یہ بھی ہے ایک طرز بغاوت ہوا کے ساتھ

یہ بھی ہے ایک طرز بغاوت ہوا کے ساتھ

موضوعات اس قدر زیادہ ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کس پر بات کی جائے اور کس کو نظر انداز کیا جائے۔ اگرچہ میں آج ایک خاص موضوع پر بات کرنا اور اس کی طرف خیبر پختونخوا کی جملہ سیاسی قیادت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس کا تعلق سی پیک کے حوالے سے صوبے کے مستقبل سے ہے۔ تاہم ابتداء تفنن طبع کے حوالے سے ایک پشتو مقولے سے یوں کرتے ہیں کہ کہتے ہیں گھوڑوں کو نعلیں لگواتے دیکھ کر مینڈکوں نے بھی پائوں آگے کردئیے۔ جی ہاں گزشتہ روز کپتان کو بنی گالہ میں پش اپس کرتے ہوئے دیکھ کر ان کی تقلید میں کئی دوسرے بھی گھوڑوں کے مقابلے میں مینڈکوں والی حرکت کرتے دیکھے گئے۔ کپتان نے تو پش اپس کی ففٹی مکمل کرلی جبکہ خبروں کے مطابق سلمان احمد (پاپ گلو کار) ہانپنے لگے حالانکہ وہ سٹیج پر اچھل کود کرتے رہتے ہیں اور جب تین چار روز پہلے وہ اسلام آباد پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تو انہوں نے پولیس کی گاڑی سے فرار ہوکر نہ صرف جان بچائی تھی بلکہ ہانپتے کانپتے بنی گالہ عمران خان کے گھر پہنچ ہی گئے تھے۔ تاہم فرار ہو کر دوڑ لگانے اور کھلاڑی کی طرح پش اپس لگانے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کھیل کے میدان میں پش اپس لگانے پر ہمارے بعض حکومتی پارلیمنٹرینز بھی سخت معترض ہیں جس پر کرکٹ بورڈ کے نجم سیٹھی نے یہ بیان دیا کہ پش اپس کھلاڑیوں کا ذاتی مسئلہ ہے۔ انہیں منع کرسکتے ہیں نہ ہی ان پر پابندی لگا سکتے ہیں۔ دراصل بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ممبران پارلیمنٹ کھلاڑیوں کے پش اپس پر اس لئے ناراض ہیں کہ کھلاڑی اس حوالے سے ایبٹ آباد میں فزیکل فٹنس کے دوران اپنے فوجی انسٹرکٹرز کو خراج تحسین پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ بہر حال یہ مفروضہ ہے یا حقیقت اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اب معاملہ جو بھی ہو پاپ گلو کار سلمان احمد کو عمران خان کی تقلید نہیں کرنی چاہئے کیونکہ عمران اب بھی صبح باقاعدگی سے ورزش کرتے رہتے ہیں اور فٹنس کے حوالے سے بہت سوں پر بھاری ہیں۔

اب ذرا موجودہ سیاسی اور معروضی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے عمران خان کے دھرنے یا بقول ان کے اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کے تناظر میں اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹس کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تازہ فیصلوں پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں جہاں دونوں محولہ ہائی کورٹس نے تحریک انصا ف کو اسلام آباد کو عضو معطل بنانے سے منع کرنے کے ساتھ حکومت کو راستے کھولنے اور کنٹینرز ہٹانے کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کو پریڈ گرائونڈ میں جلسہ اور دھرنے کی اجازت دی اور ساتھ ہی سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے حوالے سے کمیشن بنانے اور اس کمیشن کے نتائج کو عدالتی فیصلہ سمجھتے ہوئے من و عن قبول کرنے کا حکم دیتے ہوئے دونوں اطراف کو اپنے اپنے ٹی او آرز جمع کرانے کا حکم دیاہے تو اس طرح سے ان خدشات کو خس و خاشاک کی طرح فضا میں بکھیر کر رکھ دیا ہے جو سیاسی فضا کا پارہ حد درجے بلندی کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دینے کا نتیجہ تیسری قوت کی مداخلت کی جانب اشارے کرتا دکھائی دے رہا تھا۔
جہاں تک عمران خان کے موقف کا تعلق ہے اسکی حقانیت اور مبنی بر انصاف ہونے کے حوالے سے دو آراء نہیں ہوسکتیں۔ قیام پاکستان کے ابتدائی چند برسوں کے بعد جب ملک کی سیاسی قیادت کسی بھی قسم کی کرپشن میں کبھی ملوث نہیں رہی۔ بعد میں آہستہ آہستہ بدعنوانیوں نے جس طرح اپنی جڑیں مضبوط کیں آج انہی کی وجہ سے پاکستان مسائل کی آماجگاہ بنا ہواہے۔ تاہم اس حوالے سے عمران خان کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اختیار کئے روئیے اور حکمت عملی سے بھی اتفاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جو فیصلہ یکم نومبر کو سپریم کورٹ نے کیا ہے اس حوالے سے تو وزیر اعظم پہلے ہی عدالت سے رجوع کرنے کاعندیہ دے چکے تھے۔ مگر یہ عمران خان ہی تھے جو ملک کے کسی ادارے کو ماننے کو سرے سے تیار ہی نہیں تھے اور ہر ادارے پر جانبداری بلکہ''فروخت شدہ'' کے سے الزامات لگاتے نہیں تھکتے تھے جبکہ عدلیہ پر بھی بد اعتمادی کا اظہار کرنے میں احتیاط کا دامن تھامنے کو تیار نہیں تھے اور ایک جانب اگر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا تھا تو دوسری جانب وہ عدلیہ کو بھی دبائو میں لانے کے لئے اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کی نہ صرف دھمکیاں دے رہے تھے بلکہ اس مقصدکے لئے ملک بھر میں دورے کرکے اپنے کارکنوں کو متحرک کرتے آئے ہیں' ساتھ ہی دوسری جماعتوں کو بھی ساتھ دینے کی کوشش میں کم از کم لیگ(ق) اور علامہ طاہر القادری کے علاوہ ون مین فورس عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید کو بھی فعال بنا دیا تھا۔ جواباً حکومت نے اسلام آباد کو لاک ڈائون کی صورتحال سے بچانے کے لئے جس طرح کنٹینرز لگاکر اور پولیس' ایف سی اور رینجرز کو مختلف شہروں اور علاقوں میں لا کھڑا کیا اس سے اگرچہ خود بخود ہی پورا ملک (تقریباً) لاک ڈائون کی کیفیت سے دوچار ہو گیا تھا تاہم اس صورتحال پر جس طرح بعض سیاسی اور صحافتی حلقے معترض تھے میرا خیال ہے کہ ایک اہم اور بنیادی سوال کو قابل توجہ سمجھا ہی نہیں گیا۔ وہ یہ کہ اگر عمران خان کی دھمکیوں کے آگے حکومت سرنگوں ہو جاتی تو کل آنے والے زمانے میں کوئی بھی دوسری جماعت اور خاص طور پر انتہا پسند قوتیں اسلام آباد پر چڑھائی کرکے اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کروانے میں کامیاب ہوسکیں گی بلکہ تشدد پسند قوتیں تو باقاعدہ حملہ آور ہو کر ملک پر ہی قبضہ کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ کیا یہ صورتحال ہمارے لئے قابل قبول ہوسکتی ہے؟
یہ بھی ہے ایک طرز بغاوت ہوا کے ساتھ
ورنہ چراغ اور محبت ہوا کے ساتھ

متعلقہ خبریں