دوست یاں کم ہیں اور بھائی بہت

دوست یاں کم ہیں اور بھائی بہت

الفاظ کا استعمال بڑے حکمت کی بات ہے ، سادہ سے الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بڑے انکل مانگتا ہے ، مگر ہمارے کچھ بڑے پڑھے لکھے اور سینئر بیوور کریٹ بھی کبھی نہ کبھی چوک جاتے ہیں ، اب یہی دیکھ لیجئے کہ سیکر ٹری خارجہ اعزاز چودھری نے افغانستان کے حوالے سے جو کچھ فرمایا ہے وہ نہ عمومی روزمرہ گفتگو کے حوالے سے مناسب الفاظ کے چنائو پر مشتمل ہے نہ ہی خارجہ امور کے معاملے میں الفاظ کا چنائو جس احتیاط کے متضا ضی ہوتے ہیں ان پر پورا اترنے کا حق ادا کرتے نظر آرہے ہیں ،افغانستان کے حوالے سے ایکو حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعزاز چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان جڑواں بھائی ہے اور قیام امن کیلئے ای سی او (ایکو) کی مدد کریں گے ۔ قیام امن کی خواہش یقینا نیک نیتی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو اپنی بھر پور صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہیئے ۔ مگر یہ جو مو صوف نے افغانستان کو جڑواں بھائی قرار دیا ہے تو اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ جب پاکستان کی تخلیق ہوئی تھی تو اس سے صدیوں پہلے سے افغانستان خطے میں موجود تھا ۔ البتہ اگروہ یہ کہہ دیتے کہ افغانستان پاکستان کا بھائی ہے مگر سوتیلا ، تو شاید بات مناسب بھی ہوتی اور حقیقت کے عین مطابق ۔اس کا ثبوت ایک تو قیام پاکستان کے بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان کے اقوام متحدہ کے ممبر بننے کی مخالفت ہے جو تاریخ کا ایک انتہائی کڑوا سچ ہے ، اس لئے اس حوالے سے اگر یہ کہاجائے کہ افغانستان پاکستان کیلئے برادران یوسف کے کردارکا حامل رہا ہے تو بھی کوئی مذائقہ نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک افغانستان نے پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ ہی اختیار کئے رکھا اور ہمیشہ بھارت کی پشت پناہی سے پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کرتا رہا اور اس وقت جبکہ پاکستان بار ہا یہ بات واضح کر چکا ہے کہ پاکستان میں امن کا قیام افغانستان میں امن سے وابستہ ہے اور پاکستان کی دلی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے ہر ممکن مدد کی جائے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر بھارت کی زبان میں گفتگو کرنے لگا ہے ، پاکستان میں اس وقت بدامنی اور دہشت گردی کی جو کیفیت ہے اس کے پیچھے دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ اس میں بھارت کا ہاتھ ہے ۔ اورجو لوگ ان دھماکوں وغیرہ میں ملوث ہیں ان کی پشت پناہی بھارتی ایجنسیاں کر رہی ہیں ،مگر افغانستان کی حکومت پاکستانیوں کو دشمن قرار دے رہی ہے ، افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ کا تازہ بیان ملا خطہ کیجئے ، جنہوں نے کہا ہے کہ ہم نے دوست اور دشمن کے درمیان لکیر کھینچ دی ، خطرات اور سازشوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں ۔ علامہ قبال نے کہا تھا 

فلک نے ان کو عطا کی ہے خو اجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے
عبداللہ عبداللہ تو ویسے بھی پاکستان دشمنی کے جذبات سے بھرا پڑا ہے ، ان کے تازہ الفاظ پر غور کیجئے تو واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا اشارہ صرف اور صرف پاکستان کی جانب ہے کیونکہ ایک تو جیسا کہ عرض کیا ہے کہ عبداللہ عبداللہ کا پورا سیاسی کیرئیر پاکستان کے خلاف ہمیشہ زہر اگلتے گزرا ہے ، دوسرے یہ کہ ان پر بھارت کے اثرات اس قدر چھائے ہوئے ہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر افغان تعلقات کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں تو ان کے انصاف کا ترازوبھارت کی جانب جھکا ہوا دکھائی دے گا ، دوسرے یہ کہ ان کی سوچ کے مطابق افغانستان کے ہمسائیومیں ما سوائے پاکستان کے کوئی اور دشمن ہو ہی نہیں سکتا ۔ یوں ان کا اشارہ بہت واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے وہ افغان مہاجرین جن کو گزشتہ 40/35سال سے پاکستان ہر قسم کی مراعات دے کر پالتا رہا ہے ، اب جبکہ انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے تو افغانستان کی جانب سے آنے والی فیس بک پوسٹو ں سے پتہ چلتا ہے کہ بجائے پاکستان کی قربانیوں اور مہربانیوں کے وہاں پاکستان پرچم کو جلا یا جاتا ہے ، بانی پاکستان کی تصویر کی بے حرمتی کی جارہی ہے ، اوروہاں محنت مزدوری کیلئے جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے کیونکہ انہیں یہ غصہ ہے کہ پاکستان سے انہیں واپس کیوں بھیج دیا گیا ہے ، حالانکہ اب پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں جو لوگ ملوث ہو رہے ہیں ان کی قومیت کے حوالے سے حقائق سامنے آچکے ہیں اور ان میں ازبک ، تاجک اور دیگر افغان لوگ بھی شامل ہیں ، توپاکستان اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں ان لوگوں کی تلویث کو کیسے اور کیونکر برداشت کر سکتا ہے ۔ گویا بقول اعجاز رحمانی
چین سے سو رہے ہیں ہمسائے
اٹھ رہا ہے دھواں مر ے گھر سے
ادھر ا س صورتحال سے بھی بھارت جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے اور پاکستان سے نکالے جانے والے افغان مہاجرین کے لیے اس نے مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے ، بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سے نکالے جانے والے افغان مہاجرین کیلئے بھارتی حکومت کی جانب سے مکانات تعمیر کئے جائیں گے جبکہ پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے مسلسل تشویش کاا ظہار کیا جاتا ہے ، پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت اس کے خلاف سازشوں کی غرض سے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے ، درایں حالات کیا پاکستان کی وزارت خارجہ کے سیکر ٹری اپنے الفاظ پر غور کرنے کو تیار ہیں کہ افغانستان ہمارا جڑوا ں بھائی نہیں ہو سکتا بلکہ وہ نہ صرف سوتیلا بھائی ہے بلکہ برادران یوسف والا کردار اد ا کر رہا ہے مولانا الطاف حسین حالی نے بھی تو کہا تھا ۔
آرہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یاں کم اور ہیں بھائی بہت

متعلقہ خبریں