فاتح کون؟

فاتح کون؟

کون جیتا' کون ہارا کی پریشانی سے نکل جائیں تو شاید منظر صاف دکھائی دے۔ ہم بنیادی طور پر ایک جذباتی قوم ہیں۔ اپنے اپنے لیڈروں کے بارے میں تو شاید انتہائی جذباتی ۔ وہ کچھ کہہ دیں تو ان کے لئے جان بھی حاضر اور اگر ان کے بارے میں کوئی بات کردے تو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ ہماری جذباتیت کا عالم یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور ہمارے لیڈران کچھ کہیں' کچھ کریں' ہم ان کی اندھا دھند تقلید کرتے ہیں اور پھر یونہی کسی دن ان کی کسی چھوٹی سی بات پر دل اوب جاتا ہے۔ پھر یہ نہیں کہ ہم ان کا ساتھ چھوڑ دیں' راستہ بدل لیں' اپنے آپ کو سمجھا لیں' اس کے بعد ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔ شاید کچھ دل برداشتہ بھی۔ بالکل یہی کیفیت اس وقت ان لوگوں کی ہے جو عمران خان کے ساتھ ہیں۔ جو ان کے ساتھی ہیں یا خاموش تماشائی تھے اور دل ہی دل میں عمران خان کے موقف کو درست سمجھتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نسبتاً پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ بدعنوانی کو برا جانتے ہیں۔ اس ملک و معاشرے کی زیادہ تر برائیوں سے خود بھی دور رہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان برائیوں کی جڑ بدعنوانی اور میرٹ کی پامالی کی مٹی میں موجود رہتی ہے۔ سو عمران خان جب حکومت کے احتساب کی بات کرتے ہیں یا پاناما لیکس پر شور مچاتے ہیں یہ لوگ کسی بڑی امید کو جنم لیتے نہیں دیکھتے۔ انہیں یہ بھی یقین نہیں کہ واقعی احتساب ہوسکتا ہے کیونکہ اس ملک میں نظام کا بگاڑ ان کے لئے واضح ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ اس بگاڑ کے سائے تلے بڑے لوگوں کا احتساب کبھی نہیں ہوتا۔ ہم اسی لئے تو اس تباہی کی جانب گامزن ہیں کیونکہ ہم بڑے لوگوں کی غلطیوں اور گناہوں کو صرف نظر کرتے ہیں اور کمزور آدمی پر گرفت سخت کرنے میں ذرا دیر نہیں کرتے۔ اس لئے میاں نواز شریف پرمنی لانڈرنگ کے الزامات ہوں یا صوبہ سندھ کے گورنر پر قتل کے ' ہر دو صورتوں میں احتساب ممکن نہیں۔ لیکن عمران خان کی احتساب کی حمایت میں مسلسل نعرے بازی اچھی محسوس ہوتی ہے۔ دل ہی دل میں ہم میں سے اکثریت اس بات کی خواہشمند تھی کہ احتساب کا آغاز تو ہو ہی جائے خواہ یہ آغاز کتنا ہی منحنی' کمزور اور نحیف کیوں نہ ہو۔ ایک بار آغاز ہوگیا تو آہستہ آہستہ یہ کیفیت جڑ پکڑ ہی جائے گی اور جڑ پکڑ گئی تو اسے مضبوط ہونے میں دیر نہ لگے گی۔ لیکن عدالت عالیہ نے معاملے کو ایک اور ہی طور سے سنبھال لیا ہے۔ اب خدا کرے کہ معاملہ اچھائی کی جانب ہی سفر کرے اور اس سب میں اس ملک و قوم کابھلا ہوجائے کیو نکہ مقصد تو بس یہی ہے ۔ عمران خان جس طور کہیں یا عدالت کوئی فیصلہ کرے ۔ اس نظام کی بھلائی ہی درست ما حاصل ہے ۔ وہ لوگ جو عمران خان کے ساتھ ہے یا انکے احتجاج سے متفق تھے ۔ اس اچانک بدلائو نے انہیں بد مزہ کردیا ہے پیپلز پارٹی اس وقت جو بھی کہے یا حکومتی حلقوں میں اس سب کا جیسے بھی مذاق اڑا یا جائے ، اس جذباتی قوم کے لئے اسے سمجھنا مشکل ہے ۔ انہیں تو امید تھی کہ دھرنا ہوگا ، سر پھٹول بھی ہوگا ۔ تقریریں ہونگی ، پہلے کی طرح ایک دوسرے کے پول کھولے جائینگے ، گرما گرم مباحثے ہونگے ، ایک لاکھ بھی لوگ ''ڈی چوک ''میں موجود ہوئے یا اس سے کچھ کم بھی تو باقی کے اٹھا رہ کروڑ کے ہاتھ ایک نیا موضوع آجائے گا ۔ 

