علاقائی تعصب، اصل مسئلہ کو سمجھئے

علاقائی تعصب، اصل مسئلہ کو سمجھئے

پنجاب میں مقیم پختونوں کے خلاف حالیہ کارروائی سے پختون برادری میں تشویش کی لہر ایک فطری عمل ہے، اگرچہ پنجاب حکومت کی طرف سے انجمن تاجران کی طرف سے پختونوں کے خلاف جاری کیے گئے لیٹر کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی حکم نامہ پنجاب پولیس یا پنجاب حکومت کی طرف سے جاری نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود پختون برادری میں یہ تاثر عمومی طور پر پایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ پنجاب میں امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے، اورپختونوں کایہ شکوہ بلا وجہ نہیں ہے۔جب لاہورمیں خود کش حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی اور اس کے سہولت کار افغان پکڑے گئے تو اس کے فوری بعد پنجاب میں مقیم پختونوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اگرپنجاب میں پختونوں کے خلاف کارروائی سے قبل پختون قیادت کو اعتماد میں لیا جاتا اور انہیں اعتماد میںلے کر یہ باور کرایا جاتاکہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد جو کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے وہ پختونوں کے خلاف نہیںبلکہ درحقیقت ان دہشت گردوں کے خلاف ہے جو پختونوں کے روپ میں دہشت گردی کر رہے ہیں، پختون رہنماؤں کو بتایا جاتا کہ دراصل یہ شرپسند پختونوںکو بھی بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،یہ ہمارے ہی نہیں بلکہ تمہارے بھی دشمن ہیں۔ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ طریقہ اپنایا جاتا تو کسی صورت بھی پختون برادری میں احساس پیدا نہ ہوتا کہ پختونوںکو اُن کے اپنے ملک میں ہی ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس طرح آج پختونوںکے خلاف امتیازی کارروائی کا تاثر ابھر کرسامنے آیا ہے کچھ عرصہ قبل مسجد و مدرسہ کو بھی دہشت گردی کے اڈے قرار دیا جارہا تھا اور ہر داڑھی والے کو دہشت گرد تصور کیا جاتا تھا۔ تب بھی میرا نقطۂ نظریہ تھا کہ مسجد و مدرسہ دہشت گردی کے اڈے ہیں اور نہ ہی ہر داڑھی والا دہشت گرد ہے۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ دہشت گردوں نے اہل مذہب کا حلیہ اپنا لیا ہو۔ لیکن مسئلے کی نوعیت کو سمجھے بغیر ایک مخصوص طبقے نے مدرسہ و مسجد کو ہی دہشت گردی کے اڈے کہنا شروع کر دیا۔ ایک عرصے بعد حالات نے پلٹا کھایا ہے تو دہشت گردوں کا تعلق پختونوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بارے میں بھی میری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ پختون محب وطن اور پرامن شہری ہیں، ہاں البتہ دہشت گردوں نے اپنا حلیہ ایسا اپنایا ہوا ہے جو پختونوں سے ملتا ہے۔ شکل و شباہت اور زبان کے لحاظ سے دہشت گرد مکمل طور پر پختون ہی نظر آتے ہیں۔ اس بحث کے بعد جب یہ بات عیاںہو گئی کہ ہمارا دشمن بڑا چالاک ہے اور وہ ہمیں بیک وقت دو محاذوں پر الجھائے ہوئے ہے ، ایک یہ کہ ہمیں دہشت گردانہ کارروائیوں سے دو چار کیے ہوئے ہے ، دوسرے یہ کہ اس نے دہشت گردی کا تعلق بھی ہمارے ساتھ جوڑ دیا ہے تو ان حالات میں ہمیں گہرائی میں جا کر حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے یہ سوچ ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن یا کارروائی کسی ایک گروہ یا کسی خاص مکتبہ فکر کے خلاف ہو رہی ہے، بلکہ اس کے برعکس سیکورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جانا چاہیے ، کیونکہ کچھ عرصہ قبل کراچی میں ٹارگٹ کلرز اور بھتہ مافیا کے خلاف آپریشن کاآغازہوا تو ایم کیوایم نے احتجاج شروع کر دیا کہ آپریشن کے ذریعے مہاجروں کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ اسی دوران پنجاب میں رینجرز کے ذریعے آپریشن کی بات کی گئی تو شروع شروع میں یہ تاثر اُبھر کر سامنے آیا کہ پنجاب حکومت صوبے میں آپریشن کے حق میںنہیں ہے، مدارس اور مذہبی طبقات کے خلاف آپریشن کی صورت حال بھی تقریباً ایسی ہی رہی ہے کہ اپنے اندر چھپے شر پسند عناصر کی نشاندہی کرنے کی بجائے اسے اپنے خلاف کارروائی سمجھا گیا ، یوں اس طرح کے ماحول میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے حالات پر قابو پانا یا ٹارگٹ کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا جاتا ہے ۔ جہاں تک تعلق ہے پنجاب میں پختونوں کے خلاف ناروا سلوک کا تو ہم سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں رہنے والے پختونوں پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کیونکہ اس ملک پر پختونوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتناکہ پنجاب یا دوسری قوم کے لوگ دعویدار ہیں سو اس تناظر میں پختونوں کو افغانیوں کی خواہ مخواہ وکالت سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا۔ کیونکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اس وقت افغانستان میں دو درجن کے قریب قونصل خانوںکے ساتھ موجود ہے۔ بھارت پاکستان کو مشرقی سرحد کے بجائے افغانستان کے راستے سے نقصان پہنچا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کے آلہ کار کے طور پراکثر افغانی کام کر رہے ہیں اس لیے خیبر پختونخواکے محب وطن پختونوں کو مسئلہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ پنجاب میںیا ملک کے کسی بھی حصے میںاگر پختونوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے تو اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ پختون دہشت گرد ہیں بلکہ یہ صرف اور صرف اس لیے ہے تاکہ پختونوں کے روپ میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کا پتہ چلاکر ان کے خلاف بھرپور کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

متعلقہ خبریں