افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل معطل

افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل معطل

گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا نے گزشتہ روز پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک افغان باہمی رشتے صدیوں پر محیط ہیں اور مشترکہ زبان' ثقافت' تہذیب' مذہب اور جغرافیائی طور پر بھی ایک جیسے حالات ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا کا یہ بیان اس تناظر میں سامنے آیاہے کہ جب کچھ عرصے سے افغان مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہوچکا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ملکوں کے باشندوں کے مابین بعض تلخیوں کے ابھرنے اور خاص طور پر دہشت گردانہ واقعات میں اضافے کے بعد جن میں افغان ' تاجک' ازبک اور دیگر غیر ملکیوں کی تلویث کے بارے میں اطلاعات سامنے آئیں' خیبر پختونخوا میں خصوصاً اور ملک کے دوسرے حصوں میں عموماً افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ اس معاملے میں صوبائی حکومت کے بعض زعماء کی جانب سے تند و تیز بیانات نے بھی مشکل صورتحال پیدا کردی تھی۔ تاہم وفاق میں وزارت سیفران نے یو این ایچ سی آر کے رابطے کرنے پر نہ صرف رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی مدت قیام میں مزید اضافہ کیا بلکہ اب تازہ ترین صورتحال کے تحت موسم سرما کے پیش نظر افغان مہاجرین کی واپسی کو 30نومبر سے 28فروری تک موخر کردیا گیا ہے کیونکہ اس مدت کے دوران افغانستان کے بیشتر حصوں میں برف باری اور شدت کا موسم رہتا ہے اور نقل مکانی اس قدر آسان نہیں ہوتی اس لئے ہمارے خیال میں صورتحال کے تناظر میں یہ ایک درست فیصلہ ہے اور جس طرح گزشتہ مہینوں میں زبردستی افغان مہاجرین کو اپنے وطن بھجوانے سے دونوں ملکوں کے مابین تلخیوں نے جنم لیا تھا اور تقریباً تیس' پینتیس برس سے ان کی مہمان نوازی سے بجائے دونوں طرف کے عوام کے مابین اپنائیت اور اخوت و دوستی کے رشتے مزید مضبوط ہوتے' الٹا ان پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے اس لئے جہاں اتنی مدت ہم نے اپنے ہمسایہ بھائیوں کو برداشت کیا اگر کچھ مدت مزید بھی یہ لوگ یہاں عارضی قیام کریں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں