اتفاق اور یکجہتی کا فقدان

اتفاق اور یکجہتی کا فقدان

صبح کی سیربہت بڑی نعمت ہے جب دنیا خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے تو سحر خیز کسی باغ میں فطرت کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں پھولوں کی صحبت میں تھوڑی دیر کے لیے رہنا بہت اچھا لگتا ہے اور پھر سارا دن انسان کتنا ہشاش بشاش رہتا ہے۔ اگرچہ ہمارے مہربانوں نے پشاور کے باغات کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے عوامی تفریح کے مقامات ہمارے شہر پشاور میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وہ عوام جسے ہم کوئی سہولت نہیں دے سکے لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں اکتائے ہوئے عوام ،مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام،بم دھماکوں میں مرنے والے غریب عوام،جو سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستانی کرنسی کی قدر روز بروز گرتی چلی جارہی ہے پٹرول گیس کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ زندگی میں اچھے برے دن سب پر آتے ہیں لیکن انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے اللہ پاک پر بھروسہ کرنا چاہیے۔آج وطن عزیز بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہے ہم سب بہت سے اندرونی و بیرونی محاذوں پر الجھے ہوئے ہیں مسائل کا ایک انبارہے جن سے نپٹنے کے لیے اتحاد واتفاق کی اشد ضرورت ہے بلوچستان کے حالات ہوں یا کراچی کی بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ ان کے حل کے لیے سیاستدانوں کا اخلاص اور حب الوطنی بہت ضروری ہے انہیں اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینی ہوگی۔بے بدل لکھاری مختار مسعود اپنی کتاب آواز دوست میں لکھتے ہیں کہ زوال کی ساری وجوہات کو اکٹھا کیجیے تو صرف ایک وجہ بنتی ہے یعنی ملک میں اتفاق اور یک جہتی کا فقدان۔ مشہور زمانہ مورخ ٹائن بی لکھتا ہے کہ زوال تہذیب محض ایک سنگ میل ہے یہاں پہنچ کر اونچائی ختم ہو جاتی ہے باقی راستہ نشیب میں طے کرنا پڑتا ہے یہاں تک کہ انتشار تہذیب کی منزل آجاتی ہے جہاں اس تہذیب کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اس تہذیب کے قصے اسا طیر الاولین کہلاتے ہیں۔ جب معاشرہ ٹکڑے ٹکڑے اور روح عصر فگار ہو تو جان لیجیے کہ انتشار مکمل ہو چکا ہے۔ معاشرے کے تین ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ جابر اقلیت، بیزار عوام ، اور نا مہر باں ہمسائے۔ روح جب فگار ہو تی ہے تو لوگوں کا رویہ احساسات اور طرز زندگی با لکل بدل جاتے ہیں معاشرہ جب پارہ پارہ ہوتا ہے تو وہ محض اس داخلی حقیقت کا اظہار ہے کہ معاشرے کی روح زخمی ہوچکی ہے۔قرآن مجید میں اقوام کے عروج و زوال کی داستانوں میں کتنے ہی واضح اشارے موجود ہیں جن سے قرآنی فلسفہ تاریخ ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ تین آیات قرآنی فلسفہ تاریخ سے متعلق ہیں اور ان میں وہ اصول بیان کیے گئے ہیں جو اٹل اور محکم ہیں۔ کوئی قوم ، ملک، ملت، امت ، تہذیب، معاشرہ یا کلچر ان اصولوں سے مستثنٰی نہیں۔ سبھی ان کے تابع ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔ کیونکہ نہیں ملتا انسان کو کچھ مگر بغیر کوشش کئے ہوئے۔ دوسرا اصول شکست و فتح یا عروج و زوال کے بارے میں ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اگر ہم بعض کو بعض پر فوقیت نہ دیتے تو معبدوں ، مسجدوں، گرجوں میں خدا کا نام لیوا کون رہ جاتا۔ تیسرا اصول فنا کا ہے یعنی کسی قوم ، سلطنت یا اقتدار کو دوام نہیں۔ سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔آج جب ہم اپنے معاشرے کی طرف دیکھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بڑی تیزی سے زوال کی طرف روز بروز بڑھتے چلے جارہے ہیں ایک چینی کہاوت ہے کہ ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں کچھ اسی قسم کی صورتحال سے ہم بھی دوچار ہیں جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا ہے اور اس کے شواہد بھی مل جاتے ہیں تو ہم عدالت عظمٰی کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسے ناکوں چنے چبوانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں ۔ دیانت دار افسروں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے ۔ تاریخ اقوام عالم اٹھا کر دیکھ لیجیے جب کسی معاشرے میں انصاف کی پاسداری نہیں کی جاتی عوام کو سستا انصاف گھر کی دہلیز پر فراہم نہیں کیا جاتا تو پھر اس معاشرے کی سلامتی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن جایا کرتی ہے۔ہم مروت و رواداری سے بہت دور ہو چکے ہیں مکالمہ ختم ہو چکا ہے احترام آدمیت ناپید ہے دوسروں کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا ۔ اگر کوئی ہمارے خیالات سے متفق نہ ہو تو اس کا وجود ہمارے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔کسی سیانے کا کہنا ہے کہ جب ناخن بڑھ جاتے ہیں تو انگلیوں کو نہیں کاٹا جاتا بلکہ ناخن ہی کاٹے جاتے ہیں اسی طرح جب غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں تو رشتے نہیں ختم کیے جاتے بلکہ غلط فہمیوں کو ختم کیا جاتا ہے لیکن آج آپ اپنے چاروں طرف خوب غور سے مشاہدہ کیجیے تو رشتے ختم ہوتے نظر آرہے ہیں غلط فہمیاں ہیں کہ روز بروز بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔ اتحاد و اتفاق کے حوالے سے کوئی سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا سب نفاق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں