پشتون پنجابی مسئلہ، اصل سازش کیا ہے؟

پشتون پنجابی مسئلہ، اصل سازش کیا ہے؟

گو پنجاب کے وزیر اعلیٰ یہ کہہ رہے کہ ''صوبہ میں مقیم پشتون ہمارے بھائی ہیں۔ سرچ اور کومبنگ آپریشن کسی قوم کے خلاف نہیں'' لیکن جس مسئلہ کو انہوں نے یکسر نظر انداز کیا وہ پنجاب پولیس کا مجرمانہ طرز عمل ہے۔ انہیں اس امر کی تحقیقات کروانی چاہئے تھیں کہ سرچ اور کومبنگ آپریشن کے دوران پولیس اہلکاروں نے کس کے ایما پر ایک خاص علاقے کے لوگوںکے ساتھ نا مناسب برتائو کیا؟ یہ کہ اگر آپریشن کی زد میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری آئے تھے تو کسی تاخیر کے بغیر اعداد و شمار کے ساتھ وضاحت لازمی تھی۔ پاکستان کثیر القومی ملک ہونے کی وجہ سے پانچ اقوام اور چار صوبائی اکائیوں کی فیڈریشن ہے۔ فیڈریشن کے کسی ایک حصے کے لوگوں کے ساتھ دوسرے حصے میں نا مناسب برتائو مسائل پیدا کرنے کے ساتھ وفاق کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے پہلے سے موجود دوریوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہاں ساعت بھر کے لئے یہ بھی دیکھ لیجئے کہ واقعات کی تصدیق کے بغیر ہمارے پشتون دوستوں کے بعض حلقوں نے سوشل میڈیا اور اخبارات میں جو مہم چلائی وہ کیا ہے؟ دو مثالیں عرض کرتا ہوں۔ اولاً یہ کہ پشتون دوستوں نے بلا تحقیق ایک ویڈیو کو سندھ پولیس کے پشتونوں سے نا مناسب برتائو کے ثبوت کے طور پر وائرل کیا جبکہ وہ ویڈیو سکھر میں ایک سندھی خاندان کے احتجاج کی تھی۔ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس کا سلوک یقینا انسانیت کی توہین کے زمرے میں آتا ہے مگر ایک مقامی واقعہ کو پشتون دشمنی کے طور پر پیش کرکے نفرت کا طوفان اٹھانے والوں کے مقاصد کیا تھے؟ ثانیاً لاہور کی انجمن تاجران ہال روڈ کا ایک جعلی لیٹر تھا جسے لے کر خوب دشنام طرازی ہوئی جس کے جو منہ میں آیا کہا مگر جب انجمن تاجران ہال روڈ کا وضاحتی بیان سامنے آیا تو دشنام طرازوں نے پینترا بدلہ اور نیا راگ الاپنا شروع کردیا۔

