سپر لیگ فائنل کیلئے جوش و خروش کا بھر پور مظاہرہ

سپر لیگ فائنل کیلئے جوش و خروش کا بھر پور مظاہرہ

پاکستان میں سپر لیگ کے پانچ مارچ کو قذافی سٹیڈیم میں کرانے کے فیصلے کے بعد ایک خام خیال یہ پایا جاتا تھا کہ خطرات کے باعث شاید سٹیڈیم خالی رہے لیکن ٹکٹو ں کا ایک روز میں فروخت ہوجانا اور عوام کی میچ دیکھنے میں بھر پور دلچسپی کے اظہار کے بعد خوف کا وہ عالم اب فطری طور پر طاری نہیں ہوگا بلکہ میچ دیکھنے اور اس کے انعقا د کے ضمن میں جوش و خروش میں دن بہ دن اور لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوگا ۔ ایک بڑے عرصے کے بعد وطن عزیز کے ویران پڑے کرکٹ گرائونڈ پر بین الاقوامی سطح کا نہ سہی ملکی سطح کے اہم میچ کا انعقاد خوش آئند اور حوصلہ افزا ء کہلائے گا ۔ اس ضمن میں میچ کے ٹکٹ حاصل کرنے والوں کو ابھی سے اس امر کا احساس دلانے اور ان کی رہنمائی کر کے ذہنی طور پر تیار کرنے کی ضرورت ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ان کو میچ دیکھنے کیلئے آنے اور واپسی کے وقت خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہوگا جس کو انہیں قومی فریضہ اور تحفظ کے انتظامات کی مجبوریاں گردان کر خوش دلی سے جھیلنا ہوگا ۔ صورتحال ایسی ہے کہ سیکورٹی انتظامات کے ضمن میں کسی رو رعایت اور نرمی کی گنجائش نہیں اور نہ ہی اس طرح کی کوئی گنجائش رکھی جانی چاہیئے ۔ ٹکٹو ں کی فروخت کے مرحلے کے بعد باقی دنوں میں میچ دیکھنے آنے والے شائقین کی رہنمائی کیلئے میڈیا پر مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ سیکورٹی انتظامات کی مد میں تماشائیوں کو کن مراحل اور حالات سے گزرنا ہوگا اور ان کو کس قسم کی ممکنہ مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کس قسم کی ممکنہ صورتحال میں ان کو کیا کرنا چاہیے ۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ پی ایس ایل کے فائنل میچ کے لاہور میں کامیاب انعقاد سے ملک کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے ذہنوں میں خدشات کا ازالہ ہوگا جو کھلاڑی کمنٹر یٹر اور آفیشلز عدم تحفظ کے احساس کے باعث پاکستان نہ آئیں ان کے اس احساس کو غلط ثابت کر نا ہوگا تاکہ وہ کسی آئندہ موقع پر ہچکچا ہٹ کا شکار ہوئے بغیر اطمینان کے ساتھ پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیں جو غیر ملکی کھلاڑی اور مہمان آئیں ان کے تحفظ اور سلامتی پر خاص طور پر اس طرح سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ انہیں سیکورٹی کی مشکلات سے کم سے کم واسطہ پڑے اور ان کو سکون اور تحفظ کا احساس دلایا جائے ۔
پبلک سروس کمیشن کے امید واروں کا تعلیمی استعداد
خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ اس بنا ء پر واقعی دلچسپ ہے کہ اعلیٰ کارکردگی پر مبنی سند یافتہ امید وار وں نے سیدھے اور عام سوالات کے اوٹ پٹانگ جوابات دیئے اور ان کو سیا سیات ، انگریزی ادب ، انتظامی امور کی سند رکھنے کے با وجود بنیادی انتظامی معاملات اور معلومات عامہ سے چنداں واقفیت نہ تھی ۔ اپنے اپنے شعبو ں میں ماسٹر ڈگری رکھنے والوں کی اپنے ہی مضمون کے بارے میں اس قدر ناقص معلومات بلکہ لا علمی اور جہالت کی تو کم از کم توقع اور گنجائش نہیں اور ایک لحظہ تفکر پر یہ ناقابل یقین بھی نظر آتا ہے مگر ایسا ہوا ہے اور یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے کے باوجود انٹر ویو میں وہ ابتدائی معلومات بھی نہ دے سکے اس سے جہاں امید واروں کی قابلیت کا پول کھلتا ہے وہاں پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی اور نظام پر سوال اٹھتا ہے کہ اس طرح کے امید واروں نے تحریری امتحان اور سکریننگ ٹیسٹ کے مرحلے میں کامیابی کیسے حاصل کی ؟پبلک سروس کمیشن کا امتحان دینے والے اکثر طالب علموں کو تو یہ تک معلومات دینے سے احتراز برتا جاتا ہے کہ ان کا نتیجہ کیا رہا ۔ جو لوگ تمام مراحل سے گزر کر آتے ہیں ان میں سے ایسے افراد کا ہونا کوئی راز نہیں کہ وہ کسی معیار اور قابلیت کے حامل نہیں بہر حال فیڈ رل پبلک سروس کمیشن کے حالیہ امتحانی نتائج بھی حوصلہ افزاء نہیں رہے اس ساری صورتحال کی وجہ تعلیمی انحطاط اور محنت و قابلیت کی کمی ہے۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں تعلیم کی جگہ صرف ایک مرحلے سے گزر کر سند جاری کردی جاتی ہے ہماراامتحانی نظام بھی قابلیت جانچنے کا قابل اعتماد ذریعہ نہیں رہا ۔ میڈیکل کالجوں میں داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ اور آسامیوں کیلئے سکریننگ ٹیسٹ کا اضافی تکلف بھی مئو ثر ثابت نہیں ہو ا ۔ اس ساری صورتحال میں ایک مرتبہ پھر پرائمری سطح سے لیکر میٹرک کی سطح تک درس و تدریس کے نظام پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اہل اور قابل اساتذہ کی میرٹ پر تقرری کی جائے اور سکولوں خواہ و ہ سرکاری ہوں یا نجی ان کے معیار کا وقتاً فوقتاً ماہرین سے جائزہ لیا جائے اور اس بارے ایک میکنزم بنایا جائے تاکہ محولہ قسم کی صورتحال کا اعادہ نہ ہو ۔

متعلقہ خبریں