ذمہ دار کون ہے ؟

ذمہ دار کون ہے ؟

اگرپاکستان کے حالات اور واقعات پر نظر ڈالی جائے تو بد قسمتی سے وطن عزیز کے حالات انتہائی ناگُفتہ بہ ہیں ۔ ملک میں ایسے 13کروڑ لوگ بستے ہیں جو غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ان13 کروڑ لوگوں کی آمدنی 2 ڈالر یعنی 200 روپے سے بھی کم ہے۔ وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی بہتر معیشت کو22 بین الاقوامی اداروں نے سراہا۔ مگر بات یہ ہے کہ اس وقت ملکی معیشت کو کیسے اطمینان بخش کہا سکتا ہے جہاں پرتھراور جنوبی پنجاب میں لوگ بھوک افلاس سے مر رہے ہوں یا خود کشی کر رہے ہوں۔ اس وقت 200 ممالک کی فہرست میرے سامنے ہے اس میں 130 ایسے ممالک ہیں جو1947 یا اسکے بعد دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے ہیں۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان 130 ممالک میں پاکستان اقتصادی اور سماجی اشاریوں کے لحاظ سے سب سے کمزور ملک ہے۔ حالانکہ پاکستان کے پاس جتنے قدرتی و سائل ہیں وہ بُہت کم ممالک کے پاس ہیں۔انڈو نیشیائ، اسرائیل، سائوتھ کوریا، ملائیشیاء تقریباً ایک ہی وقت میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے۔ مگران کی اچھی اور اہل لیڈر شپ کی وجہ سے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم کد ھر ہیں۔اس وقت انڈو نیشیاء کی فی کس آمدنی 12ہزار ڈالر، اسرائیل کی فی کس آمدنی 34 ہزار ڈالر، سائوتھ کوریا کی 35 ہزار ڈالر اور ملائشیاء کی 26 ہزار ڈالر جبکہ بد قسمتی سے پاکستان کی فی کس آمدنی ساڑھے تین ہزار ڈالر ہے، اور وہ بھی میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے پیسے ملا کر اور غریبوں پر تقسیم کر کے فی کس آمدنی نکالی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی تو ہم بات نہیں کرتے، جنوبی ایشیاء جہاں پر سب سے زیادہ غریب افرادرہتے ہیں یہاں پر بھی پاکستان کے اقتصادی اور سماجی اشاریے اس علاقے میں موجود سارے ممالک سے نیچے ہیں ۔ 200 ممالک کی فہرست میں سری لنکا 73 ویں پو زیشن پر( متوقع عمر75 سال) مالدیپ 104 (متوقع عمریں77 سال)، بھارت 130( متوقع اوسط عمر69 سال)، بھوٹان 132 ( متوقع عمر 70 سال)، بنگلہ دیش 142 ( متوقع عمر72 سال) اور سب سے آخر میں پاکستان , جہاں پر اوسط متوقع عمر 66 سال ہے۔پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مر بع کلومیٹر ہے مگر اسکے باوجود فی کس آمدنی 3500 ڈالرہے، جبکہ سنگا پور کا کل رقبہ 696 مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں پر فی کس آمدنی 85 ہزار ڈالر ہے ۔ اسرائیل کا کل رقبہ 20 ہزار مر بع کلومیٹر مگر فی کس آمدنی 36 ہزار ڈالر جبکہ لگزمبرگ کی فی کس آمدنی ایک لاکھ ڈالر ہے۔پاکستان بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضوں پر قرضے لئے جارہا ہے اور اس غریب ملک کے غریبوں کو مزید قرض دار کر رہے ہیں۔ 2008 ء میں پاکستان کا فی کس قرضہ 35 ہزار رو پے اور 2015 میں فی کس قرضہ ایک لاکھ اور 20 ہزار روپے تک پہنچ گیا اور لوگوں کی حالت ویسی کی ویسی ہے۔پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 80 ارب ڈالر اور ملکی مالیاتی اداروں سے جو قرضہ لیا گیا ہے وہ 16 ہزار ارب روپے ہے جو ملک کی کل آمدن کا 34 فی صد ہے ۔ بھارت کا قرضہ ملک کی مجموعی آمدن کا 20 فی صد، بنگلہ دیش کا 19 فی صد اور ایران کا قرضہ ملک کی کل آمدن کا 4 فیصد ہے۔ اُنہوں نے قرضے لیکر اُس پر ترقیاتی کام کئے جبکہ ہمارے حکمرانوں نے جو قرضہ لیا وہ انکے بیرون ممالک اکائونٹس میں چلے گئے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت پاکستان میں سالانہ 40 لاکھ نوجوان نو کریوں کے قابل ہیں مگر بد قسمتی سے موجودہ حکومت کے پاس انکو کھپانے اور انکو نو کری دلانے کے لئے کوئی پروگرام نہیں۔ جسکے نتیجے میں یہی پڑھے لکھے نوجوان دہشت گردی ، انتہا پسندی اور دوسری ملک دشمن سر گر میوں میں ملوث ہو رہے ہیں۔ آج کل یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی آبادی کی شرح پیدائش 0 فی صد ہے ۔ اگر ہماری خا رجہ پالیسی اچھی ہو تو ان نوجوانوں کو بیرون ممالک بھیج کر اربوں روپوں کا زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے مگر بد قسمتی سے ہماری ناکام خارجہ پا لیسی کی وجہ سے ہم اس مقصد کوحاصل کرنے میں ناکام ہیں۔حکمرانوں کی غلط پالیسوں کی وجہ سے سرمایہ دار اور جا گیر دار اپنے اثاثے بیچ کر دوبئی سعودی عرب یا ملائیشیاء منتقل کر رہے ہیں۔پاکستان میں دہشت گر دی اور انتہاپسندی کے علاوہ ہماری حکومتوں کی کرپشن ، اقربا پر وری اور باہر ملکوں میں پیسے منتقل کرنا سب سے اہم مسائل ہیں۔ وطن عزیز میں روزانہ 12 ارب روپے اور سالانہ 4380 ارب روپے کرپشن اور بد عنوانی کی نذر ہو رہے ہیں۔ ملکی وسائل کو لوٹ لوٹ کر دوسرے ممالک منتقل کیا جا رہا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت پاکستانی سیاست دانوں سول اور ملٹری افسر شاہی کے تقریباً 3400 ارب ڈالر بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں۔اگر ہم تباہی اور بر بادی پر غور کر یں توان میں سیاست دانوں کے ساتھ کچھ مو قع پرست جنرل بھی شامل تھے۔ ملک کو ٹھیک کرنے کیلئے تمام پاکستانیوں خصوصاً سیاستدانوں کو اپنی ذات سے بالا تر ہوکر ملک کے مفاد میں اقدامات کرنے ہوں گے ۔ 

متعلقہ خبریں