کیا تبدیلی آئی ؟

کیا تبدیلی آئی ؟

منحنی بد ن ، چا ق وچوبند ، فہم وفراست میں ترنت ، سیاسی داؤ پیچ سے آگا ہ جیسی صفات کسی میں تلا ش کی جائیں تو اس کے حامل وزیر اعلیٰ پرویز خٹک قرار پا تے ہیں ، مو صوف کا تعلق پا کستان کے ایک اہم علا قہ پیر مانکی شریف سے ہے ، یہ خطہ جو ضلع نو شہر ہ سے علا قہ رکھتا ہے ، سیا سی طو رپر بڑازرخیز رہا ہے اور اب بھی ہے ، امیر جما عت اسلا می قاضی حسین احمد کی جائے پید ائش بھی ہے جن کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانا ہے ،صوبے کے قیام پا کستان کے بعد سب سے پہلے وزیر تعلیم میا ں جعفر شاہ کا بھی مسکن یہ خطہ ہے ، اور صوبے کے دبنگ وزراء اعلیٰ میں سے ایک نصراللہ خٹک کی بھی جنم بھومی یہ ہی ہے۔ اسی خاندان کے چشم چرا غ موجو دہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ہیں ، اس کے علا وہ اس خطہ کو پاکستان کی تاریخ میں بھی اہمیت حا صل ہے کیو ں کہ سجا دہ نشین روح الا مین جو تحریک پا کستان کے ایک معروف ترین رہنما تھے ان کا بھی تعلق علا قہ پیر مانکی شریف سے ہی تھا ۔ وزیر اعلیٰ کے خطاب کے کسی حصے سے کوئی اختلا ف ہو یا نہ ہو مگر ان کے اس جملے میں اختلا ف کی گنجا ئش مو جو د ہے کہ پو لیس کا ادارہ عوامی امنگو ں کے مطا بق کا رکر دگی دیکھا رہا ہے ، تقریباً قیا م پا کستان سے ہی عوام پو لیس کی کا رکر دگی سے شاکی چلے آرہے ہیں اور اس کے بارے میں یہ ضرب المثل مشہو ر ہو ئی کہ نہ یہ دشمن اچھے نہ سجن اچھے ، اب تو خیر سے واپڈ اس سے ملحقہ ادارے گیس ، ٹیلی فون کے محکمے اور ایسے دوسرے عوامی ادارے پو لیس سے بھی دوچا ر ہا تھ آگے ہی نکل گئے ہیں ۔ ما ضی میں اس صوبے کی پو لیس کی کا رکر دگی شاند ار رہی ہے ، جس کی ہر حکمر ان نے تعریف کی ہے ۔ واقعی قابل تعر یف رہی ہے ، تاہم سیا سی ماحول جب بھی در آیا لو گو ں کی شکا یت میں اضافہ ہو ا جس کی وجہ پو لیس حکام یہ بیان کر تے تھے کہ محکمہ کی کا رکر دگی متا ثرہو نے کی وجہ سیاست دانوں کی مداخلت ہے۔ یہ شکو ہ غلط بھی نہ تھا۔ عمرا ن خان کے پی کے میںسب سے بڑی تبدیلی کا یہ ہی دعویٰ کر تے ہیں کہ پو لیس کو غیر سیا سی بنا دیا گیا ہے۔ عمو ما ًیہ شکا یت تھی کہ سیا ست دانو ں کی سفا رش پر تھا نو ں کے انچارج تعینا ت ہوتے ہیں ان کے تبادلے ہوتے ہیں سفارشیو ں کی بھر ما ر ہے جس سے کارکر دگی خراب ہوتی ہے ، اب جبکہ سیا ست سے پولیس کو پا ک کر دیا ہے تو کو نسی کا رکردگی بہتر ہو ئی ہے اس سلسلے میں بہت سی باتیں شواہد کے طور پر موجود ہیں اور یہ ہی کہنا پڑتا ہے کہ جو چال پہلے بے ڈھنگی ہے سو اب بھی ہے ، جس کا اندازہ ایک وا قعہ سے ہو جا تا ہے ایسے درجنو ں واقعات ہیں کا لم میں گنجا ئش نہیں کہ سب کو درج کیا جائے جو کہا جا تا ہے کہ دیگ کے چاول کا ایک دانہ ہی دیکھ کر اندازہ ہو جا تا ہے سو ایسا ہے کہ راولپنڈی کے ایک عمر انی عاشق نے پشاور کے علا قہ گلبہا ر میں ایک ریسٹورنٹ کھو لا تاکہ تبدیلی والے صوبے میںرزق حلا ل کمائے ابھی چند دن ہو ئے تھے کہ پو لیس کی ایک مو بائل ٹیم جو حال ہی میں سٹی پو لیس کے نا م سے متعارف کر ائی گئی ریسٹورنٹ کھانا کھا نے آئی کھا پی کر چلتے بنی تو ان کو ریسٹورنٹ کے ملا زم نے روک کر دام کا مطا لبہ کیا جس پر ان اہلکاروں کے گردے لا ل پیلے ہو گئے۔ جھڑکتے چلتے بنے ، اس شوروشرابا میںلو گ جمع ہو نا شروع ہوئے تو وہ اس وقت چلتے بنے مگر اگلے روز پھر آئے اور ریسٹورنٹ کا کافی سارا سامان باہر پھینکا ، اور ریسٹورنٹ کے مالک یعنی عمر ان خان کے ٹائیگر کو اٹھایا اورپولیس کی گاڑی میں اچھال دیا ۔ ریسٹورنٹ کے مالک کا چالا ن ناجائز تجا وزات کے جر م میں کا ٹ دیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سٹی پولیس کا ناجائز تجا وزات سے کوئی علا قہ نہیں یہ کا م بلدیا تی ادارے کا ہے ، جب پو لیس کی ٹیم کی شکا یت کی گئی تو متعلقہ پو لیس کے ڈی ایس پی نے الٹا اس مظلوم کو دبانا شروع کردیا کہ وہ پو لیس اہلکا ر و ں سے صلح کر لے ۔آخر یہ نو جو ان اپنا کا روبا ر سارا چھوڑ چھاڑ کر انصاف لیے بغیر ہی راولپنڈی پد ھا ر گیا ۔ سوال یہ ہے کہ پہلے بھی تالے ٹو ٹ جا یا کر تے تھے۔ اسی تھا نے کے علا قے گلبہا ر میں دن کے وقت ایک گھر کا تالہ توڑا گیا اس گھر میں کر ایہ دار رہتا تھا ۔ مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کی انصاف پسند حکومت سے پہلے جو ہو تا تھا وہ اب بھی ہو تا ہے لکی ڈھیر ی رو ڈ پر پہلے بھی موبائل فون چھیننے کی وارداتیں ہو تی تھیں اب جا ری ہیں ، راہ زنی کا بھی معمول قائم ہے ۔ ریسٹورنٹ میں پہلے بھی کھا نا مفت کھا یا جا تا تھا اب بھی ویسا ہی ہے ، تبدیلی کہا ں آئی ہے ، اس کا کوئی جو اب ہے ، پو لیس کو سیا سی مداخلت سے پا ک کردیا گیا ہے تو اس کا فائدہ ؟ عوام کو تو کبھی غرض نہیں رہی کہ تھا نید ار کس شخصیت کی سفارش پر رکھا گیا ہے یا کس کا تبادلہ کس سفارش کے تحت کیا جارہاہے ان کو انصاف چاہیے ۔ اس میں مبالغہ نہیں ہے کہ کے پی کے پو لیس آفیسر ز کی کا رکر دگی دوسرے صوبو ں کے مقابلے میں عمد ہ رہی ہے اور آج بھی ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ پنجا ب میں تو ایک معمولی پو لیس آفیسر جو صرف تھا نے میں ہی تعینا ت ہو تا ہے وہ سائل کو بیٹھنے کے لیے کر سی تک پیش نہیں کرتا جب کہ کے پی کے کی پولیس کی برسو ں سے روایت ہے کہ ہرآنے والو ں کی تکر یم کی جا تی ہے۔ برائی نچلی سطح پر پھیلی ہو ئی ہے نچلی سطح ہی جڑ ہو تی ہے جس کو پاک کر نا ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ چہر ے آنے جانے ہیں ادارے ہی سب کچھ ہو تے ہیں ، اگر اس میں یہ بھی شامل کرلیاجا ئے کہ ادارے افراد ہی سے بنتے ہیں اور ادارو ں کی ساکھ چہر و ں کی نیت اور کر دار سے ہو تی ہے۔

متعلقہ خبریں