آئی ایل او کی چونکا دینے والی رپورٹ

آئی ایل او کی چونکا دینے والی رپورٹ

وطن عزیز کا محنت کش اور مزدور طبقہ اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور دیار غیر میں مقیم صرف اس لیے تکالیف برداشت کرتا ہے تاکہ ان کے پیارے سکھ کی زندگی گزار سکیں،ان کے بچوں کی ضروریات پوری ہو سکیں اور ان کے ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ ہو ۔ دیار غیر میں یہ محنت کش اور مزدور طبقہ کس طرح کی کسمپرسی کی زندگی گزارتاہے ' کس طرح ایک ایک کمرہ میں بیس بیس لوگ رہتے ہیں اس کا اندازہ اس کے گھروالے کر سکتے ہیں اور نہ ہی ملکی سطح پر اس کی کوئی تحسین کی جا تی ہے۔ بیرون ممالک یہ طبقہ جن مشکلات سے گزرتا ہے یہ ایک داستان ہے لیکن جن مراحل سے گزر کر یہ طبقہ بیرون ملک جاتا ہے ، بیرون ملک جانے کے لیے کس قدر خرچ کرتا ہے اور انہیں لوٹنے والے کون لوگ ہیں؟ اس کا پردہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او ) کی رپورٹ چاک کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں روزگار کے لیے جانے والے پاکستانی ورکرز سرکاری اخراجات کے مقابلے میں تیرہ گنا زیادہ ادا کرتے ہیں' خلیجی ممالک کے قانون کے مطابق روزگار کے لیے آنے والے غیر ملکیوں کی ویزا فیس اور اخراجات ساڑھے بیس ہزار روپے سے 31ہزار روپے ہیں جب کہ ہر پاکستانی اوسطاً دو لاکھ 64ہزار روپے ادا کرتا ہے، جس میں ویزا اخراجات 77فیصد، ایجنٹ کی فیس سات اعشاریہ آٹھ فیصد ، فلائیٹ اور دیگر نقل و حمل کی فیس سات اعشاریہ ایک ہے۔ 91فیصد پاکستانی ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ادھار لیتے ہیں، دبئی مزدوری کے لیے جانے والے پاکستانی کو طے شدہ فیس سے دو لاکھ روپے (7ہزار 340درہم ) زائد ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یو اے ای کا قانون کہتا ہے کہ کسی غیر ملکی کو متحدہ عرب امارات میں روزگار حاصل کرنے کے لیے بھرتی کیلئے 730سے 11سو درہم اخراجات ادا کرنے ہوتے ہیں۔ جب روزگار دوسرے ملک میں ہو اور ورکر کسی اور ملک کا ہو تو یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ بھرتی کی حتمی لاگت اتنی ہو کہ جو تارکین وطن برداشت کر سکیں۔ لیکن پاکستانیوں کے حوالے سے صورت حال اس کے برعکس ہے۔ مزدور طبقہ جب اس قدر اخراجات برداشت نہیں کرپاتا تو ادھا لینے پر مجبور ہوتے ہیں یا اپنا سامان فروخت کرتے ہیں۔ ان میں سے 67فیصد پاکستانی خاندان کے افراد ' رشتہ داروں اور دوستوں سے ادھار لیتے ہیں۔ 33فیصد اپنے زیورات ' گھریلو ' سامان یا مویشی فروخت کرتے ہیں۔ گو عالمی ادارے آئی ایل او نے پاکستان میں اپنے دو مراکز قائم کیے ہیں اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ اگر پاکستان میں نظام ایمانداری اور بہتر طور پر کام کرے تو سرکاری فیس اور اصل ویزافیس کے درمیان معمولی فرق رہ جائے گا۔ لیکن اس مقصد کے لیے عوام میں آگاہی پھیلانی چاہیے کہ فلاں ملک کی اصل ویزا فیس کتنی ہے تاکہ اس سے زیادہ کی ڈیمانڈ پر وہ متعلقہ مرکز رابطہ کر سکیں۔ بیرون ملک محنت مزدوری کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اور یہ گھناؤنا سلوک کون کرتا ہے، اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔ برسات میں مینڈکوں کی طرح ملک بھر میں جا بجا ٹریول ایجنٹس نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے، جو سادہ لوح پاکستانیوں کی کم علمی سے فائدہ اٹھا کر انہیں لوٹ رہے ہیں، چونکہ کسی بھی ملک کے سفارت خانے تک عام افراد کی رسائی کم ہوتی ہے۔ ویزاکے لیے اپلائی کرنا اور اس کے بعد مکمل پراسس بذات خود ایک تھکا دینے والا اور مشکل کام ہے۔ دوسرا یہ کہ سفارتخانوں میں عام طور پر انگریزی میں بات چیت ہوتی ہے اس لیے عام شہریوں کی سفارت خانوں میں جانے کی ہمت نہیں پڑتی۔ اس ساری صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہیں ایجنٹس حضرات۔ اور جو خرچہ چند ہزار ہوتا ہے اپنا کمیشن رکھ کر اسے لاکھوں میںبتاتے ہیں۔ پاکستان کے شہری چونکہ وطن عزیز میں بے روزگاری کے ستائے ہوتے ہیں اور بیرون ممالک کی بڑی کرنسی کا سن کر ایجنٹس کو منہ مانگے پیسے دینے پر رضامند ہو جاتے ہیں۔ ٹریول ایجنٹس پاکستانیوں سے صرف اضافی رقم ہی نہیں بٹورتے بلکہ اکثریت ایسوں کی بھی ہے جو سادہ لوح شہریوں سے پیسے بٹور کر رفوچکر ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں محدودوزٹ ویزہ یا جعلی ویزہ تھما کر بیرون ملک بھیج دیا جاتا ہے۔ چونکہ ائیرپورٹ کے اہلکار بھی اس مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے کسی نہ کسی طرح محنت کش طبقہ کو بیرون ملک بھیج دیا جاتا ہے اور مزدور طبقہ کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب بیرون ممالک امیگریشن کا عملہ ان سے استفسار کرتا ہے یا تین ماہ کے بعد وزٹ ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں پتا چلتا ہے کہ ان کے ساتھ کس طرح ان کے ہم وطنوں نے کھلواڑ کرکے انہیں پھنسایا ہے۔ سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے کی بنا پر لازمی طور پر ایسے لوگوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور مناسب وقت پر انہیں ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ یوں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی اس طبقہ کو ذلت ہی ملتی ہے۔ ٹریول ایجنٹس کی طرف سے شہریوں کو لوٹنے کا کام ایک عرصے سے ہو رہا ہے لیکن ارباب حل و عقد کی طرف سے شہریوں کے بچاؤ کے لیے کوئی لائحہ عمل وضع نہیں کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان بھیڑیوں کے ہاتھوں آخر کب تک شہری لٹتے رہیں گے اور حکومت کب ہوش کے ناخن لے گی جو ایسے طبقے کو تحفظ فراہم کرے کہ جو دیار غیر میں مشکلات کاٹ کر ماہانہ کروڑوں روپے ملک میں زرِمبادلہ بھیجتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں