جمہوریت کی جیت

جمہوریت کی جیت

پانامہ لیکس کے مسئلے پرتحریک انصاف اور حکومت کی کشمکش ملک کے سنجیدہ حلقوں میں اضطراب کا باعث تھی۔ ملک ایسے وقت سیاسی کشمکش کی زد میں آرہا تھا جب پاکستان کے حوالے سے عالمی اور علاقائی حالات بڑی حد تک خراب تھے۔دو نومبر کو تحریک انصاف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کی دھمکی دے رکھی تھی لال حویلی جلسے کو روکنے کے نام پر تصادم اور کشمکش کا آغاز وقت سے پہلے ہی ہو گیا تھا ۔حکومت اسلام آباد کو ہر قیمت پر بند کرنے سے روکنے پر مصر تھی اور اس کی ایک جھلک پرویز خٹک کی قیادت میں آنے والے کارواں کو رات بھر روکنے کی صورت میں دیکھی گئی ۔ دوسری طرف تحریک انصاف ہر قیمت پر مارچ شروع کرنے پر اصرار کر رہی تھی ۔پانامہ جو اس سارے ہنگامے کی بنیاد تھا کئی رٹ پٹیشنز کی صورت میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی میز پر تھا عدالت نے فریقین کو طلب بھی کر رکھا تھا ۔عدالت نے ہی عمران خان کو اسلام آباد کے لاک ڈائون اور حکومت کوکریک ڈائون سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔یہ وہ وقت تھا جب پاکستان داخلی اور خارجی اعتبار سے شدید مشکلات کا شکار تھا۔پاک چین اقتصادی راہداری دشمنوں کو کھٹک رہی تھی اوراب بھی اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے امریکہ،بھارت اور افغانستان مل کر سازشیں کرنے میں مصروف ہیں ۔ایک طرف بھارت امریکہ اور افغانستان پاکستان کو اندر سے کمزور کر ر ہے ہیں تو دوسری طرف نریندر مودی کے خون خوار عزائم کھل کر سامنے آرہے تھے۔یہ وہ علاقائی اور عالمی منظر نامہ تھا جس میں پاکستان ایک خوفناک سیاسی کشمکش کی زد میں آرہا تھا۔ان حالات کا مقابلہ ایک متحد ،مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی کر سکتا تھا۔سیاسی جماعتیں اپنی اپنی انائوں کے پرچم لہرا رہی تھیں۔پاکستان کا میڈیا ریٹنگ کی دوڑ میں سیاسی کشمکش کو ہوا دے رہا تھا ۔ غیر ملکی سفارت کار اسلام آباد کے حالات کو قریب سے مانیٹر کر رہے تھے۔متحارب سیاسی کیمپ بھی اپنی اپنی پوزیشنیں اور مورچے سنبھال کر بیٹھے تھے ایسے میں ثالثی اور مفاہمت کے امکانات معدوم ہو تے جا رہے ہیں ۔ سیاسی مفاہمت کے معدوم ہوتے ہوئے امکانات میں ''عزیز ہم وطنو السلام علیکم '' کی بازگشت کانوں میں گونجتی ہوئی محسوس ہورہی تھی ۔سیاسی اختلاف حل کرنے کا بہترین فورم پارلیمنٹ اور عدلیہ جیسے ادار ے ہوتے ہیں۔ یہ اختلاف ان پیمانوں سے چھلک پڑے تو پھر فوج جیسے ادارے کو بیچ میں کودنا ہی پڑتا ہے ۔فوج کے کودنے کا سب سے زیادہ نقصان اگر کسی سیاسی جماعت کو ہو سکتا تھا وہ تحریک انصاف ہی تھی جو خود کو شیڈو حکومت سمجھ رہی ہے۔ جس نے ابھی تک اقتدار کا مزہ بھی پوری طرح نہیں چکھا۔کشیدہ صورت حال میں دونوں متحارب سیاسی کیمپوں میں سخت گیر سوچ کے عقابوں کو آگے آنے کا موقع مل رہا تھا۔ ایسے میں عدلیہ ایک بار پھر سیاسی تنازعے میں اپنا رول بڑھاتے ہوئے میدان میں کھڑی ہوگئی۔اب جمعرات کو فریقین کو یہ جواب باضابطہ طور پر عدالت میں جمع کرانا ہے ۔عدالت نے فریقین کو ٹی او آرز پر متفق ہونے کا کہا ہے بصورت دیگر عدالت خود ٹی او آرز مقرر کرے گی۔سات ماہ قبل پانامہ لیکس دنیا کے سامنے آئیں تو پاکستان میں بھی ایک ہنگامہ شروع ہوگیا۔چونکہ اس فہرست میں وزیر اعظم پاکستان کے قریبی عزیزوں کے نام تھے اس لئے اپوزیشن نے اس معاملے میں میاں نوازشریف کو بھی لپیٹ لیا ۔پیپلزپارٹی تو اس معاملے میںدو قدم آگے اور ایک قدم پیچھے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی مگر عمران خان نے اس مسئلے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ۔حکومت اور اپوزیشن نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کا پارلیمانی اور سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں کیں مگر اس میں کامیابی حاصل نہ ہوئی ۔اپوزیشن نے جو ٹی او آرز دئیے حکومت نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور حکومت نے جو موقف اپنایا اپوزیشن نے اسے تسلیم نہیں کیا ۔لڑتے بھڑتے فریقین عدالت کے پاس پہنچ گئے ۔اس کے ساتھ ہی عمران خان نے دو نومبر کو دھرنا دینے کا اعلان کیا ۔جس کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی کا گراف رفتہ رفتہ بلند ہونا شروع ہوگیا۔سات ماہ اسی کشمکش میں گزر گئے۔یہاں تک ملک میں شدید تنائو پیدا ہوگیا۔میڈیا کی پوری توجہ بھی اسی جانب مبذول ہو کر رہ گئی ۔اس دوران ڈان گیٹ سکینڈل سامنے آیا جس سے حکومت مزید دفاعی پوزیشن میں چلی گئی ۔حکومت نے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے استعفیٰ لے کر اس بحران کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی مگر ابھی تک یہ آگ پوری طرح بجھنے نہیں پائی۔عمران خان نے یہ تاثر دیتے ہوئے کہ ان کے دبائو کے نتیجے میں بیل کے سینگ عدالت کے ہاتھوں میں جکڑے گئے ہیں یوم تشکر منایا تو حکومت نے عمران خان کو یوٹرن خان کہہ کر دل کے سارے پھپھولے جلادئیے ۔سیاسی قوتوں نے اعلیٰ عدلیہ کو امپائر اور ریفری تسلیم کرکے خود سپردگی اختیار کرکے فوجی مداخلت کا امکان رد کیا۔ یوں چوہدری نثار کا یہ کہنا بجا ہے کہ یہ جمہوریت اور آئین کی جیت ہے۔تاہم اس سے حکومتی وزیر وں کا یہ فلسفہ رد ہوگیا کہ فوج اقتدار میں آنے کے لئے بے چین ہے ۔عمران خان فوجی مداخلت کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔پانامہ لیکس محض ایک فسانہ اور پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے ذہن رسا کی کارستانی ہے۔حکومت اگر وقت سے پہلے عدالت کے آگے سپر ڈالتی تو شاید دھرنوں اور احتجاج کی صورت میں درمیان کی یہ ناپسندیدہ کہانی رقم ہی نہ ہوتی۔

متعلقہ خبریں