مشرقیات

مشرقیات

حضرت ا بو موسیٰ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے پاس بلا کر فرمایا :''میں تمہیں صاحب الرغیف (یعنی روٹی والے ) کا قصہ سناتا ہوں ، اسے ہمیشہ یاد رکھنا ، پھر فرمایا: '' ایک عابد شخص اپنی جھونپڑی میں لوگوں سے الگ تھلگ عبادت کیا کرتا تھا ۔ وہ ستر سال تک اسی جھونپڑی میں رہا ، اس عرصہ میں کبھی بھی اس نے عبادت کو ترک نہ کیا اور نہ ہی کبھی اپنی جھونپڑی سے باہر آیا ۔ پھر ایک دن وہ جھونپڑی سے باہر آیا تو اسے شیطان نے ایک عورت کے فتنے میں مبتلا کر دیا سات دن کے بعد جب اس کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹا تو وہ اپنی اس حرکت پر بہت نادم ہوا ، رب تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کی اور وہاں سے رخصت ہوگیا ۔ وہ اپنے اس فعل پر بہت نادم تھا ، اب اس کی یہ حالت تھی کہ ہر ہر قدم پر نماز پڑھتا اور توبہ کرتا ۔
پھر ایک رات ایسی جگہ پہنچا جہاں بارہ مسکین رہتے تھے ۔ وہ بہت زیادہ تھکا ہو ا تھا ، تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ان مسکینوں کے قریب گرپڑا ۔ ایک راہب روزانہ ان بارہ مسکینو ں کو ایک ایک روٹی دیتا تھا ۔ جب وہ راہب آیا تو اس نے اس عابد کو بھی مسکین سمجھ کر ایک روٹی دے دی اور ان بارہ مسکینوں میں سے ایک کو روٹی نہ ملی تو اس نے راہب سے کہا : '' آج آپ نے مجھے روٹی کیوں نہیں دی ؟ '' راہب نے جب یہ سنا تو کہا : ' ' میں تو بارہ کی بارہ روٹیاں تقسیم کر چکا ہوں ۔''شاید تم دوبارہ روٹی لینا چاہتے ہو ، جائو آج کے بعد تمہیں روٹی نہیں ملے گی ۔ '' جب اس عابد نے یہ سنا تو اسے اس مسکین پر بڑا ترس آیا چنانچہ اس نے وہ روٹی مسکین کو دے دی اور خود بھوکا رہا ۔ اسی بھوک کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا ۔ جب اس کی ستر سالہ عبادت اور غفلت میں گزری سات راتوں کا وزن کیا گیا تو رب تعالیٰ کی نافرمانی میں گزاری ہوئی راتیں اس کی ستر سالہ عباد ت پر غالب آگئیں ۔ پھر جب ان سات راتوں کا موازنہ اس روٹی سے کیا گیا جو اس نے مسکین کو دی تھی تو وہ روٹی ان راتوں پر غالب آگئی اور اس کی مغفرت کر دی گئی ۔
حضرت ابن مسعود سے یہی حکایت اس طرح مروی ہے : '' ایک عابد نے سترسال تک رب تعالیٰ کی عبادت کی ، پھر اس نے گنا ہ کیا ۔ تو خدا نے اس کے تمام اعمال ضائع کردیئے ، ( پھر جب اسے اپنے گناہ کا احساس ہو ا تو وہ تائب ہوگیا ) کچھ دنوں کے بعد اسے ایسی بیماری لاحق ہوئی کہ وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا ۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک شخص روٹیاں تقسیم کر رہا ہے ، گرتے پڑتے یہ بھی وہاں پہنچا اور اس نے بھی ایک روٹی حاصل کرلی ۔ ابھی اس نے روٹی کھانا شروع بھی نہ کی تھی کہ اسے ایک مسکین نظر آیا ، چنانچہ اس نے وہ روٹی مسکین کو دے دی اور خود بھوکا ہی رہا ۔ خدا کی بارگاہ میں اس کا یہ عمل ایسا مقبول ہوا کہ اس کی مغفرت کر دی گئی اور اسے ستر سالہ عبادت کا ثواب بھی لوٹا دیا گیا ۔
(ابن رجب فی جامع العلوم والحکم)

متعلقہ خبریں