسیع ،صحت مند مسابقت کے فروغ اور علاقائی خوشحالی میں اضافہ تنظیم کے مقاصد میں شامل ہیں جن پر توجہ اور عملد ر آمد سے خطے میں خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ممکن بنے گا ۔ ایکو کے رکن ممالک کے درمیان ٹرانزٹ اور فری ٹریڈ کی سہولتوں سے سماجی اقتصادی کی راہ ہموار ہوگی اور یوں اقتصادی تعاون تنظیم پورے خطے کی خوشحالی کا باعث ہو سکتی ہے ۔ خطے کے ممالک کے درمیان تجارت کو دوگنا کرنے کا فیصلہ خوش آئند ضرور ہے لیکن ہمارے تئیں اس سے کہیں زیادہ کے مواقع ہیں کیو نکہ دنیا کی آبادی کا سولہ فیصد ایکو ممالک کا ہے ۔ مگر دنیا کی تجارت میں اس کا حصہ محض دو فیصد ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ باعث اطمینان امر یہ ہے کہ ایکو کے سربراہی اجلاس نے خطے کے ممالک کیلئے ترقی کی سمت متعین کردی ہے۔ رکن ممالک کو ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے مل جل کر کوشاں رہنا ہوگا ۔ اقتصادی تعاون تنظیم میں اصلاحات کی بھی ضرورت ہے ۔ ای سی سیکر ٹریٹ کو مضبوط بنانے اور انسانی وسائل کو مستحکم کرنے کے علاوہ منصوبوں کیلئے بہتر میکنزم تیار کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ رکن ممالک باہمی اتحاد سے ایشیا ء کے اقتصادی اور تجارتی مرکز ہونے کے کردار کا احیاء کریں۔ قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے اور ایک دوسرے سے اس ضمن میں تعاون و شراکت اور حصہ دینے خاص طور پر تیل وگیس اور بجلی کی پیداوار کے مواقع کے ضمن میں تعاون کے ذریعے توانائی کی مد میں درپیش مشکلات پر قابو پانے ریل اور روڈ نیٹ ورکس کو مربوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ علاقائی خوشحالی کا خواب جلد دسے جلد شرمند ہ تعبیر ہو ۔

متعلقہ خبریں