شرطیں لگائی جائیں گی ۔ پی ٹی آئی کی صفوں میں تو دھرنا یوں بھی رنگین ہوتا ہے ۔ شور شرابے ، گانا بجانا بھی خوب رہتا ہے میلوں کو ترسی ہوئی اس قوم کو تفریح کا یہ موقع ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے اور کچھ ایسا پسند نہیں آ رہا ۔ عمران خان اور تحریک انصاف نے احتجاج کی جس ثقافت کو جنم دیا ہے اس میں الزام تراشی کو جس طور پر موسیقی کے ساتھ منایا جاتا ہے ، وہ تما ش بینوں کو تو بہت ہی پسندآتاہے۔ہم اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ، فیصلہ کرنے اور راہ راست منتخب کرنے کی قوت تو ایک عرصہ پہلے سے بھوک اور مفلسی کے دلدل میں کھو چکے ہیں ۔ اب ہم لوگوں کو اپنے حق میں نعرے لگاتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ چاہتے ہیں کہ خود کچھ نہ کرنا پڑے ، کوئی قربانی نہ دینی پڑے ۔ بڑے حکمران کے انتخاب نے یوں ہی ہم سے مسلسل قربانی ہی طلب کی ہے ۔ ایسے میں کون اور قربانی کا سوچے سو ہم چاہتے ہیں کہ جدوجہد کوئی اور کرے ، قربانی کوئی اور دے اور ایک دن جب ہم صبح سو کر اٹھیں ، سب ٹھیک ہو چکا ہو ۔سب اچھا کی آوازیں لگ رہی ہوں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہو ، ہم اس میں بھی صرف تماش بین ہی رہیں ، کوئی ہمارے صحنوں میں آکر امید کی دھوپ کی بوریاں اُلٹ جائے ۔ کوئی ہمارے گھر وں کے دروازوں کے ساتھ مستقبل کی روشن گھنٹیاں ٹانگ جائے ۔ ہم غلط بھی کریں تو وہ ہمارے لئے ٹھیک ہو جائے ہم جھوٹ بولیں تو وہ سچ ہو جائے ۔ ہماری خواہشات کی کوئی اتھا نہیں ۔ ہم خواب دیکھنے والے جذباتی سے لوگ ہیں۔ اب بھی عمران خان نے اپنے مئو قف میں جو لچک پیدا کر چکے ہیں اس سے لوگوں میں ایک عجب سی بے چینی ہے ۔ وہ لوگ جو عمران خان کو اپنا لیڈر مانتے ہیں وہ کچھ کہتے تو نہیں لیکن بد مزہ ضرور ہیں ۔ احتساب کا جو نعرہ عمران خان لگا رہے تھے اس مئوقف کی ایسی کوئی فتح ہوئی دکھائی نہیں دیتی اور اس کی کوئی امید بھی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ملک میں سراسیمگی کی اس فضا کو جنم دینے سے زیادہ امید اس ساری کیفیت میں ہو جو فی الحال دل کو بھا نہیں رہی ۔ عدالت عالیہ کا اس صورتحال کو سہارا دینا ہو سکتا ہے اس ملک اور نظام کو سہار ا ہی دینا ہو ۔ ہو سکتا ہے ، واقعی احتساب ہو جائے اور ہماری دنیاہی بدل جائے کون جانے کل کیا ہو ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ بھی نہ ہو لیکن اس تجربے سے اگر ہمیں یہ خیال ہی آجائے ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے ، ہمیں یہ ادراک ہی ہو جائے کہ کوئی بھی قانون کی گرفت سے بالاتر نہیں تو یہ بہت ہے اور اس میں بھی اس ملک کے لوگوں کی فتح ہے ۔ ہم اس ساری صورتحال میں سمجھ ہی نہیں پارہے کہ فاتح کون ہے عین ممکن ہے کہ یہ فیصلہ وقت کردے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ یہ فتح ابھی وقت کے پردے میں پوشیدہ ہو اور وقت گزرنے کے ساتھ واضح ہو ۔ ابھی یہ فیصلہ مشکل ہے ۔

متعلقہ خبریں