سوشل میڈیا کے مجاہدین ہمیشہ عقل اور تصدیق سے کورے رہے وہ قوم پرست ہوں یا مذہبی جنون کاشکار' زندگی اور عصر کی سچائیوں پر لٹھ مارتے دشنام طرازیوں پر اترے ان صاحبان کو کبھی افغان مہاجرین کے لئے پل پل بدلتے اپنے اور اپنے رہنمائوں کے خیالات عالیہ پر غور و فکر کی توفیق ہو تو پچھلے 30 سال کی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیں۔ افغان مہاجرین کے لئے کبھی مذہبی جماعتوں کا درد اسلامی زور پکڑتا ہے اور کبھی قوم پرستوں کی پشتون ولی۔ یہی تلخ حقیقت ہے حالانکہ مہاجریت کے مسلمہ عالمی قوانین نے تحت افغان باشندوں کو جو مہاجرین ہیں پاکستان میں پراپرٹی خریدنے' کاروبار کرنے اور بلا اجازت شہری علاقوں میں مقیم ہونے کا اختیار نہیں۔ جنرل ضیاء الحق سے آج تک کی ہر حکومت نے عالمی و ملکی قوانین کو نظر انداز کیا ۔ حکومتوں کا یہ رویہ کسی بھی طرح لائق تحسین نہیں۔ یہ بھی عرض کردوں کہ پنجاب میں سرچ اور کومبنگ آپریشن سے صوبے میں آباد دونوں قوموں پنجابیوں اور سرائیکیوں کو بھی ڈھیروں شکایات ہیں۔ جن عناصر اداروں اور تنظیموں کے خلاف آپریشن کی ضرورت تھی اور ہے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی کسی کو جرأت نہیں۔ البتہ مسلم لیگ(ن) کے مخالفین اور سرائیکی وسیب میں قوم پرستوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ عجیب و غریب قسم کا آپریشن رد الفساد ہے کہ جدالفساد ٹائپ لوگ پنجاب حکومت اور وفاقی وزارت داخلہ کی تحفظاتی چھتریوں کے نیچے آرام فرما رہے ہیں اور سرچ و کومبنگ آپریشنوں کے نام پر عام شہریوں کو پریشاان کیا جا رہا ہے۔ بلا شبہ بعض مقامات پر پشتو بولنے والے شہریوں سے زیادتی ہوئی مگر کیا خود ان علاقوں کے مقامی لوگوں نے پولیس کے طرز عمل پر افسوس نہیں کیا؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ محض پشتون ولی کے نام پر غیر قانونی افغان شہریوں کو تحفظ دینے کا کیا جواز ہے؟ دستیاب اطلاعات سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ پنجاب حکومت اور مسلم لیگ(ن) کے چند بڑوں نے آپریشن رد الفسادکے ابتدائی دو اقدامات سرچ اور کومبنگ آپریشن کو متنازعہ بنوانے کے لئے جعل سازیاں کیں' مقصد فوج کی توجہ اصل مجرموں سے ہٹانا اور لاڈلوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ مثلاً جس طرح کی جعل سازی سانحہ مال روڈ لاہور کے سہولت کاروں اور دیگر افراد کی گرفتاریوں کے حوالے سے کی گئی اس کا مقصد بھی یہ تاثر دینا تھا کہ پنجاب پولیس اعلیٰ کارکردگی میں کسی سے پیچھے نہیں یعنی صوبے میں فوجی آپریشن کی ضرورت ہی نہیں۔
سبحان اللہ جو صوبہ دہشت گردوںکے لئے مال اور عددی قوت فراہم کرنے میں پہلے نمبر پر ہے وہاں تو مقامی ادارے درست کام کر رہے ہیں اور جو علاقے دہشت گردی سے لہو لہان ہیں وہاں آپریشن کی ضرورت ہے۔ ابتدائیہ اور پیش کردہ چند نکات ہر دو کا مقصد اس امر کی جانب توجہ دلانا ہے کہ اگلے سال کے انتخابات کے لئے لسانی تعصبات کا کاروبار کرنے کی بجائے زمینی حقائق کو بھی سامنے رکھئے۔ دہشت گردی بیس بائیس کروڑ پاکستانیوں کا اجتماعی مسئلہ ہے اس سے نجات اور دیر پا امن کا قیام ہماری اجتماعی ضرورت ۔ اس لئے سازشی کرداروں اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو تحفظ دینے والوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ بعض حالیہ واقعات اور بالخصوص پنجاب میں پشتون مسئلہ پیدا کرانے کے لئے انگنت انگلیاں پنجاب کے وزیر قانون راناثناء اللہ کی طرف اٹھ رہی ہیں سو ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم بنا کر اس کی تحقیقات کروالی جائے۔ کیا ہم امید کریں کہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت اس حساس مسئلہ پر کسی تاخیر کے بغیر توجہ دیں گے؟ ہم اور آپ امید ہی کرسکتے ہیں' امید پر دنیا قائم ہے۔ اس لئے یہ بھی امید ہے کہ پشتون دوستوں کو بھی حقائق پر توجہ دینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں