آئین اور قانون کا بول بالا

آئین اور قانون کا بول بالا

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران حکومت اور تحریک انصاف کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر رضا مندی اور عدالت عظمیٰ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے کے بعد ملک کے اندر جس بحث کا آغاز ہوگیاہے اس پر مختصراً اور سادہ الفاظ میں اگرچہ یہی کہا جاسکتاہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے کسی فریق کی جیت یا ہار کا پہلو نکلنے کی بجائے اسے آئین اور قانون کی بالادستی اور پاکستان کی جیت کہا جائے تو قطعاً غلط نہیں ہوگا۔ مگر بدقسمتی سے اس فیصلے کے بعد بھی ملکی سیاسی حلقوں کا رویہ جس قسم کا ہونا چاہئے تھا اس کے برعکس دکھائی دیتاہے۔ اگرچہ اس مسئلے کے دو اہم فریق یعنی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف ہی ہیں جن کے بعض لیڈروں کے مابین ایک بار پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کو من پسند معنی اور تا ویلات پہنائی جا رہی ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے فریقین نے حسب معمول الفاظ کی گولہ باری شروع کردی ہے اور مخالف کے موقف کو غلط ثابت کرنے کی حتی المقدور کوششوں میں جت گئے ہیں۔ یہاں تک کہ طعنہ زنی کی سی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ اس تناظر میں بہت کم آوازیں ایسی ہیں جو معقولیت کے دائرے کے اندر دکھائی دیتی ہیں۔ جس طرح وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ایک بیان میں کہا کہ عمران کے فیصلے کی قدر کرتا ہوں' پہلے مان جاتے تو احتساب ہو چکا ہوتا۔ تاہم حکومتی حلقوں کی جانب سے بعض وزراء کا لہجہ اب بھی کٹیلا ہے اور خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران خان کا لہجہ ہارے ہوئے کپتان کی طرح ہے۔ دوسرے وزراء بھی طنزیہ گفتگو کرکے ایک اچھے ماحول کو مکدر بنانے کی روش پر گامزن ہیں۔ اسی طرح عمران خان کی جماعت کے لوگ بھی محولہ فیصلے کو اپنی جیت قرار دے کر اور تند و ترش لہجے میں گفتگو سے حالات کو معمول پر آنے نہیں دے رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف یہ دونوں بڑے فریق بلکہ حزب اختلاف کے بعض حلقوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے اس لئے مایوسی پھیل گئی ہے کہ وہ ملکی سیاست میں سکون و اطمینان سے زیادہ تصادم کی فضا کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ حالانکہ جیسا کہ اوپر کی سطور میں عرض کیا جا چکاہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی کا بین ثبوت ہے اور اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو عدالت عظمیٰ نے انتہائی کشیدہ سیاسی صورتحال کو اس تدبر سے حل کیاہے کہ وہ جو تیسری قوت کے آنے اور جمہوریت کے خلاف آوازیں اٹھ رہی تھیں ان کے آگے بند باندھ کر حالات کو کسی نا گفتہ بہ صورتحال تک پہنچنے سے روک دیا ہے۔ ایسے حالات میں بعض سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے اٹھنے والی آوازوں پر سوائے اظہار افسوس کے کیا کیا جاسکتاہے۔ جہاں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے یہ کہہ کر طنز کیاہے کہ پہلے ہی کہا تھا نواز شریف کا بڑا سپورٹر عمران خان ہے آئندہ بھی نواز شریف کو سیاسی فائدہ تحریک انصاف کے سربراہ کے ہاتھوں ہوگا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ دھرنے کی جگہ جشن منانا عمران خان کی چال بھی ہوسکتی ہے۔ تو گزارش ہے کہ ٹی او آرز کا مسئلہ حل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تو خود پیپلز پارٹی ہی تھی اور خاص طور پر سینٹ میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی قائد بیرسٹر اعتزاز احسن جنہوں نے گزشتہ کئی ماہ سے حکمران جماعت کے خلاف اپنے سخت لہجے سے ایک ایسا ماحول گرم کر رکھا تھا کہ اس معاملے پر فریقین کسی معاہدے پر متفق نہیں ہو پارہے تھے اور گزشتہ روز بھی جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو اس حوالے سے بھی موصوف ہی نے یہ کہہ کر سیاسی فضا کو ایک بار پھر گرد آلود کرنے کی کوشش کی ہے کہ سپریم کورٹ خود ٹی او آرز نہیں بناسکتی۔ اس طرح انہوں نے دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کو بھی دبائو میں لانے کی سعی کی ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے آج جمعرات کو دونوں فریقوں کو اپنے اپنے ٹی او آرز عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اگر ٹی او آرز پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا تو سپریم کورٹ اپنے ٹی او آرز بنائے گی جو ظاہر ہے انہی ٹی او آرز کی بنیاد پر ہی ہوسکتے ہیں جو حکومت اور تحریک انصاف کی جانب سے پیش کئے جائیں گے اور یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ تحریک جو ٹی او آرز پیش کرے گی یہ وہی ٹی او آرز ہیں جو پیپلز پارٹی اور دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں کی باہم مشاورت سے طے کئے جا چکے ہیں۔ اس لئے اگر دونوں فریق عدالت میں بحث کے دوران حسب سابق کسی متفقہ ٹرمز آف ریفرنس پر تضادات کاشکار رہے تو پھر عدالت عظمیٰ ہی کو فیصلہ کرنا پڑے گا اور اس میں کوئی دشواری اس لئے نہیں ہوگی کہ نہ صرف وزیر اعظم نواز شریف بلکہ عمران خان نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ عدالت کے ہر فیصلے کو تسلیم کریں گے۔ اس کے بعد اس قسم کے سوالات اٹھانا قانونی موشگافیوں کے سواکچھ بھی نہیں ہوسکتیں جن سے حذر ہی کیا جائے تو یہ ملکی سیاسی معاملات کے خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔

متعلقہ خبریں